شبِ برات کی رات پٹاخوں پر پابندی، کلکتہ ہائی کورٹ کا حکم
رات 10 بجے کے بعد کسی بھی قسم کے پٹاخے جلانے کی اجازت نہیں ہوگی
کولکتہ 02 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کلکتہ ہائی کورٹ نے شبِ برات کی رات پٹاخوں کے بے قابو استعمال کو روکنے کے لیے اہم حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک کسی بھی قسم کے پٹاخے نہیں جلائے جا سکیں گے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق یہ حکم پیر کو چیف جسٹس سوجوئے پال اور جسٹس پارٹھ سارتھی سین پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جاری کیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ پٹاخوں کا استعمال مغربی بنگال آلودگی کنٹرول بورڈ کے ضابطوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں پولیس کو ذمہ دار افراد کے خلاف مناسب کارروائی کا اختیار ہوگا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق اس سال کیلنڈر کے تحت شبِ برات 4 فروری کو منائی جائے گی۔ عرضی میں کہا گیا کہ کولکاتہ کے مختلف علاقوں میں شبِ برات کے دن اور اس سے پہلے اور بعد کئی دنوں تک تیز آواز والے پٹاخوں کا بے تحاشہ استعمال ہوتا ہے اور اس پر کوئی مؤثر کنٹرول نظر نہیں آتا، حتیٰ کہ پوری رات آتش بازی جاری رہتی ہے۔
عرضی گزار نے عدالت کو بتایا کہ قرآنِ پاک میں شبِ برات کو پٹاخوں کے ذریعے منانے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ مزید یہ کہ ریاست میں کالی پوجا، کرسمس اور چھٹھ پوجا کے دوران پولیس نے پٹاخوں کے استعمال کو محدود رکھا تھا اور مخصوص اوقات میں صرف ماحول دوست پٹاخوں کی اجازت دی گئی تھی۔
عدالت کے سامنے دائر مفادِ عامہ کی عرضی میں شگفتہ سلیمان نے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ شبِ برات کے حوالے سے واضح عدالتی حکم نہ ہونے کی وجہ سے پوری رات شور والے پٹاخوں کا بے قابو استعمال ہوتا ہے۔ اسی عرضی کی سماعت کے بعد عدالت نے رات 10 بجے کے بعد مکمل پابندی کا حکم جاری کیا۔
عرضی گزار نے یہ بھی نشاندہی کی کہ گزشتہ برس اس وقت کے چیف جسٹس ٹی ایس سیواگنانم کی بنچ نے اسی نوعیت کا حکم دیا تھا، مگر پارک اسٹریٹ اور رپن اسٹریٹ علاقوں میں اس پر عمل نہیں ہوا۔ نتیجتاً پٹاخوں کے شور سے بیمار افراد، بزرگوں، بچوں اور پالتو جانوروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔



