چنڈی گڑھ، 22اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پنجاب کے ڈپٹی سی ایم سکھ جندر سنگھ رندھاوا نے قائم مقام ڈی جی پی اقبال پریت سہوتا کو کیپٹن امریندر سنگھ کی پاک خاتون دوست اور پاک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے تعلق کی تحقیقات کا حکم دیاہے۔
رندھاوا نے کہا کہ کیپٹن امریندر سنگھ کو بار بار متنبہ کئے جانے باوجود ان کی پاکستانی خاتون دوست ساڑھے چار سال سرکاری کوٹھی میں مقیم رہیں ۔ جالندھر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی سی ایم رندھاوا نے کہا کہ کیپٹن کو کیسے پتہ چلا کہ پنجاب آئی ایس آئی کے خطرے میں ہے۔اس سے شبہ ہوتا ہے کہ کوئی انہیں کچھ اطلاعات فراہم کر رہا ہے ۔
رندھاوا نے ڈی جی پی اقبال پریت سنگھ سہوتا کو اس کی باریک بینی سے تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹن امریندر سنگھ نے ای ڈی کیس کا سامنا کرنے اور پاکستانی شہری کو پناہ دینے کے بعد بی جے پی سے ہاتھ ملایا ہے۔پنجاب آرمڈ پولیس کمپلیکس جالندھر میں منعقدہ پروگرام میں انہوں نے ڈی جی پی سے کہا کہ شہید کے اہل خانہ پولیس آفس نہ جائیں۔
ہاتھ جوڑ کر کلرکوں کے سامنے کھڑے نہ ہوں۔ ایسے انتظامات کیے جائیں کہ انہیں اپنی فائلوں کے ساتھ مختلف دفاتر کے چکر لگانا نہ پڑے۔ اگر ممکن ہو تو ہر ضلع میں ایک افسر مقرر کریں، جو شہید کے اہل خانہ کے گھر جاکر ان کے مسائل سنیں اور ان مسائل کو دور کرنے کی کوشش کریں۔
پنجاب میں بین الاقوامی سرحد سے بارڈر سیکورٹی فورس کی رینج 50 کلومیٹر تک بڑھانے پر نائب وزیراعلیٰ رندھاوا نے کہا کہ پنجاب پولیس بی ایس ایف سے زیادہ کام کرتی ہے۔ پنجاب پولیس نے دہشت گردی ختم کی ہے ، اس لیے پنجاب پولیس کی طرف انگشت نمائی نہیں کی جاسکتی ۔



