بین الاقوامی خبریں

کیا چین اسرائیل حماس جنگ بندی اور امن مذاکرات میں کامیاب ہوسکتا ہے؟

صدر بائیڈن کاامریکہ کے نشریاتی ادارے ’سی بی ایس‘ کو دیا گیا انٹرویو اتوار کو نشر کیا گیا۔

بیجنگ، 17اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے اپنے اتوار کے نشریے میں بتایا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے تنازعے میں جنگ بندی اور امن مذاکرات کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے چین کے ایلچی, چائی جون, اگلے ہفتے متعلقہ ممالک کا دورہ کریں گے۔ تاہم اس بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔سی سی ٹی وی کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں چین کے ایلچی نے کہا کہ چین کا یہ موقف ہے کہ طاقت کبھی بھی مسائل کو حل کرنے کا راستہ نہیں ہے۔ اور تشدد کا جواب تشدد سے دینا صرف انتقام کے ایک شیطانی سلسلے کو بڑھاوا دیتا ہے اور سیاسی حل کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی تصفیے کے لیے ضروری حالات پیدا کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ تشدد کو جلد از جلد ختم کیا جائے اور ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔

چائی نے کہا کہ وہ خطے کے اپنے دورے میں تمام فریقوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے۔اسی اثنا میں امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل اگر غزہ پر ایک بار پھر قابض ہوتا ہے تو یہ ایک غلطی ہو گی۔صدر بائیڈن کاامریکہ کے نشریاتی ادارے ’سی بی ایس‘ کو دیا گیا انٹرویو اتوار کو نشر کیا گیا۔ خبر رساں کے مطابق صدر بائیڈن کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ غزہ میں کیا ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس اور اس کے شدت پسند عناصر غزہ کے تمام لوگوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔ان کے بقول اسی لیے اسرائیل کی یہ غلطی ہو گی کہ وہ دوبارہ غزہ پر قابض ہو۔اس سے قبل ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی ختم کرانے اور سفارتی تعلقات کو بحال کرنے کے سلسلے میں چین کی ثالثی کامیاب رہی ہے۔کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چینی سفارت کار کے مشرق وسطیٰ کے ممکنہ دورے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چین وہی کچھ کرر ہا ہے جو اس کے خیال میں عالمی طاقتوں کو بڑے عالمی تنازعات کے دوران کرنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button