آنکھ کا موتیا-پیش کش: شبلی فاروق بنگلور
آنکھ کی پتلی میں موتیا کا بننا اب عام ہوگیا ہے،
آنکھ کی پتلی میں موتیا کا بننا اب عام ہوگیا ہے، بعض لوگ اس کے آپریشن کا سن کر ڈرجاتے ہیں، آئیے اس کے بارے میں چند وضاحتی باتیں جان لیں تو علاج آسان ہوجاتا ہے۔ موتی دراصل آنکھوں کے عدسے یا لینس کے دُھندلا ہو جانے کو کہتے ہیں۔ Cataract کا لغوی مطلب آبشار ہوتا ہے۔ جس طرح آبشار سے گرتا ہوا جھاگ دار سفید پانی نظر آتا ہے، جب یہ شکایت پرانی ہو جاتی ہے، وہی صورت آنکھوں کے عدسے کی بھی دیکھی جاتی ہے۔ عمر میں اضافے کے ساتھ اکثر و بیشتر یہ شکایت پیدا ہوتی ہے اور یہ بہت عام ہے۔
آنکھوں کے عدسے ایک بہت ہی منفر د قسم کے پروٹین سے مل کر بنتے ہیں جسے Crystallin کہتے ہیں اور برسہا برس کے مسلسل استعمال سے خراب ہونے لگتے ہیں اور ان کی شفافیت ختم ہو جاتی ہے۔ مختلف عوامل اس عمل کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ جن میں سگریٹ نوشی، کثرت شراب نوشی، تیز دھوپ میں نکلنا، ٹائپ ٹو ذیا بیطس جس پر کنٹرول نہ ہو اور کچھ دوائیں خاص طور پر کورٹی کو سٹروئیڈز‘‘ شامل ہیں جو دمہ اور جوڑوں کے درد کے علاج میں استعمال کی جاتی ہیں۔
آنکھوں میں موتیا اترنے کے عمل کے دوران کوئی درد محسوس نہیں ہوتا اور مختلف لوگوں میں اس شکایت کے بڑھنے کی رفتار مختلف ہوتی ہے۔
اس کی پہلی علامت اکثر رات کے وقت ڈرائیونگ میں اس وقت دُشواری ہوتی ہے جب سامنے سے آنے والی گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس سے آنکھیں چکا چوند ہو جاتی ہیں اور کچھ نظر نہیں آتا یا پھر چھپے ہوئے چھوٹے باریک حروف کو پڑھنے میں دقت ہوتی ہے۔ عام طور پر آپ آئی ڈاکٹر یا چشمہ ساز ہی اس کی تشخیص کرتے ہیں۔
اس وقت اس کا واحد علاج صرف سرجری ہے اور یہ فیصلہ کرنا کہ سرجری کب کروائی جائے، ڈاکٹر کے مشورہ سے آپ ہی کو کرنا چاہیے۔ جیسا کہ آپ نے اپنے طویل خط میں لکھا ہے کہ آپ اس وقت روز مرہ کے معمولات سے نمٹ رہے ہیں، اس لئے فی الحال آپریشن کیلئے یہ ٹھیک وقت نہیں ہے۔
اس دوران ہو سکتا ہے کہ آپ کا چشمہ ساز آپ کو کسی ماہر امراض چشم (Opthalmologist) کے پاس بھیجے اور اس کے بعد موتیا نکالنے کیلئے آپریشن کی منصوبہ بندی کی جائے۔ پہلے ایک آنکھ کا اور اس کے کچھ عرصے کے بعد دوسری آنکھ کا آپریشن کیا جاسکتا ہے۔
یہ سرجری مقامی طور پر آنکھ کوئن کر کے کی جاتی ہے اور آپ کو اسپتال میں رات گزارنے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی۔ اس آپریشن میں نقصان رسیدہ عد سے کو نکالا جاتا ہے اور اس کی جگہ ایک نیا مصنوعی لینس لگایا جاتا ہے جس کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر اور آپ کو مثالی نظر دینے کیلئے کیا جاتا ہے۔
اس آپریشن میں 10 سے 20 منٹ لگتے ہیں اور عام طور پر بعد میں کوئی درد بھی محسوس نہیں ہوتا اور آنکھ کے سیاہ سفید حصے یعنی پتلی میں جو چھوٹا سا شگاف ڈالا جاتا ہے اس کو بند کرنے کے لئے کوئی ٹانکے بھی نہیں لگائے جاتے۔ یہ آپریشن محفوظ اور کامیاب ہوتا ہے اور آپریشن کے بعد 95 فیصد آنکھیں بہت اچھی طرح دیکھنے کے قابل ہو جاتی ہیں۔عموماً کسی بھی قسم کی سرجری کبھی پسندیدہ کام نہیں رہا ہے۔ تاہم اس معاملے میں جب آپریشن کا وقت آئے تو اس پر عمل کرنا آپ کے بہترین مفاد میں ہو سکتا ہے۔



