مومن فیاض احمد
ڈیری ٹیکنالوجی ایک دلچسپ اور منفرد شعبہ ہے ۔ اس شعبے میں ہمارا ملک پچھلے تین دہائیوں سے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ہندستان کا اس شعبے میں سب سے زیادہ مقدار میں دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی اشیا تیار کرنے والے ملکوں میں شمار ہوتا ہے ۔ انڈیا کے ڈیولمپنٹ میں ڈیری ٹیکنالوجی کا کردار بہت اہم ہے ۔
ملک میں تقریبا 1500سے زائد مشنری ڑجسٹرڈ ڈیری پلانٹ ہیں اورروزانہ تقریبا 140ملین لیٹر کی پیداوار ہوتی ہے ۔ 180سے زائد مشنری مینو فیکچرنگ کرتی ہے ۔ ان کے ساتھ میں ہر سال 750 ڈیری ٹیکنالوجسٹ نکلتے ہیں ۔ تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس شعبے کی مانگ ہے ۔بھارت سے کئی ملکوں میں ڈیر ی ٹیکنالوجی سے متعلق پروفیشنلش کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔اس دوران کھیتی ،کسانوں کے کام میں سائنس و ٹیکنالوجی نے اس کو اور بھی کارآمد بنا دیا ہے۔
جس کی وجہ سے کئی چیلنج اور ذمہ داریوں کا آسانی سے سامنا کیا جا رہا ہے۔اس بات سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بھار ت امریکہ کے بعد دنیا کادوسرا سب سے زیادہ دودھ اور اس سے بنی اشیا کی پیداوار کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔
ریزرو بینک آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں ڈیری انڈسٹری ۱۳ سے ۱۵ فیصد سالانہ بڑھ رہی ہے اور یہ بڑھوتری۲۱۔۲۰۲۰ء تک جاری رہے گی۔ آئندہ چار سے پانچ برسوں میں ویلویو ایڈیڈ، پروڈکٹ کی تعداد بڑھے گی۔
ڈیری ٹیکنالوجی کیا ہے ؟
دددھ اور اس سے بنی ہوئی اشیاء اور ان کے سا تھ جڑ ی ہوئی ٹیکنالوجی یعنی ڈیری ٹیکنا لوجی اس صنعت کے معرفت جانوروں اور ان کی دیکھ بھال، دودھ کی پیداوار شامل ہے۔ بھارتی معاشیات کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈیری صنعت ایک اہم شعبہ بن کر ابھرا ہے۔
اس یہ زیادہ تر دودھ اور اس سے بنی ہوئی اشیا پر منحصر ہے اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو رہا ہے کہ کئی بڑی بڑی کمپنیاں اس میں اپنے قدم رکھ چکی ہے۔ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی ملک میں بڑی تیزی سے آرہی ہے۔ اس میں اسٹوریج، پروسیسنگ پیکجنگ،کوالیٹی کنٹرول وغیرہ میں بدلائو دیکھنے کو مل رہا ہے ۔
درکار صلاحیت: اس میں کریئر بنانے کے لیے طلبہ کی سائنس میں دلچسپی ضروری ہے ۔نئی نئی چیزوں کے متعلق جاننا ضروری ہے۔کام میں لگن ،جوش و جذبہ ہونا چاہیے۔شہروں کی سہولیات کو چھوڑ کرگائوں میں زندگی گزارنے کی عادت ڈالنا چاہیے۔
لیاقت(Eligibility ) :۔ اس میں داخلے کے لیے آل انڈیا انٹرنس ٹیسٹ کے مرحلے سے گزرنا ہوتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں فزکس ، کیمسٹری ،بائیلوجی،ایگریکلچر سے متعلق سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ ویٹنری کونسل آف انڈیا کے ذریعے آل انڈیا کامن انٹرنس ایگزام ، انڈین کونل آف ایگریکلچر ریسرچ کے ذریعے قومی سطح پر امتحان لیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ ریاستی سطح پر بھی داخلہ امتحان ہوتے ہیں۔کچھ ادارے براہ راست داخلہ دیتے ہیں۔
جب کہ کچھ پرائیویٹ ادارے اپناانٹرنس امتحان لیتے ہیں۔ جس کے لئے بارہویں سائنس میں 50% فی صد مارکس سے کامیاب ہونا ضروری ہے۔بارہویں میں شریک طلبہ بھی اس میں رجسٹریشن کر سکتے ہیں ۔ بارہویں میں P.C.Mیعنی کے جس کے Aگروپ ہے وہ لو گ یہ کورس کر سکتے ہیں ۔ لیکن بہت سے کالج P.C.Bیعنی کے B گروپ کے طلبہ کو داخلہ دیتے ہیں۔
سائنس ایگریکلچر کے طلبہ کو ترجیح دی جاتی ہے۔IGNOU اندراگاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی دسویں کے بعد بیچلر آپ پریپیٹری پروگرام کے بعد طلبہ ڈپلومہ کے اہل ہو جاتے ہیں۔
ڈیری ٹیکنالوجی سے متعلق کورسیس
۱) ڈیری فارمنگ ٹریننگ اس میں بنیادی ٹریننگ دی جاتی ہے جس کی مدت 7 سے 10 دن تک کی ہوتی ہے۔
۲) مویشی پالن اور ڈیری ٹیکنالوجی میں ڈپلومہ اس کی مدت تین سال کی ہے۔
۳) ڈیری ٹیکنالوجی میں بی ٹیک اس کی مدت چار سال کی ہے۔
۴) ماسٹر اور پی ایچ ڈی کورس اس کی مدت دو، دو سال ہے۔
ڈیری ٹیکنالوجی کو چار اہم حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی : ۔ جیسے کے دودھ اور اس سے بنی ہوئی اشیا flever milk ,cow milk , sweets, ،ملک پاؤڈر ، آسکرئمس ، رس گلہ ، گلاب جامن ، ان سب کا پرو سیسنگ کیسے ہوتا ہے ؟ وہ کیسے بنتے ہیں ؟ یہ بناتے و قت کیسا ماحول کس قسم کا ہونا چاہیے ؟ کوالیٹی کنٹرل کیسے کرنا چاہیے ؟ کم سے کم wastageمیں زیادہ سے زیادہ مقدار میں پروڈکشن کیسے حاصل کیا جائے ؟ اس کے متعلق پڑھا یا جاتا ہے ۔
Engineering:۔ ڈیر ی پلانٹ کیسے لگایا جائے ؟ کون کون سی مشنری سے زیادہ سے زیادہ آؤٹ پٹ حاصل کیا جائے ؟ اس کے متعلق انجئیرنگ میں پڑھایا جاتا ہے ۔
مائکرو بایو لوجی :۔ یہ بات بہت مشہور ہے کہ دودھ کی لا ئف لائن بہت کم ہو تی ہے ۔ تو دودھ اور اس سے بنی ہو ئی اشیا ء کی زندگی کو کیسے بڑھایا جائے؟ کیسے دودھ سے بنی ہو ئی اشیاء کو زیادہ سے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھا جائے اوروہ قابل استعمال رہے ؟یہ تما م باتیں اس میں سکھائی جاتی ہے ۔
ڈیری مینجمنٹ:۔ ڈیری پلانٹ کو صحیح طریقے سے چلانے کے لئے کون کن سی مینجمنٹ اسکیل کی ضرورت رہتی ہے ۔ ڈیری پروڈکٹ، انسورنش،مارکیٹنگ سے جڑی معلومات فراہم کی جاتی ہے۔
روزگار فراہم کرنے والی اہم کمپنیاں
۱) امول
۲) انڈین تمباکوکمپنی
۳) نیسٹل
۴) ریلائنس انڈسٹری
۵)کومفیڈ انڈسٹری
۶)برٹانیہ انڈسٹری
۷)ہیٹسن ایگرو پروڈکٹس
۸) ایچ جے،ہنجن کمپنی
۹) مدر ڈیری
۱۰)واڈی لال گروپ
۱۱) میٹرو ڈدیری لیمٹیڈ
۱۲) ہیرٹیج فوڈ
۱۳) وسندھرا ڈیری
کس سیکٹر میں روزگار حاصل کر سکتے ہیں؟
۱)ڈیری ٹیکنالوجسٹ ،
۲)سپروائزر
۳) ڈیری انجنیئر
۴)ڈیری سائنٹسٹ،
۵) ریسرچر
۶) ٹیچنگ
۷)پلاٹ منیجر وغیرہ
امکانات: سرکاری ، نیم سرکاری ،خاصگی اداروں میں کام کر سکتے ہیں۔بڑی بڑی کمپنیاں ہر سال ملک میں سیکڑوں لوگوں کو روزگار سے جوڑتی ہے۔microbiologist کے طور پر کا م کر سکتے ہیں ۔ملک میں ڈیری فائونڈیشن،کوآپریٹیوبینک،ملک پروڈکٹ، پروسینگ اور مینوفیکچرنگ صنعتیں،رولر ڈیولپمینٹ سے جڑی ہوئی ہیں۔
ایگریکلچر ڈپارٹمینٹ ورک، فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری وغیرہ میں ہر سال اس سے منسلک پروسیسنگ کی مانگ ہوتی ہے۔ بڑی تعداد میں ڈیری ٹیکنالوجسٹ سے روزگار کے روپ میں اپنا پیشہ جیسے کریمی آئسکریم،یونٹ شروع کرنے کے علاوہ اس شعبے میں اپنا کرئیر بنا سکتے ہیں۔
Logistic & distribution جو کہ الگ ڈپارٹمنٹ رہتا ہے ۔ اس کا بھی مینجمنٹ کر سکتے ہو ۔ ددھ پروسیسنگ میں کوالیٹی کنٹرول کر سکتے ہیں ۔ڈ یری Equipment mantannce کر سکتے ہو۔ اس شعبے میں تجربہ ہو نے کے بعد ڈیری کنسلٹنٹ کر سکتے ہیں ۔
ڈیری میڈیکل آفیسر کے طر پر کا م کر سکتے ہیں ۔سینٹر میں یعنی کے مویشی پالن سینٹر میں کام کر سکتے ہیں ۔
ٹریننگ سینٹر: نیشنل ڈیری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(NDRI): یہ ملک کا اہم ادارہ ہے۔یہ ملک کی پہلی ڈیمڈ یونیورسٹی ہے۔اس کی بنیاد ۱۹۲۳ میں ہوئی ۔یہ انڈین کونسل آف ریسرچ کے ماتحت کام کرتی ہے۔ڈیری ٹیکنالوجی کے شعبے میں اس ادارے کی بہت سی خدمات ہیں ۔
ملک کے لاکھوں نوجوانوں کودودھ سے بنی ہوئی اشیا کے بزنس کو بڑھانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ملک میں تین نیشنل ڈیری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(NDRI) ہیں۔
۱) نارتھ میں کرنال ، ہریانہ میں
۲)سائوتھ میں بنگلورو، کرناٹک میں
۳) ایسٹ میں کلیانی، مغربی بنگال، قومی ادار ہ ہونے کی وجہ سے یہاں پر بہت سے ریسرچ کے کام بھی ہوتے ہیں۔اس ادارے میں پہلا ڈیری ٹیکنالوجی کورس ۱۹۵۷ میں شروع ہوا۔
آج ا س ادارے میں ڈپلومہ، گریجویشن ،پوسٹ گریجویشن، ماسٹر جیسے کورس کرائے جاتے ہیں۔اس ادارے میں بڑی تعداد میں ایشیاء اور آفریقہ سے بھی لوگ پڑھنے کے لیے آتے ہیں۔
تنخواہ (سیلری): کسی بھی ڈیری پلانٹ میں ڈیری سے جڑے لوگوں کو پہلے ٹرینی کے طور پر جوائن کرنا پڑتا ہے۔ بعد میں وہ آفیسر کے عہدے تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ ٹرینی کو ماہانہ آٹھ سے دس ہزار دیا جاتا ہے۔آفیسر کے عہدے تک پہنچے پر پندرہ سے بیس ہزار تک تنخواہ پہنچ جاتی ہے۔
جنرل مینجر کو عام طور پر تیس سے چالیس ہزار ماہانہ ملتا ہے۔ جسیے جسیے اس شعبے میں تجربہ بڑھتا جاتا ہے۔ ویسے ویسے تنخواہ بھی بڑھتی جاتی ہے۔



