دلچسپ خبریںسرورق

گوبھی سے بچے کی جنس معلوم کرنے کا انوکھا ٹرینڈ: حقیقت یا محض تفریح؟

حمل میں بچے کی جنس جاننے کا نیا ٹرینڈ: گوبھی ٹیسٹ

حمل میں بچے کی جنس جاننے کا نیا ٹرینڈ: گوبھی ٹیسٹ

حمل ہر عورت کے لیے ایک خاص اور جذباتی مرحلہ ہوتا ہے، جس میں جسمانی اور ذہنی تبدیلیاں روزمرہ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ اس دوران سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہی ہوتا ہے کہ پیٹ میں پلنے والا بچہ لڑکا ہے یا لڑکی؟ ماضی میں اس سوال کا جواب صرف سونار یا الٹراساؤنڈ کے ذریعے ہی ممکن تھا، لیکن آج کل سوشل میڈیا پر ایک نیا ٹرینڈ "گوبھی جینڈر ٹیسٹ” وائرل ہو رہا ہے۔


کیا ہے لیف گارڈن جینڈر ٹیسٹ؟

یہ ٹرینڈ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سرخ گوبھی کے پانی سے آپ بچے کی جنس معلوم کر سکتے ہیں۔ اس ٹیسٹ کو "لیف گارڈن جینڈر ٹیسٹ” کہا جاتا ہے۔ اس میں حاملہ عورت کے پیشاب کو سرخ گوبھی کے پانی میں ملا کر اس کے رنگ کو جانچا جاتا ہے۔


ٹیسٹ کا طریقہ: گوبھی سے جنس کی پہچان

  1. سرخ گوبھی کو کاٹ کر ابالیں اور اس کا پانی نکال لیں۔

  2. پانی کو ٹھنڈا ہونے دیں۔

  3. حاملہ عورت کا پیشاب لے کر اس میں چند قطرے شامل کریں۔

  4. اگر پانی کا رنگ سرخ یا گلابی ہو جائے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ بچہ لڑکا ہوگا۔

  5. اگر رنگ نیلا یا جامنی ہو تو اسے لڑکی کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔


سائنسی نقطۂ نظر: کیا یہ واقعی ممکن ہے؟

یہ طریقہ کار سائنسی بنیاد پر درست نہیں مانا جاتا۔ دراصل، سرخ گوبھی میں پی ایچ انڈیکیٹر موجود ہوتا ہے، جو تیزابی یا الکلائن پیشاب کے ساتھ اپنا رنگ تبدیل کرتا ہے۔ چونکہ ہر انسان کے پیشاب کا پی ایچ مختلف ہوتا ہے، اس لیے رنگ میں تبدیلی کا تعلق جنس کے بجائے پی ایچ لیول سے ہوتا ہے۔ اس لیے اس تجربے کی کوئی سائنسی توثیق موجود نہیں ہے۔


لوگ کیوں کر رہے ہیں یہ تجربہ؟

یہ ٹرینڈ زیادہ تر تفریح اور تجسس کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ کئی جوڑے اسے ایک دلچسپ صنفی انکشاف (gender reveal) کے طور پر استعمال کرتے ہیں، تاکہ یادگار لمحات محفوظ کر سکیں۔ تاہم، ڈاکٹرز اور ماہرین اس پر اعتبار نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور درست معلومات کے لیے میڈیکل ذرائع کا انتخاب ضروری سمجھتے ہیں۔

سرخ گوبھی جینڈر ٹیسٹ ایک دلچسپ گھریلو تجربہ ہو سکتا ہے، لیکن اسے حقیقت نہ سمجھا جائے۔ حمل میں بچے کی جنس جاننے کا درست اور سائنسی طریقہ صرف طبی ٹیسٹ ہی ہو سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر وائرل رجحانات کا حصہ بننا برا نہیں، مگر فیصلہ ہمیشہ درست علم اور تحقیق کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button