مجربات رحیمی،گاجر لو اور گرمی میں مفید-حضرت ڈاکٹر حکیم محمد فاروق اعظم حبان قاسمی
گاجر گرمی اور سردی میں استعمال ہونے والی عمدہ غذ۱ ہے جہاں گاجر کو سردیوں میں حلوے میں استعمال کیا جاتا ہے وہیں گرمیوں میں گاجرسے آسانی کے ساتھ پیاس بجھائی جا سکتی ہے۔
گاجر گرمی اور سردی میں استعمال ہونے والی عمدہ غذ۱ ہے جہاں گاجر کو سردیوں میں حلوے میں استعمال کیا جاتا ہے وہیں گرمیوں میں گاجرسے آسانی کے ساتھ پیاس بجھائی جا سکتی ہے۔
شربت گاجر
گاجریں جو بادامی رنگت کی اور پتلی پتلی ہوں لے کر ان کا پانی بقدر ایک لیٹرلیںاور اس میں تین پاؤ مصری ملا کر قلعی دار دیگچی میں ڈال کر نرم آگ پر پکائیں جب شربت کا قوام درست ہونے پر آئے تو اس میں قدرے روح بید مشک وغیرہ ملا کر اتار لیں بس شربت تیار ہے۔
استعمال: روزانہ دن میں دو تین مرتبہ پانی ملا کر پیا کریں۔
فوائد: دھڑکن خفقان، دل کی کمزوری کے لئے بالکل سہل اور نفیس و مفید اور مجرب ہے۔
ہچکی بند کرنے کا مجرب نسخہ
گرمیوں میں اکثر وہ مریض جن کو قبض رہتا ہے یا بدہضمی کی شکایت رہتی ہے ان کو ہچکیاں آنا شروع ہوجاتی ہیں۔ ہچکی گو ایک معمولی بیماری جو کہ دو چار منٹ رہ کر خود ہی مٹ جایا کرتی ہے مگر بعض اوقات یہ گھنٹوں بلکہ دنوں اور ہفتوں تک پیچھا نہیں چھوڑتی ایسے موقع پر ہچکی بہت تکلیف دینے والی ثابت ہوتی ہے اس کی بار بار حرکت سے پسلیاں دکھنے لگتی ہیں۔ بات کرنے کا لطف نہیں رہ جاتا، ہچکی کو دور کرنے کیلئے ایک سہل نسخہ ہے گاجر کا عرق نکال لیں اور اس میں تھوڑی سی منقہ پیس کر ملا لیں تھوڑے تھوڑے وقفے پر مریض کو پلاتے رہیں انشاء اللہ چند گھنٹوں میں ہچکی بند ہوجائے گی۔
گاجر یرقان میں مفید
یرقان جس کو عام لوگ پیلیا کے نام سے پکارتے ہیں اس کے لئے جس طرح مولی ایک خاص تریاق ہے اسی طرح گاجر بھی فائدہ مند چیز ہے کیونکہ تقریباً تمام اطباء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ گاجر یرقان میں مفید ہے۔
ترکیب استعمال:مریض یرقان کو گاجر کا پانی نکال کر اس میں مصری ملا کر تقریباً ۱۰۰ ؍ گرام روزانہ صبح شام پلانا چاہیے۔ ان شاء اللہ یرقان دور ہوجائے گا۔
پیٹ کے کیڑے
یہ بھی بہت بری بیماری ہے۔ جس کی بڑی نشانی یہ ہے کہ مریض کو صبح اٹھتے ہی شدت سے بھوک محسوس ہوتی ہے نیز مریض کے منہ سے سونے کی حالت میں پانی جاری رہتا ہے حکماء کا تجربہ ہے کہ گاجر پیٹ کے کیڑوں کو مارنے والی بہترین شے ہے۔
ترکیب: پہلے روز ایک گاجر اور دوسرے روز دو ساتویں روز سات گاجریں کھلائیں اور سات دن سات سات گاجر یں علی الصبح کھلاتے رہیں۔ ان شاء اللہ اس سے وہ کیڑے جو آنتوں میں ہوتے ہیںر فع دفع ہوجائیں گے۔گاجر کا اچار مرتبان میں ڈال کر چند روز کے لئے رکھ دیں یہ اچار معدہ کو طاقت دیتا ہے۔ جگر اور تلی کے امراض میں مفید ہے۔ خصوصاً جگر اور طحال کا سدہ کھولتا ہے۔ سرکہ میں تیار کردہ گاجر کا اچار ورم طحال کو دور کرتا ہے۔ یرقان کے لئے مفید ہے اس کے کھانے سے قبض کھلتا ہے نیز بواسیر کے لئے مفید ہے۔
پتھری کو نکال دینے والی
گاجروں کا پانی پاؤ بھر نکال کر اس میں تین ماشہ قلمی شورہ ملا کر پلایا کریں۔ اگر پتھری معمولی ہوئی تو انشاء اللہ چند یوم میں ٹوٹ کر نکل جائے گی۔تخم گاجر چالیس گرام تخم مولی چالیس گرام ایک مولی کو کھوکھلی کر کے اس میں دونوں تخم بند کر کے اس کا منہ بند کر یں اور بھوبھل میں پکالیں یہاں تک کہ بیجوں میں مولی کا پانی جذب ہوجائے، پھر نکال کر سایہ میں خشک کرلیں خوراک پچاس گرام گاجر کے پانی سے دیا کریں اس سے بفضلہ تعالی چند روز میں پتھری ٹوٹ کر نکل جاتی ہے۔
پیشاب میں رسوب آنا
بعض اشخاص کو پیشاب میں رسوب سا آیا کرتا ہے یعنی اگر ان کا پیشاب کسی برتن یا شیشی وغیرہ میں کرا کر رکھا جائے تو نیچے گندھلاپن بیٹھ جاتا ہے گردوں کی خرابی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کے لئے گاجر کا پانی پاؤ بھر روزانہ پینا بہت مفید ہے۔
تکلیف سے پیشاب آنا
اگر پیشاب تھوڑا اور تکلیف سے آئے اور جل کر آئے تو روزانہ سو گرام گاجر کا پانی پینے سے انشاء اللہ ہفتہ عشرہ میں صحت ہوجاتی ہے کیونکہ اعلی درجہ کی مدربول چیز ہے۔
شربت گاجر
جو کہ ضعف باہ اور درد پشت کے لئے اکسیر چیز ہے۔گاجر عمدہ کو لے کر پانی سے دھولیں اور اس کی درمیانی ہڈی سی دور کر کے پانچ کیلو لیں پھر اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکرے کاٹ لیں۔ پانچ لیٹرپانی ملا کر قلعی دار دیگچی میں ڈال کر منہ کو آٹے سے بند کر کے پکائیں جب انداز نصف سے زیادہ پانی جل جائے تو اتار لیں اور ہاتھوں مل کر ان کا پانی نچوڑ لیں اور اس کے برابر شہد خالص ملا کر پکائیں۔ پھر سنبل لونگ خولنجال ، دارچینی، ہر ایک تین گرام زعفران چار گرام تمام ادویہ کی صاف کپڑے میں پوٹلی بنا کر اس میں چھوڑیں۔ لیکن پوٹلی بہت ڈھیلی ہونی چاہیے تاکہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد اس کو ملتے رہیں یہاں تک کہ دوا شربت کے جیسی باریک اور پتلی ہو۔ بس شربت تیار ہے بوقت ضرورت روزانہ صبح وشام بقدرپچاس گرام پیا کریں ضعف باہ کو آرام ہوگا اور درد کمر یا پشت کا درد جاتا رہے گا۔



