خوش رنگ ترش پھل کمرکھ ✍️حکیم محمد عثمان حبان دلدارؔ قاسمی, رحیمی شفا خانہ بنگلور
مختلف نام: ہندی کمرھ ،کمر نگ، سنسکرت کرم رنگ، کرم رک، گجراتی کام رانگا، کمارک، بنگالی کام رنگ، مراٹھی کرمر ،کرمل، لاطینی میں ایوی روہا کارم بولا (Averrhoa Carambola) اور انگریزی میں کیرم بول ایپل (Carambole Apple)کہتے ہیں۔
شناخت: کمرکھ میٹھا و کھٹا، میٹھا دو قسم کا پھل ہوتا ہے۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ باہر کے ملک سے ہندوستان لایا گیا ہے۔ مگر یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ قدیم وقتوں سے آیوروید گرنتھوں میں اس کا کرم رنگ سے ذکر آتا ہے۔ کرمرک لفظ و کرم رک وغیرہ اس کے قدیمی نام ہیں۔ سارے ہندوستان میں گرم صوبوں میں خاص طور پر باغوں میں بہت پایا جاتا ہے۔
اس کا درخت چھوٹا درمیانہ قد کا ہوتا ہے اور شاخوں پر پتے دو انگل لمبے اور ایک سوا انگل چوڑے کچھ نوکیلے لگتے ہیں۔
پھول برسات کے آخری دنوں میں چھوٹے چھوٹے لالی لئے ہوئے سفید لگتے ہیں۔ پھولوں کے جھڑ جانے پر سرد موسم میں یا پھانکوں والے ہرے رنگ کے کچھ لمبے اور موٹے سے پھل لگتے ہیں۔ جو بہت ہی ترش ہوتے ہیں۔ پوہ، ماگھ میں یہ پھل پک کر تیار ہوجاتے ہیں اور یہ ر س سے بھر جاتے ہیں۔بیج پھل کے درمیان میں لمبے اور چپٹے رہتے ہیں۔
پکا کمر کھ ،میٹھا، ٹھنڈا، گرمی دور کرنے والا، خوش ذائقہ ہوتا ہے اور خون کی خرابی کو دور کرتا ہے۔ اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے 40 گرام میں 600 گرام پانی ملا کر پکائیں، آدھا حصہ باقی رہنے پر چھان کر اس میں ضرورت کے مطابق نمک ،چینی،پودینہ ،الائچی،لونگ وغیرہ پیس کر تھوڑا تھوڑا پلاتے ہیں یا اس کا شربت بنا کر کام میں لایا جاتا ہے۔
اس طرح یہ جگر کی گرمی ،یرقان وغیرہ میں دیا جاتا ہے۔ یہ پیاس بجھاتا ہے۔ صفراوی قے وگرمی کے دستوں کے لئے پھل کا رس نمک وغیرہ ڈال کر پلاتے ہیں۔عورتوں میں دودھ کو بڑھاتا ہے۔ اس کی چھال ذیابیطس کا علاج ہے۔
پھل کھانے کا طریقہ: پکے پھل کے اندر تھوڑا سا پان میں کھانے والا چو نا بھر کر ایک دو گھنٹے رہنے دیا جائے پھر اسے کاٹ کر کھایا جائے تو وہ بڑا ہی خوشذائقہ ہو جاتا ہے اور اس کی کڑواہٹ محسوس نہیں ہوتی۔ اس کے پھلوں کا اچار، شربت،مربہ ، چٹنی وغیرہ بناتے ہیں۔ اگر اسے دوسرے ساگ کے ساتھ ملا کر پکا کر کھایا جائے تو زیادہ خوش ذائقہ ہو جاتا ہے۔ اس کے پھل کے رس سے کپڑوں کو دھونے سے داغ، دھبے وغیرہ دور ہو کر وہ صاف ہو جاتے ہیں۔ادویات میں اس کے پھول پتے، جڑ و بیج کی بجائے پھلوں کا ہی زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔
ماڈرن تحقیقات : اس میں ایسڈ، پوٹاشیم، اکزلٹ زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔بیجوں میں ہر گے لائن نامی چھوٹا کھار بھی پایا جاتا ہے۔
مزاج: پکا سرد و تر۔
مقدار خوراک: بیج ایک سے چار گرام، پکے پھل بقدر ہضم۔
فوائد: خونی بواسیر، انیمیا، سکر وی کے لئے مفید ہے۔ اس کے استعمال سے خون کی خرابی دور ہوجاتی ہے۔قابض ہے۔ دوا کی صورت میں اس کا شربت بھی بنا کر استعمال کیا جا تا ہے۔
کمر کھ کے آسان مجربات
زیادتیٔ پیاس: پکے کمر کھ کا رس پینے سے پیاس دور ہوجاتی ہے۔
انماد: گرمی کے امراض میں کمر کھ کے پھلوں کا شربت بنا کر دینے سے یہ تکالیف دور ہوجاتی ہیں۔
گرمی کا بخار: 45گرام پکے ہوئے کمر کھ پھل کے ٹکڑوں میں 600گرام پانی ملا کر پکائیں۔ جب آدھا حصہ باقی رہے تو چھان کر اس میں حسب ضرورت نمک یا چینی ملا کر تھوڑا تھوڑا پلانے سے گرمی کے بخار میں فائدہ ہو جاتا ہے۔ یہ علاج ہر قسم کے درد کو بھی دور کرتا ہے۔
دودھ میں کمی: چھاتیوں میں دودھ کی کمی ہو تو پکا ہوا کمر کھ پھل کھانے سے ماں کی چھاتیوں میں دودھ کی بڑ ھوتری ہو جاتی ہے۔
پیٹ درد: کمرکھ کے بیج کا سفوف بنالیں۔ یہ سفوف ایک گرام کی مقدار میں پکے پھل کے ساتھ استعمال کرائیں۔ گرمی کے پیٹ درد و یرقان کے عارضہ میں مفید ہے۔
کمرکھ آسو: کمرکھ کی چھال 1/2 کلو،ہلدی25 گرام موٹا موٹا کوٹ کر 16کلو پانی میں پکائیں۔1/2حصہ باقی رہنے پر چھان لیں اور صاف چکنے گھڑے میں ڈال دیں۔ٹھنڈا ہونے پر اس میں1/2 کلو شہد اور125 گرام ڈھاک کے پھول سفوف بنا کر ڈال دیں۔پھر گھڑے کا منہ بند کر کے30 دن رکھنے کے بعد چھان کر کام میں لائیں۔
خوراک: 10گرام سے20 گرام تک تازہ پانی کے ساتھ دیں۔ ذیابیطس و زیادتی پیشاب میں مفید ہے۔میٹھی چیزوں سے پرہیز و ایک میل کی سیر لازمی ہے۔ ٭



