مسالہ ڈوسہ کے ساتھ سانبر نہ دینے پر مقدمہ، ریسٹورنٹ پر 3500 روپے کا جرمانہ
بہار کے بکسر ضلع میں ایک صارف کمیشن نے ایک ریسٹورنٹ پرگاہک کو دوسہ کے ساتھ سانبر پیش نہ کرنے پر 3,500 روپے کا جرمانہ عائد کیا
بکسر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اکثر لوگ ریستوراں سے کھانا آرڈر کرتے ہیں۔ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ریسٹورنٹ چلانے والے آرڈر کی گئی اشیاء میں کچھ چیزیں دینا بھول جاتے ہیں۔ ایسے میں آپ نے شاید کوئی قدم نہ اٹھایا ہو لیکن بہار کے ایک وکیل نے اسے سنجیدگی سے لیا۔ ہوا یوں کہ اس نے ایک ریسٹورنٹ سے ڈوسا منگوایا۔ اس کے لیے اس نے 140 روپے ادا کیے اور ڈوسا لے کر گھر آگیا۔ تاہم جب اس نے گھر پر پیکٹ چیک کیا تو ڈوسا کے ساتھ کوئی سانبر نہیں تھا۔
بہار کے بکسر ضلع میں ایک صارف کمیشن نے ایک ریسٹورنٹ پرگاہک کو دوسہ کے ساتھ سانبر پیش نہ کرنے پر 3,500 روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ یہ فیصلہ 11 ماہ کی سماعت کے بعد آیا ہے۔ گاہک، منیش پاٹھک ایک وکیل اور بنگلہ گھاٹ کے رہائشی نے بتا یا کہ 15 اگست 2022 کو اس کی سالگرہ تھی اور وہ گولا مارکیٹ کی ریسٹورنٹ گئے اور اسپیشل مسالہ دوسہ کا آرڈر دیا اور 140 روپے دیکر پارسل گھر لےآئے جہاں ان کی ماں اکیلی تھیں۔ جب پارسل کھولا تو اس میں کوئی سانبر نہیں ملا۔ صرف دوسہ اور چٹنی تھی۔ وہ اگلے دن ریستوراں گئے اور مالک سے شکایت کی۔ منیش پاٹھک کے مطابق جب انہوں نے ریسٹورنٹ آپریٹر سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے الٹا جواب دیا۔ اس نے عجیب سوال کیا کہ کیا وہ پورا ریستوران 140 روپے میں خریدے گا؟ اس سے ناراض ہو کر منیش نے ریسٹورنٹ کو قانونی نوٹس بھیجا ہے۔ تاہم ریسٹورنٹ کے مالک نے نوٹس کا جواب نہیں دیا۔ اس کے بعد وکیل نے ضلع کنزیومر کمیشن میں شکایت درج کرائی۔ 11 ماہ کی سماعت کے بعد عدالت نے ریسٹورنٹ کو قصوروار پایا اور صارف کو جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
ڈسٹرکٹ کنزیومر کمیشن نے گاہک کو ذہنی، جسمانی اور مالی مشکلات کا باعث بننے پر ریسٹورنٹ پر 2000 روپے جرمانہ عائد کیا۔ قانونی چارہ جوئی کی لاگت کے طور پر 1500 روپے کا الگ جرمانہ بھی عائد کیا۔ کمیشن نے ریسٹورنٹ کو 45 دن میں جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر ادائیگی وقت پر نہ ہوئی تو 8 فیصد سود بھی الگ سے ادا کرنا پڑے گا۔ سنتوش پاٹھک نے عدالت کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ صارفین کے حقوق کو برقرار رکھنے اور کاروبار کو ان کی وعدہ کردہ خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔



