جسمانی چونا ،کیلشیم: افادیت و نقصانات-ڈاکٹر امۃ البریرہ فہمیدہ سفیان دہلی
کیلشیم کیوں ضروری ہے
کیلشیم سے بھرپور غذائیں جسم میں کیلشیم کی مقدار کو بڑھا سکتی ہیں۔ لیکن اس کی زیادتی صحت کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے۔عام طور پر تمام غذائی اجزاء جسم کے لئے ضروری ہیں.دوسری جانب اگر جسم میں ان غذائی اجزاء کی کمی ہو جائے تو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آج ہم کیلشیم کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ کیلشیم ہمارے جسم کے لیے انتہائی مفید عناصر میں سے ایک ہے۔
کیلشیم نہ صرف صحت کے لیے اچھا ہے۔ بلکہ یہ ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں بھی مفید ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ جاننا ضروری ہے کہ ہمارے جسم کو کیلشیم کی کتنی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کی زیادتی سے ہمارے جسم کو کیا نقصان ہو سکتا ہے۔
کیلشیم کیوں ضروری ہے
اگر جسم میں کیلشیم وافر مقدار میں موجود ہو تو اس سے نہ صرف ہڈیاں مضبوط رہتی ہیں بلکہ انسان کو گھٹنوں اور جوڑوں کے درد سے بھی نجات مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کیلشیم پٹھوں کو صحت مند رکھنے، جسم میں خون کی گردش، متوازن وزن برقرار رکھنے، خون جمنے سے روکنے، دل کی دھڑکن کو نارمل رکھنے وغیرہ کے لیے ضروری ہے۔
کتنا استعمال درست ہے
کیلشیم کی مقدار عمر پر منحصر ہے۔ تاہم یہ خواتین اور مردوں میں مختلف ہو سکتا ہے، اس سے متعلق ایک تحقیق سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے
کہ کس عمر کے لوگوں کو کتنا کیلشیم لینا چاہیے۔ تحقیق کے مطابق اگر ہم 9 سے 18 سال کی عمر کے افراد کی بات کریں تو مرد و خواتین کو 1300mg کیلشیم لینا چاہیے۔ جبکہ 19 سے 50 سال کے لوگوں کو 1000 ملی گرام کیلشیم استعمال کرنا چاہیے۔
کیلشیم کی زیادتی سے نقصانات
کسی بھی چیز کا بہت زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ کیلشیم کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔ اگر جسم میں کیلشیم کی زیادتی ہو جائے تو صحت کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
1- اگر کوئی شخص زیادہ کیلشیم کھاتا ہے تو اسے دل کی بیماری ہو سکتی ہے یا اس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
2- اگر جسم میں کیلشیم کی زیادتی ہو تو انسان کو پتھری کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر جن لوگوں کو پہلے سے پتھری ہے انہیں کیلشیم کی زیادتی کی وجہ سے بہت تکلیف دہ حالت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
3 – جو لوگ تھائرائڈ کی دوائی لے رہے ہیں وہ کیلشیم کو کم مقدار میں استعمال کریں۔ بصورت دیگر یہ تھائرائڈ کی دوا کے اثر کو کم کر سکتا ہے۔
4- اگر جسم میں کیلشیم کی زیادتی ہو جائے تو اس سے جسم میں آئرن اور زنک جیسے ضروری معدنیات کی کمی ہو سکتی ہے۔
5 – کیلشیم کی زیادتی وزن پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
6 – کیلشیم کی زیادتی پیٹ سے متعلق مسائل جیسے پیٹ پھولنا، قبض وغیرہ کا باعث بن سکتی ہے۔
کیلشیم کا حصول
1- توفو کے استعمال سے جسم میں کیلشیم کی کمی نہیں ہوتی۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ ٹوفو دیکھنے میں پنیر جیسا ہی ہوتا ہے حالانکہ اسے سویا بین کے دودھ سے بنایا جاتا ہے۔دہی کے اندر کیلشیم بھی پایا جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں دہی کو کیلشیم سے بھرپور غذا کہا جا سکتا ہے۔تاہم دہی کے اندر وٹامن اے، وٹامن ڈی، پروٹین، آیوڈین وغیرہ جیسے غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔سنترے میں وٹامن سی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ کیلشیم کا ایک اچھا ذریعہ بھی ہے۔ ایسے میں اگر اسے اپنی خوراک میں شامل کر لیا جائے تو قوت مدافعت بھی مضبوط ہو سکتی ہے۔
2– خشک میوہ جات کو کیلشیم کا بھی اچھا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں آپ خشک میوہ جات کو صبح و شام اسنیکس کے طور پر کھا سکتے ہیں۔
3- جسم میں کیلشیم کی مقدار بھی ہری سبزیوں کے استعمال سے پوری کی جاسکتی ہے۔ ہری سبزیاں کیلشیم سے بھرپور غذا کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ پالک، پودینہ، میتھی وغیرہ میں وٹامن کے، آئرن، کیلشیم وغیرہ جیسے غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔
کیلشیم کو کیسے بڑھائیں
اگر جسم میں کیلشیم Calcium کی کمی ہے اور آپ خوراک کے ذریعے جسم میں کیلشیم بڑھانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے دودھ، دہی اور پنیر اچھے ذرائع ہیں۔ دودھ کی مصنوعات ہمارے جسم میں کیلشیم کی مقدار کو بڑھا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ سبز پتوں والی سبزیاں، مچھلی، سویا اور توفو بھی کیلشیم کے بڑے ذرائع میں سے ایک ہیں۔
مذکورہ بالا نکات سے پتہ چلتا ہے کہ کیلشیم ہمارے جسم کے لیے انتہائی مفید غذائی اجزاء میں سے ایک ہے۔ لیکن اگر جسم میں کیلشیم کی زیادتی ہو جائے تو اس سے صحت کو بہت زیادہ نقصانات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں پہلے کیلشیم کی محدود مقدار کو جاننا ضروری ہے۔
حاملہ خواتین یا دودھ پلانے والی خواتین کو اپنی خوراک میں زیادہ کیلشیم شامل کرنے سے پہلے ایک بار ماہر سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔ بچے کی خوراک میں کیلشیم کی مقدار بھی محدود ہونی چاہیے۔ اگر آپ کسی خاص غذا پر عمل پیرا ہیں یا کسی سنگین بیماری میں مبتلا ہیں تو اپنی خوراک میں کیلشیم شامل کرنے سے پہلے ایک بار کسی ماہر سے ضرور مشورہ کرلیں۔
موٹا ہونے کیلئےاسگندھ ناگوری اور بدھارا ہموزن سفوف بنالیں اور ان کے ہم وزن مصری ملالیں، چھ گرام روزانہ صبح وشام دودھ سے کھاتے رہیں ، ایک دوماہ میں دبلے پتلے انسان موٹے تازے بن جاتے ہیں ، اس کے علاوہ جریان، احتلام، سرعت انزال جیسے امراض بھی اس سے دور ہوجاتے ہیں، کمر درد اور جوڑوں کے درد بھی دور ہوجاتے ہیں اس کی خوبی یہ ہے کہ یہ دوا قبض کشا ہے۔ |



