پروین کمال
یہ ایک انتہائی دل خوش کن بات ہیکہ کورونا جیسی مہلک بیماری پر ڈیڑھ سال بعد آہستہ آہستہ قابو پایا جارہا ہے اور کچھ بہتری کے آثار نظر آرہے ہیں۔ لیکن یقین کے ساتھ کہا نہیں جاسکتا کیونکہ ابھی تک کسی محقق نے اس بات کا اظہار نہیں کیا کہ یہ وائرس مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے۔ اس ڈیڑھ سال کے عرصے میں وائرس کی دوسری اور تیسری لہروں کے خطرناک حملوں سے لاکھوں انسانوں کے متاثر ہونے کی خبروں نے دنیا میں مایوسی کا احساس بڑھا دیا ہے۔
لوگ خوفزدہ سے ہیں کہ نجانے کب کس پر بیماری کا حملہ ہو جائے۔ ہشاش بشاش سی یہ دنیا جو زندگی کے دشوار گذار راستوں سے گذرتے ہوئے بھی دنیا کی تمام خوشیوں اور مسرتوں سے محفوض ہوتی رہی۔ اب جیسے سکڑ اور سمٹ کر اپنے خول میں بند ہوگئی ہے۔ پتہ نہیں وقت کا وہ کونسا لمحہ تھا جب 2019 میں چین کے مرکزی شہر ووہان میں پہلی بار کرونا وائرس کی موجودگی کا پتہ چلا تھا۔
اس وقت کوئی نہیں جانتا تھا کہ اتنی تیزی سے اس بیماری کا پوری دنیا میں پھیلاؤ ہوگا اور لاکھوں انسان اس وباء کی نظر ہو جائیں گے اور ہم سب اس کے آگے بے بس ہو کر رہ جائیں گے۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ چین کے اس شہر ووہان جہاں سے یہ بیماری شروع ہوئی تھی وہاں اس پر اتنا جلد کیسے قابو پالیا گیا؟ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہیکہ حکومت اور عوام دونوں ہی نے اس جہد میں اپنا کردار بخوبی نبھایا ہے۔
لوگ جب باہر نکلتے تو چہرے پر ماسک چڑھائے ہوتے، پھر ہر ایک کے پاس جراثیم کش سیال مادہ موجود ہوتا جسے وہ ضرورت کے وقت استعمال کرتے۔ سب سے اہم بات یہ کہ تمام شہری حکومتی ضوابط کی پابندی کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے۔ اس طرح ان کا م لک اس خطرناک بیماری سے بہت جلد پاک ہوگیا۔ لیکن پوری دنیا اس خطرناک وائرس کے اثرات سے بچ نہ سکی۔ اگرچہ کہ ویکسین کی تیاری کا کام بہت تیزی سے کیا گیا،
خاص طور پر برطانیہ اس کوشش میں سب سے زیادہ فعال رہا اور یوں ویکسین کی شروعات 8 ڈسمبر 2020 کو برطانیہ ہی سے ہوئی اور پھر یوروپ کے تمام ملکوں نے بھی اس کی سربراہی شروع کردی۔ جرمنی میں اس وقت یہ اطلاع منظر عام پر آئی جب جنوبی جرمنی کے ایک شہر میں کوئی شخص کورونا سے متاثر ہوا۔ تب پوری جرمن دنیا متحرک ہوگئی۔ جرمنی ایک احتیاط پسند اور حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنے والا ملک ہے۔
جہاں ہر شہری قاعد سے قانون پر عمل کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے یہاں تک کہ غیر ملکی بھی اس ماحول میں اس حد تک ڈھل چکے ہیں کہ جیسے وہ اسی ملک کے باشندے ہوں۔ تاہم وائرس کے موذی اثرات سے جرمنی بھی بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔ مرض کے اثرات سے لاکھوں زندگیاں جہاں متاثر ہوئیں وہیں ہزاروں انسان ز۔دگی کا آخری سفر طے کرچکے ہیں، حالانکہ ویکسین دینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی گئی۔ حفاظتی ضابطے تو گویا ہر انسان پر پہرے دار کی طرح مسلط ہیں۔
ماسک لگانے کے لئے کوئی فرد ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا اور اب تو یہ عادت سی بن گئی ہے۔ علاوہ اس کے دو آدمیوں کے درمیان دیڑھ میٹر فاصلے کی پابندی تمام شہری بخوبی نبھاتے ہیں۔ مصافحہ اور گلے ملنا تو گویا بھولی بسری بات بن کر رہ گئی ہے۔ دفتری کام آن لائن انجام دیئے جاتے ہیں کیونکہ زیادہ آدمیوں کے اکٹھا ہونے سے بیماری کے پھیلاؤ کے امکانات ہیں۔
غرض تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کے باوجود بھی بیماری کی شدت سے جرمنی بچ نہ سکا لیکن اب اتنا عرصہ گذرنے کے بعد متاثر ہونے والوں کی تعداد میں دن بہ دن کمی ہوتی جارہی ہے تو یہ ایک نیک شگون کہا جاسکتا ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ویکسین انسانوں کی جانیں بچانے میں بہت مددگار ثابت ہوئی ہے۔
گزشتہ چھ ماہ سے ویکسین دینے کا عمل جاری ہے اور شہری اس سے مستفید ہو رہے ہیں، لیکن معمول کے معمولات بحال ہونے میں ابھی کچھ وقت اور لگے گا۔ اس وقت عارضی طور پر لاک ڈاون ختم کردیا گیا اور یوروپی باشندے چھٹیوں پر جانے کی تیاری کررہے ہیں۔ چونکہ گزشتہ سال وائرس کے مضر اثرات کی وجہ سے سفر پر پابندی لگادی گئی تھی، لیکن اب بیماری پر کسی قدر قابو پالیا یا ہے تو سفر پر روانہ ہونے والوں کی کمی نہیں،
چنانچہ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یوروپی یونین کے 27 ممالک اپنی سرحدیں کھولنے پر آمادہ ہوگئے ہیں جو کورونا کی وجہ سے بند کردی گئی تھیں اور یوں یوروپی شہریوں کو آزادی سے سفر کرنے کا موقع مل رہا ہے، لیکن شرط یہ رکھی گئی ہیکہ جن افراد کے پاس ’’گرین سرٹیفکیٹ‘‘ یا کورونا پاس ہوگا صرف وہی سفر پر روانہ ہوسکتے ہیں۔ اس دستاویز کا اجرا عنقریب حکومتوں کی طرف سے ہونے والا ہے اور وہ ایسے افراد کو دیا جائے گا جو ویکسین لے چکے ہیں اور اس کا سرٹیفکیٹ پیش کرسکتے ہوں۔
اسی طرح کی کچھ اور پابندیاں ہیں جو بیماری سے تحفظ کے لئے لگائی گئی ہیں۔ یہ کہ سیاح کو صرف انہیں اپارٹمنٹس میں رہنے کی اجازت ہے جو چھٹیوں کے لئے مخصوص ہیں۔ ہوٹلوں میں رہنے کی انہیں قطعی اجازت نہیں ہے۔ علاوہ اس کے کھانے کے لئے ریسٹورنٹس میں بیٹھنے کی بھی ممانعت ہے۔ عجائب گھر اور میوزیم میں داخلہ تک ممنوع ہے پھر ہر روز کورونا ٹسٹ کروانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اتنی تمام پابندیوں کے باوجود ہر یوروپی شہری سفر کرنے کے لئے دن گن رہا ہے۔
بحرکیف اس وقت سفر سے پابندیاں اٹھانے کی وجہ یہ ہیکہ پتہ چلے کہ وائرس دوبارہ شدت اختیار کرتے ہیں یا فضا معمول پر آجاتی ہے۔ گویا یہ ایک آزمائشی منصوبہ ہے جس کے بہتر نتائج کا پوری یوروپی دنیا انتظار کررہی ہے اور سیاحت کے شوقین انسانوں کے لئے یہ ایک انتہائی خوشی کا موقع ہے کیونکہ ابھی تک جو اکتاہٹ اور گھٹن کی سی کیفیت طاری تھی وہ دوبارہ بحال ہو جائے گی۔ علاوہ اس کے حکومتوں کے لئے بھی یہ ایک امید افزا موقع ہے چونکہ دوران وائرس سب سے زیادہ نقصان سفر اور سیاحت کے محکموں کا ہوا ہے۔
ہوائی اڈوں اور فضائی سفر سے متعلقہ تمام شعبوں کی آمدنیوں میں بے انتہا کمی ہوئی ہے جس کا تخمینا اربوں یوروس لگایا جارہا ہے ۔ اس کا اثر ملک کی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ حکومتیں چاہتی ہیں کہ یہ محکمے جلد سے جلد فعال ہو جائیں تاکہ گزشتہ دیڑھ سال سے ہوئے نقصانات کا کچھ ازالہ ہوسکے۔ حالیہ ہوائی سفر کو کامیاب بنانے کے لئے کچھ احتیاطی طریقے شروع کئے گئے ہیں جس سے مسافرین کو تحفظ تو ملے گا لیکن انہیں کچھ تکلیف اور گھٹن بھی محسوس ہو سکتی ہے۔
ظاہر ہے سفر کے دوران آپ کے منہ پر حفاظتی ماسک کسا ہوا ہو۔ جراثیم کش سیال سے بار بار ہاتھ صاف کرنے پڑیں۔ سیٹوں کے اطراف شیشہ فٹ کردیا گیا ہو، یوں جیسے ٹیلی فون بوتھ میں بند بیٹھے ہوں۔ خواہ سفر جتنا بھی طویل ہو آپ کو اسی کیبن میں بیٹھنا ہے۔ اسی طرح کی اور بھی پابندیاں ہیں جس کو جھیلتے ہوئے سفر طے کرنا ہے۔ جو شاید بوریت کا باعث بن سکتی ہیں۔
یہ ساری کوششیں محض اس لئے کی جارہی ہیں کہ وائرس کے پھیلاؤ میں کمی ہو۔ اگر مسافرین صحت مند رہیں تو یقینا ان کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور یوں فضائی شعبوں کی گرتی معیشت کو بہت سہارا ملے گا۔ اس وقت تک تو معیشت جمود کا شکار ہے۔ بحرکیف ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ مستقبل میں بیماری کا موقف کیا ہوگا
کیونکہ ابھی تک محققین کی آرائین واضح طور پر سامنے نہیں آئی ہیں جس کے بھروسے پر کہا جائے کہ دنیا کی فضا بہت جلد پاک ہو جائے گی اور اہم بات تو یہ ہیکہ ہر روز کسی نئی بیماری کے آغاز کی اطلاع منظر عام پر آتی ہے۔ اب اس امید و بیم سے گذرنے والا انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہیکہ وہ دنیا کا کونسا کونا تلاش کرے جہاں بیماریوں سے عافیت ملے گی اور وہ وقت کب آئے گا۔



