تلنگانہ کی خبریں

’ بول ! تیرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے …؟ ‘

حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کیا کوئی 82 سالہ ضعیف شخص اپنی 78 سالہ اہلیہ کو جہیز کیلئے ہراساں کرسکتا ہے؟۔ عام ذہن کے اعتبار سے اس سوال کا جواب نفی میں ہوگا لیکن اُتر پردیش کے کانپور میں ایک خاتون نے جو خود 78 سال کی ہے اپنے 82 سالہ شوہر کے خلاف جہیز ہراسانی کا معاملہ درج کرایا حالانکہ وہ شخص سہارے کے بغیر چلنے سے قاصر ہے۔

پولیس خود اس بات پر اُلجھن کا شکار ہے کہ 82 سالہ شخص کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ عام طور پر خاندانی تنازعات میں جہیز ہراسانی کے مقدمات درج کئے جاتے ہیں۔ کانپور کے چکیری علاقہ میں گنیش نارائن شکلاء اور دیگر 6 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اس ضعیف العمر جوڑے کے بڑے فرزند رجنیش کا کہنا ہے کہ ارکان خاندان کا والدہ کے ساتھ سلوک تو اچھا ہے لیکن بعض رشتہ داروں کے دباؤ میں پولیس میں شکایت کی گئی۔ چلنے پھرنے سے قاصر 82 سالہ شخص خود حیران ہے کہ آخر اس نے کب اپنی بوڑھی بیوی کو جہیز کیلئے مار پیٹ کی۔

ایڈوکیٹ شیوندر کمار پانڈے کا کہنا ہے کہ ڈاوری قانون کا زیادہ تر غلط استعمال ہورہا ہے۔پولیس ضعیف جوڑے کو بلاکر بات کرنے کے موقف میں نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ پولیس کو خود تحقیقات کیلئے گھر جانا پڑے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button