سرورقگوشہ خواتین و اطفال

لڑکیوں کی بغاوت اسباب،عوامل و علاج

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ہر بچہ (لڑکا ہو یا لڑکی) فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے لیکن پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی ، عیسائی اور مجوسی وغیرہ بناتے ہیں۔‘‘

امانت پاس ترے یہ اہل بچے یہ دولت ہے
لوٹانا تجھ کو پھر اک دن آخر یہی امانت ہے

اولاد اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔ جس کے پاس یہ نعمت نہیں ہوتی زندگی کی رعنائیاں مسکراہٹیں اس کے لئے پھیکی ہوتی ہیں اور جن کے پاس یہ نعمت ہوتی ہے ان کے لئے سرور کے ساتھ ساتھ آزمائش اور بھاری ذمہ داری ہوتی ہے ۔اولاد خواہ بیٹا ہو یا بیٹی ایک عظیم تحفہ ہے جس کو نہ رد کیا جاسکتا ہے نہ بدلا جاسکتا ہے ۔ انسان اس معاملہ میں بے بس ہے اللہ جسے جو چاہتا ہے وہ عطا کرتا ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے’’(تمام) بادشاہت اللہ ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے۔ یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بے اولاد رکھتا ہے۔ وہ تو جاننے والا (اور ) قدرت والا ہے۔‘‘(سورۃ الشوریٰ 49:50)

دور جاہلیت میں بچوں کی پیدائش کو خوش بختی اور بچیوں کی پیدائش کو نحوست سے تعبیر کیا جاتا تھا جس کا اشارہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس طرح دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ’’حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی ( کے پیدا ہونے) کی خبر ملتی ہے تو اس کا منہ ( غم کے سبب) کالا پڑجاتا ہے اور اس کے دل کو (دیکھو تو) وہ اندو ہناک ہوجاتا ہے۔اور اس خبر بد سے (جو وہ سنتا ہے) لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور) سوچتا ہے کہ آیا ذلت برداشت کر کے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے دیکھو یہ جو تجویز کرتے ہیں بہت بری ہے۔‘‘(النحل:58تا59)

افسوس کا عالم یہ ہے کہ آج بھی ایسی جہالت موجود ہے جس کی وجہ سے لڑکیوں کی تعلیم اور تربیت میں ماں باپ اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کرتے جس کی بنا پر خسارہ پورا معاشرہ اٹھاتا ہے جس بچی کی بنیاد ی تربیت نہ کی جائے اس سے میں اور آپ یہ توقع کیسے رکھ سکتے ہیں کہ وہ بہترین عورت ، بہترین ماں بنے گی۔ حالانکہ احساس کمتری کی بنا پر وہ ہر ایسا کام کرے گی جو اس کے والدین کے لئے بھی اور بطور مومن عورت اس کے لئے بھی ذلت کا باعث بنے گا حالانکہ اسلام نے آکر ان تمام ناپسندیدہ رسومات اور خیالات کی مذمت کی جو بچیوں کو کراہت اور نحوست کی نظر سے دیکھے جانے کا ذریعہ بنتے ہیں اور خصوصاً بچی کی پیدائش سے لے کر اس کی ذمہ داری ، نگہداشت تک کرنے کو رحمت و جنت کے حصول کا ذریعہ بنادیا ہے۔

لڑکی کی پیدائش رحمت الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں ایسے والدین کو بہت بڑی خوشخبری سنائی ہے جن کو بیٹیوں کی نعمت سے نوازا جاتا ہے۔

سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ جس کے یہاں لڑکی پیدا ہوئی اور اس نے اس کو زندہ دفن نہیں کیا اور نہ اس کی اہانت کی اور نہ بیٹوں کو اس پر فوقیت دی تو اللہ تعالیٰ اس کو اس لڑکی کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا‘‘

اسی طرح سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جو شخص دو بچیوں ، دو بیٹیوں کی کفالت کرے یہاں تک کے وہ بلوغت کو پہنچیں، قیامت کے دن میں اور وہ اس طرح آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں انگلیوں کو ملایا۔‘‘

فطرت پر پیدائش:یاد رہے جس وقت اللہ تعالیٰ آپ کو یہ لڑکی عطا کرتا ہے اس وقت یہ ہر قسم کے گناہوں اور معصیت سے ناواقف ہوتی ہے گویا خوبصورت غیر مسطور سفید کاغذ ہوتی ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ہر بچہ (لڑکا ہو یا لڑکی) فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے لیکن پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی ، عیسائی اور مجوسی وغیرہ بناتے ہیں۔‘‘

یعنی کہ وہ بچی پاکیزہ دل لے کر آتی ہے پھر یہ والدین ہوتے ہیں جن کا کردار ، تربیت ، اثرات اولاد پر مرتب ہوتے ہیں اور اگر وہ اس کی فطرت کے مطابق نشوونما نہیں کرتے تو پھر یہی بچیاں پورے معاشرے کے لئے فتنے کے باعث بن جاتی ہیں۔

ذمہ داری:پیدائش کے بعد ان بچیوں کی تربیت کی ذمہ داری سب سے پہلے والدین پر عائد ہوتی ہے اور بچیوں کی صحیح پرورش پر اللہ تعالیٰ نے بے تحاشہ اجر رکھا ہے کیونکہ یہی بچیاں آنے والی نسلوں کی بنیاد ہوتی ہیں۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جو کوئی تین بیٹیاں رکھتا ہے اور وہ ان کی نگہداشت کرتا ہے اور ان کو تنگی اور خوشحالی میں صبر و تحمل سے برداشت کرتا ہے تو اللہ اسکو اپنے فضل و رحمت سے جنت میں داخل فرمائیں گے۔

ایک آدمی نے سوال کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر دو بیٹیاں ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو ہوں تب بھی ۔ ایک دوسرے آدمی نے دریافت کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر ایک ہو تو ! آپؐنے فرمایا ’’اگر ایک ہو تب بھی۔‘‘یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹیوں کے ساتھ ساتھ بہنوں کے ساتھ بھی رحمت و شفقت کے معاملےکی تلقین کی ہے۔

سیدناابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ کسی کے پاس تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کی اچھی طرح نگہداشت کرے تو وہ یقینا جنت میں داخل ہوگا۔‘‘

ذمہ داری میں اہم کردار والدین میں سب سے زیادہ ماں کا ہوتا ہے جو ہر طرح سے ایک مثالی ماں ہوتی ہے اور بچیوں کی تربیت اس طرز پر کرتی ہے۔

خوش اسلوبی:وہ اپنی بچیوں کے ساتھ خوش اسلوبی سے پیش آتی ہے تاکہ اخلاق ، صبر، تحمل ، نرمی ان کے کردار کی زینت بن جائیں ۔ سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ ناقہ نشین عورتوں میں قریش کی عورتیں سب سے اچھی ہیں جو اپنے بچوں پر بے حد مہربان ہوتی ہیں ۔

اولاد میں برابری:اولاد میں برابری نہ ہونے کے باعث اس بچی کی نشوونما نفسیاتی الجھنوں ، حسد اور نفرت کے ساتھ ہوتی ہے اور ایسی بچی بے حس اور خودغرض ہوجاتی ہے۔ سیدنانعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے والد ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام دیا ہے جو میرے پاس تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا اے بشیر تمہارے پاس اور بچے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا ، ہاں۔ ارشاد فرمایا کیا تم نے ہر ایک کو ایسا ہی تحفہ دیا ہے ۔ جواب دیا ، نہیں ، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کام پر مجھے گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ بننا پسند نہیں کرتا۔ دوسری روایت کے مطابق اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور تمام اولاد کے ساتھ یکساں سلوک کرو۔صحیح بخاری، کتاب الھبۃ

روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اولادوں کے درمیان برابری نہ کرنا ظلم ہے اور یہی ظلم کی بنیادیں اولادوں کو اندھیرے تک پہنچا دیتی ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت اس برابری کے رنگ کو مزید حسن عطا کرتی ہے کہ کس طرح ایک ماں دورانِ تربیت اپنی بچیوں کے ساتھ برابری کرتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:’’ ایک مسکین عورت اپنی دو بچیوں کے ساتھ آئی میں نے تین کھجوریں اس کو دیں اس نے ایک ایک کھجور ان بچیوں کو دی اور ایک خود کھانے کے لئے منہ تک لے گئی اس کی بچیوں نے اسے بھی مانگ لیا اس نے اس کھجور کے جسے وہ خود کھانا چاہتی تھی دو ٹکڑے کئے اور ان دونوں کو دے دئیے اس کے اس عمل سے میں متاثر ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے میں نے یہ واقعہ بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی وجہ سے اس کے لئے جنت کو واجب کر دیا۔ یا جہنم کی آگ سے اس کو نجات دے دی ۔‘‘

ایمان کی آبیاری:بچی کی پیدائش میں نومولود کے کان میں اذان و اقامت پڑھنا یہ ایمان کی آبیاری ہے جس کا مقصد ہے کہ اس کی گھٹی میں ایمان ہو جس کے باعث زندگی کے ہر فیصلہ میں وہ اللہ اور رسول کی فرمانبردار ہو۔

امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’(بچہ یا بچی) کے کان میں اذان کہنے کی پوشیدہ حکمت واللہ اعلم یہی ہو سکتی ہے کہ اس کے پردہ سماعت سے ٹکرانے والے اولین کلمات ہی رب کی کبریائی اور عظمت پر مشتمل ہوں اور یہ وہ کلمات ہیں جو کہ قلعہ اسلام میں دخول کے لئے باب اول کی حیثیت رکھتے ہیں پس یہ شعار اسلام دنیا میں آنے والے اس نومولود کے لئے درس اول ہوتا ہے اور کچھ عجب نہیں یہ کلمات اس نومولود کے دل میں جا گزیں ہو کر اس کی شخصیت پر اثر انداز ہوجائیں اگرچہ وہ محسوس نہ کرے ‘‘۔ [10]تحفۃ المودود

اور یوں ابتداء سے انتہا تک اس نومولود کا سفر اسی تکرار کے ساتھ چلتا ہے یہاں تک کہ مفہوم توحید و بندگی اس کی شخصیت میں راسخ ہوجاتا ہے ۔

فرائض کی آگاہی

انسان جتنا جلدی عمل سے جو اثر لیتا ہے اتنا کلام سے نہیں اسی لئے اسلام ہمیں کلام سے زیادہ عمل میں اخلاص کے ساتھ مہارت پر ابھارتا ہے۔ فرائض کی ادائیگی اولاد بچپن سے ہی والدین سے اخذ کرتی ہے اسی وجہ سے ہر عبادت میں ہرفرض میں اہل و عیال کو بھی ساتھ ساتھ رکھنے کی تاکید دکھائی دیتی ہے۔ اس بات کو ہم اس مثال سے سمجھتے ہیں جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں اپنی نماز ادا کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی نماز کا کچھ حصہ گھر کے لئے مخصوص کر دے پس اللہ تعالیٰ اس نماز کی وجہ سے اس کے گھر میں برکت ڈال دے گا۔‘‘

صحیح مسلم: کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا، باب استحباب صلاۃ النافلۃ فی بیتہ

قول کے مقابلہ میں بالفعل تعلیم وتربیت زیادہ پختگی کا باعث ہوتی ہے اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں سنتوں اور نفلی نماز کی ادائیگی کو اہمیت دی ہے تاکہ بچپن سے ہی یہ بچی فرائض کی آگاہی والدین سے اخذ کرے ۔

محبت و شفقت کا برتاؤ

یہی وہ برتاؤ ہوتا ہے جس کی بنا ء پر بچی اپنا ہر دکھ درد ماں باپ کے ساتھ بانٹتی ہے۔یہی محبت و شفقت کا برتاؤ اس کی زندگی میںبغاوت و نفرت کو داخل ہونے نہیں دیتا۔ وہ ابتداء سے انتہا تک اپنی اپنے والدین کی اور بطور مسلم اسلام کی عزت پر آنچ آنے نہیں دیتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے کھڑے ہوجاتے اور ان کو خوش آمدید کہتے ان کی پیشانی پر بوسہ دیتے اور اپنی نشست کے پاس بٹھاتے یہاں تک کہ وہ مرض الموت کے وقت گھر میں داخل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خوش آمدید کہا اور آپ رضی اللہ عنہا کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
ابو داؤد: کتاب الادب، باب ماجاء فی القیام

والدین سراپامحبت ، شفقت ، حفاظت ، دل جوئی ، قربانی کا پیکر ہوتے ہیں اور یہ والہانہ جذبات اپنی بچیوں کے لئے رکھتے ہیں جو ان کے مستقبل میں ان کی شخصیت کی تعمیر میں اہم بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر انہی بنیادی نکات سے لاپرواہی برتی جائے تو ایسی بچیاں ہی بغاوت پر سر ابھارتی ہیں جس کا نقصان پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے ۔

امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔ اور کتنے ہی والدین ایسے ہیں جو نہ صرف اپنے جگر گوشوں کی تعلیم و تادیب کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ ان کے ہر جائز و ناجائز خواہشات میں ان کی معاونت کر کے انہیں دنیا و آخرت میں گمراہ اور بدبخت بنا دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ان کا احترام کر رہے ہیں حالانکہ وہ غلط تربیت کر کے ان کی تذلیل کر رہے ہوتے ہیں خود بھی ان اولادوں(خواہ بچہ ہو یا بچی) کے فوائد سے محروم رہتے ہیں اور انہیں بھی دنیا و آخرت کی سعادت سے محروم کر دیتے ہیں اگر آپ اس قسم کے بچوں کو جانچیں گے تو دیکھیں گے کہ عموماً یہ اپنے والدین کی غلط تربیت کی وجہ سے فساد کا شکار ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ذمہ داری کا یہ طوق والدین کے کندھوں پر رکھا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’’تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک اپنے ماتحت کے بارے میں جوابدہ ہے ۔‘‘
بخاری: کتاب الجمعۃ، باب الجمعۃ فی القریٰ والمدنی، مسلم: کتاب الخراج والامارۃ والفیٔ، باب مایلزم الامام

امانت میں خیانت دشمن کو دعوت:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’ اے ایمان والو! نہ تو اللہ اور رسول کی امانت میں خیانت کرواور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو اور تم ( ان باتوں کو) جانتے ہو۔ اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہےاور یہ کہ اللہ کے پاس (نیکیوں کا) بڑا ثواب ہے۔‘‘
(سورۃ الانفال: 27,28)

یہ اولادیں ، یہ بچیاں اللہ کی امانت ہیںاور اس امانت کی حفاظت کے لئے مکمل توجہ اور ہوشیاری کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان امور اور اسباب سے بچا جا سکے جو اس امانت میں خیانت کا باعث بن جاتے ہیں اس نعمتِ امانت کی عمارت کو انسان خود کھڑا کرتا ہے۔ لیکن اپنی ذمہ داری سے لاپرواہی اس طویل خوبصورت عمارت کے تعبیر خواب کو خاک میں ملا دیتی ہے ۔ ذرا سی لاپرواہی اس امانت میں زوال و بربادی کا باعث بن جاتی ہے ۔ کیونکہ آپ کے ساتھ ساتھ ایک دشمن بھی ہر موقع پر موجود رہتا ہے جسے صرف ایک موقع کی تلاش رہتی ہے اور وہ موقع آپ نے اسے خود دیا۔

ابلیس وہ شیطان ملعون پیدائش کے وقت بھی اس نو مولود کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’ہر بچہ کو شیطان اس کی پیدائش کے وقت ٹہو کا دیتا ہے اسی سے وہ چیخ کر رونے لگتا ہے۔‘‘

بخاری: کتاب تفسیر القرآن، باب وانی اعیذھا بک .. اسی آفت سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی راہنمائی کر دی ہے۔ ارشادی باری تعالیٰ ہے۔

ترجمہ: ’’مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آتش (جہنم) سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تندخو اور سخت مزاج فرشتے ( مقرر) ہیں اور جو ارشاد اللہ ان کو فرماتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔‘‘(التحریم:6)

لیکن والدین اپنی لاپرواہی کی بناء پر اس ذمہ داری کی ادائیگی میں سستی کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن وہ دشمن پھر ایسی بچیوں کی تربیت خود کرتا ہے اور یوں معاشرے میں لڑکیوں کی بغاوت کی ابتداء ہوتی ہے۔ ابلیس کی یہ اللہ تعالیٰ سے جنگ ہے جس میں ناچاہتے ہوئے بھی ہمارا تعاون ابلیس ہی کو حاصل ہوجاتا ہے اس کا اصل مقصد کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

ترجمہ: (اس نے)’’ کہا کہ پروردگار جیسا تو نے مجھے رستے سے الگ کیا ہے میں بھی زمین میں لوگوں کے لئے (گناہوں کو) آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا۔‘‘(الحجر:39)

’’لاغوینھم‘‘ اغوا عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب راہ راست سے بھٹکانا گمراہ کرنا۔ شیطان نے اللہ تعالیٰ کو چیلنج دے کر کہا تھا کہ میں انہیں اغوا (گمراہ کرونگا)کروں گا۔

نسلِ انسانی کے آغاز سے ہی شیطان اس مشن میں سرگرم عمل ہے ہمارے والدین کی پیدائش کے بعد سے ہی اس کے حربے عام ہیں ۔سیدنا آدم و حواعلیہما السلام بھی اس حربہ کا شکار ہوئے تھے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

ترجمہ: تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تا کہ ان کے ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لئے منع کیا ہے کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو۔(الاعراف:20)

ابتداء سے ہی نافرمانی اور بے حیائی کو فروغ دینا اس کا مقصد ہے۔تا کہ انسانوں کی عقلیں سلب کرلے اور ان کو ذہنی طور پر اغواء کر لے اس طور پر کہ انہیں نہ اللہ کی نافرمانی کا خوف رہے نہ ہی حیا ان کا جز ہو۔

عورت کا فتنہ

پھر اس اغواکاری میں اس کی آلہ کار ہیں جس کے بارے میں یہ حدیث ہماری راہنمائی کرتی ہے ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ آخری زمانے میں کچھ لوگ ایسے ہونگے جن کے چہرے تو انسانوں جیسے ہونگے لیکن دل شیطان کے ہونگے ۔

معجم الأوسط: للطبرانی، باب المیم من اسمہ محمد اور ان ہی شیطان دل والوں نے جن کا سرپرست ابلیس ہے ابتداء سے ہی بیرونی محاذوں کے ساتھ ساتھ جسمانی ، روحانی اور ایمان کو مفلوج کرنے کی سازشیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس کے لئے جہتوں اور طبقات میں اپنا ’’ ابلیسی جال ‘‘ بچھا رکھا ہے اور اس جال کا سب سے بڑا نیٹ ورک جس فتنہ کو ظہور دیتا ہے وہ ’’عورت کا فتنہ ‘‘ہے۔ جس کا اشارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے بھی ہمیں ملتا ہے۔ فرمایا:

’’ میرے بعد مردوں کے لئے جو سب سے نقصان دہ فتنہ ہوگا وہ عورتوں کا فتنہ ہے ۔‘‘

بخاری: کتاب النکاح باب ما یتقی من شؤم المرأۃ اور یہی فتنہ بنی اسرائیل کے زوال کا باعث بنا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ تم ڈرودنیا اور عورتوں سے بے شک بنی اسرائیل میں فتنہ کی ابتداء عورتوں سے ہی ہوئی تھی۔ ‘‘

آزادانہ دجالی میڈیا کا قیام

میڈیا پر’’عورت کے فتنہ ‘‘ کے حوالے سے سب سے زیادہ کام کیا گیا ہے ۔کیسے ان عورتوں کو گھروں سے باہر نکالا جائے؟ کیسے ان کی نسلوں میں بغاوت برپا کی جائے، کیسے ان سے وہ کرائیں جو اللہ کو نا پسند ہو، ان کو ایسا کیاکھلائیں جو ان کے اپنے ایمان کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ ان کی نسلوں کو بھی تباہ کرے۔ ہر طریقہ کو جانچا گیا اور پھر 1897 ؁ء میں سوئزرلینڈ کے شہر باسل میں 300 یہودی ، دانشوروں ، مفکروں ، فلسفیوں نے تھیوڈور ہر ٹزل کی قیادت میں جمع ہو کر پوری دنیا پردجال کی حکمرانی کا منصوبہ تیار کیا تھا یہ منصوبہ پوری دنیا کے سامنے 19 پروٹوکولز کی صورت میں لایا گیا تھا جس میں طے ہونے والے چند نکات یہ تھے ۔

ہم میڈیا کے سرکش گھوڑے پر سوار ہو کر اس کی باگ کو اپنے قبضہ میں رکھیں گے ہم اپنے دشمنوں کے قبضہ میں کوئی ایسا موثر اور طاقتور اخبار نہیں رہنے دیں گے کہ وہ اپنی رائے کو موثر ڈھنگ سے ظاہر کر سکیں اور نہ ہم ان کو اس قابل چھوڑیں گے کہ ہماری نگاہوں سے گزر ے بغیر کوئی خبر لوگوں تک پہنچ سکے ہم ایسا قانون بنائیں گے کہ کسی ناشر اور پریس والوں کے لئے یہ ناممکن ہوگا کہ وہ پیشگی اجازت لئے بغیر کوئی چیز چھاپ سکیں۔ ہمارے قبضے میں ایسے اخبارات اور رسائل ہوں گے جو مختلف گروہوں اور جماعتوںکی تائید و حمایت حاصل کریں گے خواہ یہ جماعتیں جمہوریت کی داعی ہوں یا انقلاب کی حامی۔ حتیٰ کہ پھر ہم ایسے اخبارات کی سر پرستی کریں گے جو انتشار و بے راہ روی، جنسی و اخلاقی انارکی، استبدادی حکومتوں اور مطلق العنان حکمرانوں کی مدافعت اور حمایت کریں گے ہم ایسے اسلوب سے خبروں کو پیش کریں گے کہ قومیں اور حکومتیں ان کو قبول کرنے پر مجبور ہوجائیں ہم یہودی ایسے دانشوروں ، ایڈیٹروں ، نامہ نگاروں کی حوصلہ افزائی کریں گے جو بد کردار ہوں اور ان کی بھی جو خطرناک مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہوں گے ۔ ہم ذرائع ابلاغ کو خبر رساں ایجنسیوں کے ذریعہ کنٹرول کریں گے ۔ ہم دنیا کو جس رنگ کی تصویر دکھانا چاہیں گے وہ پوری دنیاکو دیکھنا ہوگی اس میں بنیادی کردار عورت کو ادا کرنا ہوگا جس میں اسے برہنہ کر کے سامنے منظرعام پر لایا جائے گا۔

یہود کو یہ دجال متعارف کرائے ہوئے عرصہ ہوگیا اور آج ہماری نسلوں کی گردنیں تک اس میں ڈوبی نظر آتی ہیں۔ دنیا کے %80 لوگ اس جال میں آگئے ہیں پوری دنیا کی انسانی عقلوں کو پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعہ ماؤف کر کے ان کو اس سحر میں جکڑ لیا ہے جس کی بنا پر لڑکیوں میں سے وہ عنصر ختم ہو چکا ہے جو اللہ تعالیٰ نے فطرت انسانی میں رکھا ہے یہ نظام عورت کے بغیر ادھورا ہے اس لئے عورتوں میں بغاوت کی آبیاری یہود کا پہلا حربہ ہے ۔ جس کے لئے اس میڈیا میں دو شعبوں کا قیام کیا گیا ہے۔ (۱) تفریح کے نام پر شہوات (۲)خبروں کے نام پر شبہات کو ترویج دینا۔

تفریح کے نام پر شہوات کی ترویج

انسانی معاشرے کے لئے بنیادی اجزاء میں سے ایک ’’ حیا‘‘ ہے۔ جس قوم سے یہ صفت اٹھ جاتی ہے وہ اپنی موت آپ مرجاتی ہے اور اس کے افراد بکری کے ریوڑھ کی مانند ہوتے ہیں۔ چنانچہ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر تفریح کے نام پر یہود نے ٹیلی ویژن ، ریڈیو ، انٹرنیٹ اور موبائلز پر حیا سوز اور اخلاق باختہ مواد پر مشتمل تباہی و بربادی کاجو سامان مہیا کیا ہے اس نے پورے انسانی معاشرے کی بنیادیں ہلادی ہیں۔ عورت کی آزادی کے نام پر تحریکیں چلا کر ان کو بغاوت کر کے باہر لے کر آنے کے بعد پھر ان سب چیزوں میں عورت کو بطور آلہ استعمال کیا گیا مثلاً ماڈلنگ کے لئے الگ الگ شعبوں کا قیام کیاجاتا ہے جس کے لئے یہود ایسے اداروں کی سر پرستی کرتے ہیں اور نوجوانان نسل کو Talent کے نام پر ابھارا جاتا ہے۔ یا پھر اس بات کو ایک Advertisment سے سمجھنے کی کوشش کریںکہ عورت کے استعمال کی ذاتی چیزوں کا Advertisment اس کو کھلے عام میڈیا پر پیش کرنااور اس کے ذریعہ دوسری صنف کے جنسی جذبات کو ابھارنا اور تمام عورتوں کے لئے ایسی پروڈکٹس کو منظر عام پر لاناجو ان کے ذاتی استعمال کی ہیں اور تمام عورتوں کے Sub Contiousمیں یہ Message Convey کیا جارہا ہوتا ہے کہ اس کو استعمال کرو اور بے حیائی کو فروغ دواور کھلے عام اپنے حسن کا مظاہرہ کرو اس سارے ماحول میں بنیاد عورت کو حاصل ہے۔ کیوں یہودی تنظیمیں ایک ایک Advertismentکے لئے لاکھوں ، اربوں روپے خرچ کر دیتی

ہیں یہ سوچنے کا مجھے اور آپ کو خیال نہیں حالانکہ عورت کے لئے اس دنیا میں رونق لفظ معروف ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیا کو ایمان قرار دیا ہے:’’ حیا اور ایمان ساتھ ساتھ ہیں ان میں سے اگر ایک بھی اٹھ جائے تو دوسرا خود بخود اٹھ جاتا ہے‘‘

المستدرک علی الصحیحین، کتاب الایمان اور جب معاشرے سے یہ خیر رخصت ہو جائے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرو‘‘

صحیح ابن حبان: کتاب الرقائق،باب الحیاء اور جب ایمان نہ رہے تو زندگی کا مقصد پھر یہی ہوتا ہے جس کا آئینہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا :’’ میری امت میں کچھ لوگ ہوںگے جو نعمتوں میں پروان چڑھیں گے اور وہ کھاتے پیتے رہیں گے ان کا مقصد زندگی میں رنگا رنگ کھانے اور طرح طرح کے لباس پہننا ہوگا وہ سنوار سنوار کر باتیں کریں گے۔وہ میری امت کے شریر ترین لوگ ہوں گے ‘‘

کتاب الزھد

یہی یہود کا مقصد تھا جس میں ان کی کامیابی کی سیڑھی ہماری اپنی مسلمان عورتیں بنیں۔

خبروں کے نام پر شبہات کا پرچار

یہ وہ جال ہے جس کی وجہ سے اچھے خاصے سمجھدار انسان کو مخبوط الحواس بنادیا گیا ہے۔ آج صحیح، غلط، حق و باطل کا معیار یہ نیوز چینلز اور ان پر نشر کئے جانے والے پروگرامز اور خبریں کرتی ہیں، حیرت کی بات ہے وہی عورتیں جو بے حیائی کا پیکر بنی ہوتی ہیں۔ منافقت کا لبادہ اوڑھ کر دین کی نشرو اشاعت میں مصروف بھی نظر آتی ہیں ۔ مسلمان کو دین سے ہٹایا نہیں جاسکتا اسی بنا پر یہود نے دین کے نام پر ہی بگاڑ پیدا کیا جس کی بنا پر ہماری لڑکیاں اور عورتیں دونوں ہی چیزوں کو صحیح سمجھتی ہیں وہ دین کو ایک الگ کنار ے پر اور دنیا کو الگ کنارے پر رکھتی ہیں اور جس کی طرف بھی رخ کر تی ہیں ان کا اپنا فہم یہی ہوتا ہے کہ یہ بھی جائز ہے ۔ میڈیا ہی وہ قوت ہے جو ہماری عورتوں کو تیارکرتا ہے خواہ وہ دنیا کا معاملہ ہو یا دین کا خصوصاً عورتوں نے اسی میڈیا کو اپناعالم اور پیشوا بنایا ہوا ہے ۔

سیدناعبد اللہ بن عمر بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سمندر میں کچھ شیاطین قید ہیں جنہیں سلیمان علیہ السلام نے باندھ رکھا ہے قریب ہے کہ وہ نکل آئیں گے اور لوگوں پر قرآن پڑھیں گے۔‘‘صحیح مسلم یا پھر ایسی خبروں کو اشاعت کرنا جس میں مسلمانوں کا ایمان ،حیا ، وقت ، جان ، مال سب ضائع ہو خصوصاً عورتوں میں فضول خرچی کی سوچ پیدا کرنا مثلاً بازار، شاپنگ، ہوٹل، پارٹیز ، کپڑے ، جیولری، جدید فیشن، سائن بورڈ ، چلتے پھرتے ذرائع ابلاغ ۔۔۔۔ لڑکیوں میں بغاوت پیدا نہیں ہوگی تو کیاہوگا اور والدین کا بالکل آنکھیں بند کر لینااور بچیوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جانا ۔

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنے اس خوف کا اظہار سالوں پہلے کیا تھا :’’ میں تمہارے بارے میں جس چیز سے سب سے زیادہ خوف محسوس کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ تم علم کے مقابلے میں اس بات کو ترجیح دو گے جس منظر کو تم دیکھ رہے ہوگے اور تم گمراہ ہو جاؤ گے۔ تمہیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔‘‘

منصف ابن ابی شیبہ یہی وہ بنیادی ذرائع ہیں جس سے عورتوں میں بغاوت پھیلائی گئی ۔

(1)فواحش و منکرات کی اشاعت

میڈیا کے ذریعے ہر ایسے مواد کو پھیلا یا گیا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی خلاف ورزی کی گئی ہو تاکہ اور لوگ بھی یہی طریقہ اختیار کریں زنا، قتل ، چوری جیسی خبروں کو منظر عام پر لانا نت نئے فیشن پھیلانا تاکہ بیمار دل لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں کیوں کہ یہ انسانی فطرت ہے جو خبر اس کی خواہش کے مطابق ہو جب وہ سنتا ہے، جائے خبر تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے ۔ مدینہ منورہ میں جب واقعہ افک پیش آیا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تنبیہ کرتے ہوئے ایسی خبروں کی بلا تحقیق اشاعت سے نہ صرف روکا بلکہ ان کو سخت ڈانٹ کے انداز میں واقعہ کی ابتداء میں ہی نہ رُکنے کی وجہ سے سخت مذمت کی کہ اس واقعہ کو اپنے پختہ ایمان کی بنا پر ہاتھ اور زبان سے روکا کیوں نہیں؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ: ’’اگر اللہ کافضل تم پر دنیا اور آخرت میں نہ ہوتاتو یقینا تم نے جس بات کے چرچے شروع کر رکھے تھے اس بارے میں تمہیں بہت بڑا عذاب پہنچتا جبکہ تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل کرنے لگے اور اپنے منہ سے وہ بات نکالنے لگے جس کی تمہیں مطلق خبر نہ تھی گو تم اسے ہلکی بات سمجھتے رہے لیکن اللہ کے نزدیک وہ بہت بڑی بات تھی تم نے ایسی بات کو سنتے ہی کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں ایسی بات منہ سے نکالنی بھی لائق نہیں۔‘‘(سورہ النور: 14تا16)
اشاعت فاحشہ کا کردار ادا کرنے میں یہ سب چیزیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں ۔

(۱) ریڈیو ، ٹی وی ، سائن بورڈ جس کے ذریعہ خبریں ہی نہیں آج عملاً مظاہرے پیش کئے جاتے ہیں۔

(۲)ماڈلنگ جو اس کام میں بڑھتی ہوئی ترقی کے ایک اہم آلہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

(۳)کلب ، تھیٹر، سینما ہال اور اس طرح کی دیگر رقص و سرور کی محافل اس میںدن بدن اضافہ اور مسلمانوں کے گھروں میں بھی اس کا زور و شور سے اہتمام۔

(۴)روزنامہ اخبارات ( جن میں ایک صفحہ روز کی بنیاد پر ایسی فواحشات کے لئے مخصوص) خواہ وہ نجومیوں کا کاروبار ہو جو ایمان کو ختم کرے یا ایسا مواد ہو جو حیا کی دھجیاں بکھیر دے۔

(۵)تجارتی اعلانات (تعجب کہ جس میں فلم سے زیادہ عریانیت کے مناظر خصوصی عورتوں کے استعمال کی اشیاء ۔)
(۶)فلم ڈرامہ سیریل جو ہر گھر کی زینت بن چکا ہے۔

(۷)مخلوط تعلیم اور غیر شرعی نصاب تعلیم

ان ہی ساری چیزوں پر ابھارا گیا اور آج ہماری نسلیں اس میں ڈوبی نظر آتی ہیں ۔

(2)خلوت کو عام کرنا

پھر خلوت کو عام کرایا گیا اس کیلئے انہوں نے اداروں سے لے کر ہر شعبہ میں اسے متعارف کرایا۔ بوائے فرینڈ ، گرل فرینڈ کے نام کے یہ دجالی Tagsاسی میڈیا نے متعارف کرائے۔ یہ حرام رشتے حتیٰ کہ Cartoonsتک میں بھی یہ متعارف کرایا گیا تاکہ ہر عمر کی نسل اس قبضے میں آجائے ۔جنسی خواہشات اور جذبات کو اس طرح ابھار کر مسلمانوں کی نسلوں کو خرابی اور پستی میں ڈال دیا گیا ۔ نوجوان نسل سے لے کر ہر طبقہ اس سازش کا کلی طور پر شکار ہے۔ مردوزن کا آپس میں ناچنا گانا ، ثقافت، سیاست، سیاحت ہر میدان میںعورت کے ذریعہ برپا کرایا گیافتنہ جس کا اختتام جبری زنا پر جا کر ہوا۔

ایک ہندی میگزین کے مضمون نگار KK Gupta نے معاشرہ کو اس طرف متوجہ کرانا چاہا تھا وہ لکھتا ہے:

کئی سالوں پہلے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے باہر نکلے دیکھا راستے میں مرد و زن اکھٹے چل رہے ہیں یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا:’’ ایک طرف ہوجاؤ کیونکہ تمہارے لئے راستے کے وسط میں چلنا درست نہیں ہے تمہارے لئے راستہ کے ایک طرف چلنا لازم ہے۔‘‘

راوی کہتے ہیں اس کے بعد عورتیں دیوار سے چمٹ کر اس طرح چلتیں کہ ان کا کپڑا دیوار سے اٹک جاتا۔ اس حکم کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مزید قدم اٹھائے ۔

1 مسجد کے دروازے کو عورتوں کے لئے خاص کر دیا ۔امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے اسی مناسبت سے حدیث نقل کی ہے۔ ترجمہ: فرمایا ، اگر ہم اس دروازے کو عورتوں کے لئے مخصوص کر دیں (تو بہتر ہے)۔

سنن ابی داؤد:کتاب الصلاۃ، باب فی اعتزال النساء فی المساجد عن الرجال فی الطریق

2 نماز سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر بیٹھے رہتے تاکہ عورتیں ا س عرصے میں اپنے گھر روانہ ہوجائیں اور راستہ میں دونوں جنسوں کا اختلاط نہ ہونے پائے۔ جب مساجد اور ان کی طرف آنے والے جہاں خالص عبادت کے جذبوں سے آنے والوں کو یہ حکم دیا گیا تو دوسری جگہیں جہاں شرم و حیا کی قید نہیں وہاں مردو زن کا اختلاط یا خلوت کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔ اس خلوت سے نا صرف مسلمان گھرانوں میں فساد برپا ہوا بلکہ ان کی اپنی نسلوں میں بھی شرم و حیا کے جنازے نکلے ۔

(3)نظرسے بد کاری

جو ہیں اہل بصیرت اکثر آنکھیں بند رکھتے ہیں

نظر اچھے دلوں کو بھی کبھی بدنام کرتی ہے

اس نظر کے اندر جنسی جذبات و شہوت اور زنا کا پیش خیمہ ہے اسی لئے شریعت نے اسے نیچے رکھنے کا حکم دیا ہے لیکن اس کے برخلاف باطل نظر سے نظر ملانا سکھاتا ہے اور Boldness کے نام پر ابھارتا ہے۔امام ابن قیم رحمہ اللہ نے کیا خوب لکھا ہے :

’’ نظر سے انسان کے دل میں حرکت پیدا ہوتی ہے اب اگر اسے دور کر دیا تواس کے بعد کی شرم و ندامت سے آرام پاگیا لیکن اس سے اگر چھٹکارا حاصل نہ کیا تو پھر یہی چیز وسوسہ کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس کا دفاع کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے پھر اگر اسے دور کر دیا تو فبہا ورنہ آگے بڑھ کر یہی وسوسہ شہوت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔اگر اب بھی اس کا علاج کرلیا تو قدرے غنیمت ورنہ یہی بدکاری کے ارادے میں تبدیل ہوجاتا ہے جس کا دور کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوجاتا ہے اب اگر اس ارادے کو ختم کر دیا تو بہت خوب ورنہ یہ ارادہ عزم یا ارادہ جازمہ بن جاتا ہے جس کا دور کرنا مشکل ترین ہوتا ہے بلکہ انسان اسے عملی جامہ پہنا دیتا ہے۔‘ التبیان: ص404

(4)حلال رزق کی روک تھام ایمان کی بربادی

یہ اس طرز پر کیا جاتا ہے کہ والدین کے لئے باہر کی دنیا میں ان کے بیمار دلوں کی سروریت کے لئے بہت سی چیزیں رکھ دی گئی ہیں ۔ پارک، بازار ، پارٹیز ، سوشل نیٹ ورک اور کچھ نہیں تو ونڈو شاپنگ یعنی دین و دنیا کی ہر ذمہ داری سے بالا تر ہو کر باہر ان سے فتنہ برپا کرایا جاتا ہے جس کی بنا پر والدین اولاد کی تربیت سے لے کر ہر قسم کی ذمہ داری سے بریٔ الذمہ ہیں اس میں جو جدید حربہ استعمال کیا جا رہا ہے وہ یہ کہ عورتوں کی باہر مشغولیت کے باعث کھانے پینے کی اشیاء کو بازار وں میں متعارف کرایا گیا۔ کسب حلال کے ساتھ طیب اشیاءِ غذا سے مسلمانوں کو محروم کرنا۔ کیمیائی، حیاتیاتی اور جراثیمی غذائیں کھلانا تاکہ (۱) مسلمانوں کی اجساد برباد ہوجائیں۔ (۲) مسلمانوں کے ایمان برباد ہوجائیں۔جو چیزیں بازاروں میں یہ یہود لے کر آئے ان کی کچھ چیزیں درج ذیل ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button