نئی دہلی ،24ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بھاجپا کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ سی بی آئی اور ای ڈی اب پنجرے کے طوطے نہیں بلکہ اب قانون کی زیور بن ہے۔ جو بغیر کسی دباو اور تعصب کے فرائض انجام دے رہی ہے۔آپ کو بتاتے چلیں کہ مئی 2013 میں کوئلہ بلاک الاٹمنٹ گھوٹالہ معاملے میں سی بی آئی کی تحقیقات کی پیش رفت رپورٹ میں حکومت کی مداخلت پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے حکومت اور تحقیقاتی ایجنسی دونوں کی سخت سرزنش کی تھی۔
عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ سی بی آئی پنجرے میں بند طوطا بن گئی ہے جو اپنے مالک کی بات کہتی ہے۔ یہ ایک ایسی غیر اخلاقی کہانی ہے جس میں ایک طوطے کے کئی مالک ہوتے ہیں۔جمعہ کو اتر پردیش کے مراد آباد اور رام پور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے، سابق مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے حکومت پر تحقیقاتی ایجنسیوں کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سوالات اٹھانے والے خود غلط کام کرنے کے کٹہرے میں ہیں۔
نقوی نے کہا کہ یہ کرپشن کے چمپئن آج مشکل میں ہیں، اس لیے ایجنسیوں کیخلاف بے بنیاد بیانات دے رہے ہیں۔کیرالہ میں پی ایف آئی کے پرتشدد مظاہرے کے بارے میں سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ پی ایف آئی جیسی کچھ تنظیمیں ملک میں ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی مجرمانہ اور فرقہ وارانہ سازش میں ملوث ہیں۔ ایسے مذموم عناصر کو شکست دینے کے لیے ہم سب کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ نقوی نے کہا کہ جو لوگ مذہب کو اپنی حفاظتی ڈھال کے طور پر غلط استعمال کر رہے ہیں وہ برادری، ملک اور پوری انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔



