حکیم ڈاکٹرمحمد فاروق اعظم حبان قاسمی صاحبزادہ ماہر نباض مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی ایم ڈی رحیمی شفا خانہ بنگلور
گلے میں دو غدود ہوتے ہیں جن میں طرح طرح کے ہارمون ہوتے ہیں یہ دوسرے غدو د درقیہ سے ملکر کام کرتے ہیں، یہ جسم میں آیوڈین کی مقدار کو برابر رکھتے ہیں آج ہندوستان کے ہرآیوڈین کی کمی وزیادتی پر غدود بڑھ جاتے ہیں، جسے گلا پھولنا یاگوئیٹر کہتے ہیں، یہ مرض علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
علامات مرض: یہ عورتوں میں زیادہ تعداد میں ہوتا ہے اور زیادہ تر چالیس سال سے اوپر کی عورتوں میں دیکھا گیا ہے شروعات میں اس مرض کا پتہ نہیں لگ پاتا، ابتداء میں حیض کے ایام میں گڑبڑی پیدا ہوجاتی ہے کھانے اور سانس لینے میں پریشانی ہوتی ہے، دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے۔
پسینہ زیادہ آتا ہے اور جب یہ مرض بڑھ جاتا ہے تو دوسری علامت جو کینسر میں ہوتی ہیں نظر آنے لگتی ہیں گلے کی جانچ کرنے پر ایک طرف یادونوں طرف غدود بہت زیادہ بڑھا ہوا محسوس ہوتا ہے کھانے یاپینے کے وقت یہ اوپر کی طرف متحرک نظر آتا ہے۔
پھیلاؤ: اس کا پھیلاؤ غدود لمفاویہ اور اس کے ارد گرد میں ہوتا ہے خون کے ذریعہ دوسری جگہوں پر بھی پھیل جاتا ہے۔
نتیجہ: مخصوص ایکسرے تھائی رائیڈ لمفوگرافی اور تھائی رائڈ اسکیننگ کے ذریعہ یابایوپسی کے ذریعہ کینسر کا پتہ لگایا جاتا ہے۔
علاج: اگر ابتداء میں ہی مرض کا پتہ لگ جائے تو آپریشن کے ذریعہ گلے کے غدود کو نکال دیا جاتا ہے اور مریض پوری طرح سے نجات پالیتا ہے اگر اس کا پھیلاؤ آس پاس کے غدود میں ہوگیا ہے تو آپریشن کے بعد اس کی سکائی شعاعوں کے ذریعہ کی جاتی ہے اگر اس کا پھیلاؤ پھیپھڑوں اور ہڈیوں کے علاوہ جسم کے دوسرے حصوں پر ہو تو کیموتھریپی کے ذریعہ اس کا علاج کیا جاتا ہے۔
حالانکہ کیمو کوئی حتمی علاج نہیں ہے لیکن اس کو اس قدر پروان چڑھا دیا گیا ہے کہ آج ہر مریض کیمو کو ہی اصل علاج سمجھنے لگا ہے جبکہ دواؤں سے بھی اس کو کم کیا جاسکتا ہے۔ رحیمی شفاخانہ بنگلور ودہلی میں بحمد اللہ تعالیٰ اس کے لئے مجرب ادویات موجود ہیں۔
ضروری ہدایات: سن شباب یاحیض کے ابتدائی دور میں یہ غدود بڑھ جاتے ہیں اسی طرح بوقت حمل اور جب عورتیں بچوں کو دودھ پلاتی ہیں تب اس غدود کی جانچ اور اسکیننگ ضرور کرانا چاہئے، ہرتیسرے ماہ ڈاکٹری جانچ کروالینے سے کینسر کا پتہ لگ جاتا ہے جو کہ بہت ضروری ہے۔
جلد کا کینسر: یہ جسم کے کسی بھی حصے میں ہوسکتا ہے زیادہ تر کھلے حصوں پر دیکھا گیا ہے۔ ان کے مخصوص وجوہات میں سے ایک سورج کی شعاعوں اور کیمیاوی اشیاء کا استعمال بھی ہے۔ کسی بھی حصے پر جلنے کے بعد جو گانٹھ بن جاتی ہے اس جگہ پر کینسر ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ لگاتار رگڑ کی وجہ سے اس جگہ پر زیادہ کینسر پنپتا دیکھا گیا ہے۔
مِلوں کی چمنیوں کو صاف کرنے والے مزدوروں کے پیٹ کی جلد میں کشمیری سردیوں میں اپنے جسم کو گرم رکھنے کے لئے کنگا ری باندھے رہتے ہیں وہاں پر بھی کینسر زیادہ پایا جاتا ہے۔
علامات مرض: ابتداء میں یہ چھوٹے زخم کی شکل میں دکھائی دیتا ہے بعد میں یہ گوبھی کے پھول کی طرح ہوجاتا ہے اور لمف ویسلس سے غدود لمفاویہ تک پھیل جاتا ہے۔
علاج: اس مرض کا علاج آپریشن اور شعاؤں (Radio- Therapy) کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔
ضروری ہدایات: تیز دھوپ میں کام کرنے والوں کو وقتاً فوقتاً ڈاکٹر سے مشورہ کرتے رہنا چاہئے جلنے کے بعد جو کیلوئڈ (گانٹھ) بن جاتی ہے اسے بھی ڈاکٹر کو دکھاتے رہنا چاہئے۔
بچوں میں پایا جانے والا کینسر: بچوں میں سب سے زیادہ پایا جانے والا کینسر آنکھ کا کینسر ہے جسے ریٹینوبلا سٹوما کہتے ہیں اس کے بعد لوڈنگ سارکومہ لمفوما، بلپس ٹیومر ہوتا ہے بچوں میں منھ کا کینسر بھی دیکھا گیا ہے۔
Ratino Blastoma یہ عام طور سے چار سال کے بچوں میں پایا جاتا ہے یہ مرض آنکھ کے پچھلے پردے پر ہوتا ہے پہلے زخم کی طرح ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ بڑھ جاتا ہے، بچے کو ابتداء میں ہرچیز دوہری دکھائی دیتی ہے اور بعد میں آنکھوں کی روشنی غائب ہوجاتی ہے یہ ایک یادونوں آنکھ میں ہوسکتا ہے والدین کو چاہئے کہ اگر بچہ کم بینائی کی شکایت کرتا ہے تو فوراً ڈاکٹری مشورہ لیں، ابتداء میں اس کا علاج آپریشن کے ذریعہ ہوجاتا ہے مگر جب یہ بڑھ جاتا ہے تو شعاؤں کے ذریعہ علاج کیا جاتا ہے۔
لمفومہ: یہ مرض چار سال کے بعد کسی بھی عمر میں ہوجاتا ہے، اس میں سب سے پہلے بخار ہوجاتا ہے اور جسم میں کھجلی ہوتی ہے، بھوک نہیں لگتی اور بچہ کمزور ہوجاتا ہے، گردوں، پیٹ اور ان پر گلٹھیاں پڑجاتی ہیں اس کی علامت T.B. ملتی ہے، اکثر ڈاکٹر T.B. سمجھ کر علاج کرتے رہتے ہیں اور مریض کو کوئی فائدہ نہیں پہونچتا، اگر ایسا ہو تو گلٹھیوں کی بایوپسی کرانا چاہئے جس سے لمفومہ کا پتہ لگ جاتا ہے۔
علاج: اس کا علاج دواؤں اور آپریشن کے ذریعہ ہوتا ہے جو کہ مرض کی حالت پر موقوف ہوتا ہے پہلے درجہ میں گردن یاران کی گلٹھیاں صرف ایک ہی طرف بڑھتی ہیں اس میں آپریشن کے ذریعہ غدود لمفاویہ نکال دیا جاتا ہے۔
دوسرے درجہ میں سینے کے اوپر نیچے دونوں طرف گلٹھیوں کو متاثر کرتا ہے اس کے بعد یہ جگر اور تلی کو بھی متاثر کرلیتا ہے۔ دوسرے درجہ میں اس کا علاج شعاؤں کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔
فقیری نسخہ: بہت سارے احباب رحیمی شفاخانہ میں میرے والد محترم بڑے حکیم مولانا محمد ادریس حبان رحیمی حفظہ اللہ سے معلوم کرتے ہیں کہ حکیم صاحب آپ کوئی ایسی دوا بتلائیں جس سے کینسر لاحق نہ ہو۔ کچھ خاندانوں میں کینسر موروثی ہوتا ہے ان کو والد محترم بتلاتے ہیں کہ حفظ تاتقدم کے طور پر ورزانہ سبزی اور سالن میں ایک چنے کے برابر دارچینی کا سفوف ڈال کر کھالیں ان شاء اللہ اللہ تعالیٰ اس موذی مرض سے حفاظت فرمائیں گے۔ بے حدمجرب نسخہ ہے۔
Raheemi Shifa Khana(Ayurvedic & Unanic Clinic)#248, 6th Cross, Gangondanahalli Main Road,Near Chandra Layout, Bangalore-560039
Phone : 080-23180000/23397836
Mobile no 9343712908



