طب و صحت,کھانسی اور چھینک کی بے احتیاطی
✍️ ڈاکٹر حکیم محمد فاروق اعظم حبان قاسمی بنگلور
ڈاکٹر اور اطباء نہ صرف ناک کی صفائی پر زور دیتے ہیں بلکہ اس کی صفائی کے طور طریق میں بھی احتیاط اور سلیقہ کو ضروری قرار دیتے ہیں اس لئے کہ بے موقع اور بے جا اور جابجا تھوکنا اور ناک صاف کرنا نہ صرف ایک گھناؤنا منظر پیش کرتا ہے جو اناڑی پن کا ثبوت ہے بلکہ نہایت خطرناک نتائج کا حامل ہونے کی وجہ سے ایسی بے احتیاطی سے کھانسنے چھینکنے اور ناک صاف کرنے سے جو باریک باریک ذرّات و قطرات اور مواد نکل پڑتے ہیں وہ دوسرے تندرست انسانوں تک مختلف امراض کے پھیلانے کا سبب بن جاتے ہیں۔
چھینک کیوں آتی ہے؟
چھینک آنے کا سائنسی مطلب سانس کی نالی میں جسے ہم نرخرہ یا Traceaکہتے ہیں۔ بلغم یا دھول وغیرہ آجانے سے جس میں یکایک جھٹکے کے ساتھ لرزش اور ہلکی سی گدگدی ہوتی ہے تب اس حالت کو دور کرنے کے لئے ہوا کا ایک تیز جھونکا یا جھٹکا جسم کے اندر سے سانس کی نالی کے ذریعہ باہر نکلتا ہے اور تب ہی ہم چھینک پڑتے ہیں۔ ہماری یہ چھینک پورے جسم کو ہلاکر رکھ دیتی ہے اور اس چھینک کے بعد ہم کچھ تازگی اور سکون سا محسوس کرتے ہیں کیونکہ سانس کی نالی سے وہ تحریک یا ارتعاش دور ہوجاتا ہے۔آپ نے خود غور کیا ہوگا کہ چھینک کے وقت ہماری آنکھیں ایک چھٹکے کے ساتھ بند ہوجاتی ہیں اور ہم کوشش کے باوجود اپنی آنکھیں کھلی نہیں رکھ سکتے۔
چھینک کی رفتار
آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ چھینک کے وقت سانس کی نالی سے باہر نکلنے والی ہوا 160 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے نکل پڑتی ہے اور اسی لئے اس ہوا کے جھونکے سے جسم کو جھٹکا لگتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ہماری آنکھیں بند ہوجاتی ہیں۔ (ہیرالڈیف ہیلتھ) چھینک کے ذرات الکٹرونک مائکرو اسکوپ یعنی برقی فوٹوگرافی کے ذریعہ چھینک کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوا کہ ایک سکنڈ میں گیارہ لاکھ ذرات Particals ہوا میں خارج ہوتے ہیں محققین نے معلوم کیا کہ ان ذرات میں (19000) انیس ہزار جراثیمی نو آبادیات Colonies Becterila قائم ہوسکنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور اس کے ذرات 13تا 30فیٹ فاصلے تک پھیلتے ہیں اور نصف گھنٹہ تک فضاء میں تیرتے رہتے ہیں۔
چھینک پر ’’الحمد للہ‘‘ کیوں نہیں؟
ڈاکٹر ارون روس (Dr. Irwin Ross امریکہ) اپنے ایک مقالہ میں لکھتے ہیں رضا کارانہ طور پر چھینک کے رخ پر قابو رکھنے کو چھینک سے متعلق کوشش کرنی چاہیے تاکہ امراض کے خلاف جنگ میں اہم مناسب ہتھیار کا کام دے سکے۔ اسلئے چھینک کے بعد الحمد للہ کہنا چاہیے تاکہ پروردگار عالم کا شکر ادا ہو۔
تقابلی جائزہ
حیرت ہے کہ چھینک کے ان گنت خطرات سے موثر طور پر بچنے کی اسلام نے جو ہدایات دی ہیں وہ چودہ سو سال بعد بھی آسان و اعلیٰ مکمل اور بیحد موثر ہیں۔ اور ان خطرات Drop Let Infections سے بچنے کے لئے ان تدابیر کے سواء کوئی اور چارہ کار ہی نہیں ہے۔چنانچہ رسول اکرم e نے چھینک کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا کہ : جس وقت حضور e چھینکتے اس وقت اپنے چہرہ انور کو ہاتھ یا کپڑے سے ڈھانک لیتے اور اپنی آواز کو پست فرمالیتے۔قارئین کرام! خود غور فرمائیں کہ ایسے زمانہ میں جب کہ دنیا تہذیب وتمدن سے بالکل نا آشنا تھی بلکہ جاہلیت کے اندھیروں میں غرق تھی ایسی سائنٹفک سادہ فطری اور صحت کے بنیادی اصولوں پر مکمل تعلیمات ایک زبر دست اور غیر قانونی معجزہ سے کم نہیں تو اور کیا ہے۔
ناک صاف کرنا
اسی طرح ناک صاف کرنے کے سلسلے میںتعلیم فرمائی کہ ’’احتیاط کے ساتھ ناک صاف کریں جس کے لئے ایک برتن استعمال کریں یا لوگوں کی نگاہوں سے بچ کر صاف کریں۔ (شمائل الرسال)
قابل غور ہے کہ آج ان آداب صحت سے ذرا سی غفلت یا بے شعوری یا لاپرواہی (دوسرے معنی میں کاہل، غیر پابندیا غیر اسلامی طریقہ کی زندگیاں انسانی صحت کے لئے کس قدر خطرناک ہلاکت خیز ثابت ہو رہی ہیں۔ جو آج بھی ہر متمدن ملک کے لئے ایک مسئلہ لاینحل بنا ہواہے۔
دماغ کے وائرس یعنی جراثیم
احکام وضو میں ناک میں پانی لینے کی اہمیت کو علامہ رشید ترابی ایک مضمون میں اس طرح واضح فرماتے ہیں۔’’کرم دماغ سے بچنے کے لئے ناک میں پانی لینے سے بہتر کوئی تدبیر نہیں کہ دماغ کی طرف جس وقت بعض خطرناک امراض کے کرمیعنی خورو بینی جراثیم سعود کرجاتے ہیں تو بڑی بڑی قوت کی دوائیں ان کو ہلا ک کرنے میں بے اثر ثابت ہوتی ہیں مگر حیرت ہے کہ صرف ایک بانی کا قطرہ ان کا یقینی قاتل اور دافع ضرر ثابت ہوا ہے۔‘‘ شکر لازم ہے کہ اسلام نے صدیوں قبل وضو میں ناک میں پانی لینے کے عمل سے کروڑوں ایمان والوں کو پیچیدہ امراض سے نجات دلوائی ہے۔
ناک کی عدم صفائی سے امراض
اطباء نے ناک کی صفائی کو بڑی اہمیت دی ہے، دن میں کئی دفعہ اس کا دھونا ضروری ہے عدم صفائی سے متعلق لکھا ہے کہ ناک کے مقامی امراض کے علاوہ حلق اور پھیپھڑوں کے مختلف امراض کا پیدا ہونا عام ہے مثلاً ناک میںپھوڑے پھنسیاں Oeenaزائد گوشت Polipy اور بدبو بینی Oeze:a رم نورتین Tonsillits کے علاوہ جب وہ پھیپھڑوں میں سرایت کرتا ہے تو نمونیہ Fenumonia ذات الجنب Pleurisy یا کوئی اور تعدیہ Infection اور مزید لاپرواہی کی صورت میں پھیپھڑوں کے دق و سل T.B تک تو بت پہونچی ہے۔ حالیہ سروے آف انڈیا کی رو سے جذام کو بھی اس میں شامل کرلیا گیا ہے۔
چھینک پر ایک درجۂ کمال کی تحقیق
راقم الحروف کے والد محترم حضرت حبیب الامتؒ کے پیرو مرشد حضرت الحاج مولانا محمد مصطفی کامل رشیدی اعرابی فرمایا کرتے تھے کہ دل ایک ایسا عضو ہے کہ جب سے انسان پیدا ہوتا ہے دل مسلسل دھڑکتا ہے یہاں تک کہ آخری سانس تک دل جاری رہتا ہے ایک سکنڈ کیلئے بھی نہیں رکتا۔ لیکن جب آدمی چھینکتا ہے تو ایک سکنڈ کے سو حصوں میں سے ایک حصہ کے بقدر چھینکتے وقت سانس کے ساتھ دل رکتا ہے اور فوراً چالو ہوجاتا ہے یہ ایک ایسا خود کار یعنی آٹومیٹک نظام قدرت ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ جس قدر بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے، اسی لئے چھینک آنے پر محسن انسانیت سرکار دو عالم ﷺؑ نے الحمد للہ کہنے کا جو حکم فرمایا ہے اس میں یہ بھی حکمت کار فرما ہے کہ چھینک آنے پر جو دماغ کے خلیات کی صفائی ہوتی ہے اور دل رک کر دوبارہ دھڑکنا شروع ہوجاتا ہے اس پر بندہ کیلئے لازم ہے کہ وہ الحمد للہ کہے۔ حدیث پاک میں آتاہے کہ چھینک آنے پر جو شخص اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ عَلٰی کُلِّ حَالٍ کہتا ہے وہ گردے کے درد سے محفوظ رہتا ہے۔ سبحان اللہ!



