قومی خبریں

اظہار رائے کی آزادی کے استعمال پر غداری کامقدمہ ،دھرم سنسدوالوں پرخاموشی؟

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس نریمن نے کہا، نفرت انگیز تقریر نہ صرف غیرآئینی ،بلکہ سراسرجرم

نئی دہلی19جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس روہنٹن فالی نریمن نے کہا ہے کہ جہاں اظہار رائے کی آزادی کا استعمال کرنے والوں کے خلاف بغاوت کے سخت قانون کے تحت مقدمہ درج کیاجا رہاہے وہیں نفرت انگیز تقریر کرنے والوں کے خلاف اہلکار کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔

جسٹس نریمن نے یہ باتیں ڈی ایم ہریش اسکول آف لاء ممبئی کے افتتاح کے دوران کہیں۔جسٹس نریمن نے آئین کے آرٹیکل 19 میں دی گئی 7 آزادیوں کابھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہاہے کہ ملک میں بدقسمتی کی بات ہے کہ حکومت پر تنقید کرنے والے نوجوانوں، طلباء، اسٹینڈ اپ کامیڈین اور ان جیسے دیگر افراد پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا جاتا ہے لیکن جو نفرت انگیز تقاریر کرتے ہیں جو معاشرے کے جذبات کو بھڑکاتے ہیں، ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی ہے۔

نفرت انگیز تقریر اور آزادی اظہارکے درمیان فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے حکومت پر تبصرہ کیا اور کہا کہ ملک میں نفرت انگیز تقریر کرنے والے بہت سے لوگ ہیں جو دراصل لوگوں کے قتل عام کا مطالبہ کرتے ہیں۔

پولیس ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہاہے کہ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو نے حال ہی میں کہا تھا کہ نفرت انگیز تقریر نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ ایک جرم ہے۔ اسے تعزیرات ہند (IPC) کی 153A اور 505C کے تحت جرم قرار دیاگیاہے۔

جسٹس نریمن نے تجویزدی ہے کہ پارلیمنٹ نفرت انگیز تقریر کے لیے کم سے کم سزا کا بندوبست کرے۔ اگرچہ کسی شخص کو تین سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوتا کیونکہ کوئی سزا مقرر ہے۔ اگر ہم واقعی اپنے آئین میں درج قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں، تو میں پرزور مشورہ دوں گا کہ پارلیمنٹ ان دفعات میں ترمیم کرے تاکہ سزا دی جائے۔

آپ کو بتا دیں کہ جسٹس نریمن 7 سال کی مدت ملازمت کے بعد اگست 2021 میں سپریم کورٹ سے ریٹائر ہوئے تھے۔ ان کے اہم فیصلوں میں شریا سنگھل بمقابلہ یونین آف انڈیا کا 2015 کا تاریخی فیصلہ ہے، جس میں عدالت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے سیکشن 66A کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ شق من مانی اور غیر آئینی تھی۔ اس شق کا استعمال سوشل میڈیا پر کیے گئے تبصروں کے لیے افراد پر مقدمہ چلانے کے لیے کیاگیاتھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button