جنگ بندی معاہدہ: حماس نے 17 یرغمالی رہا کر دیئے، اسرائیلی جیلوں سے مزید 39 فلسطینی آزاد
تھائی لینڈ کے باشندے اسرائیل میں زراعت کے شعبے میں مزدوری کرتے ہیں۔
غزہ ،27نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) حماس نے اسرائیل کے ساتھ عارضی جنگ بندی معاہدے کے تحت تیسرے روز مزید 17 یرغمالی رہا کر دیے ہیں جن میں امریکہ کی شہریت رکھنے والی چار سالہ بچی سمیت 14 اسرائیلی شہری شامل ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی جیلوں سے 39 فلسطینی قیدیوں کو رہائی ملی ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان عارضی جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد جاری ہے۔ معاہدے کے تحت تیسرے دن دونوں جانب سے لوگوں کو رہا کیا گیا ہے۔اتوار کو رات گئے حماس نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے لگ بھگ 240 افراد میں سے مزید 17 افراد کو رہا کیا ہے۔
قبل ازیں حماس نے جمعے کو 24 یرغمالوں کو رہا کیا تھا جن میں 13 اسرائیلی، تھائی لینڈ کے 10 باشندے اور فلپائن کا شہری شامل تھے۔ پھر ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب حماس نے 17 یرغمال افراد رہا کیے جن میں تھائی لینڈ کے چار اور 13 اسرائیلی شہری شامل تھے۔ اب اتوار کو مزید 17 یرغمالیوں کو واپس اسرائیل بھیجا گیا ہے جن میں تین تھائی لینڈ لے باشندے شامل ہیں۔تھائی لینڈ کی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس کے 17 شہریوں کو اب تک رہائی مل چکی ہے۔تھائی لینڈ کا کہنا ہے کہ اس کے 15 شہری اب بھی یرغمال ہیں جن کی واپسی کے لیے کوشش کی جا رہی ہے۔
تھائی لینڈ کے باشندے اسرائیل میں زراعت کے شعبے میں مزدوری کرتے ہیں۔ ان کو اسرائیل میں کھیتی باڑی سے اپنے ملک کے مقابلے میں زیادہ آمدن ہوتی ہے اس لیے وہ یہاں کا رخ کرتے ہیں۔اسرائیل نے معاہدے کے تحت تین دنوں میں 117 قیدیوں کو جیلوں سے رہا کیا ہے۔ اسرائیل روزانہ 39 قیدیوں کو رہا کرتا ہے۔ اسرائیلی جیلوں سے رہا ہونے والے افراد میں خواتین اور بچے شامل ہیں جن کے مغربی کنارے پہنچنے پر استقبال کیا جا رہا ہے۔اسرائیل نے جن فلسطینیوں کو رہا کیا ہے ان میں زیادہ تر کی عمر 15 سے 19 برس کے درمیان ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے امن عامہ کو خراب کیا جب کہ بعض پر اسرائیلی فورسز پر پتھراؤ یا اہلکاروں کو نقصان پہنچانے کے الزامات ہیں۔معاہدے کے تحت چار روزہ جنگ بندی کے دوران حماس نے مجموعی طور پر 50 یرغمالی جب کہ اسرائیل کو 150 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنا ہے۔
معاہدے کے مطابق حماس تین فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے ایک یرغمالی کو رہا کرے گی۔واضح رہے کہ حماس نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کر کے تل ابیب حکام کے مطابق 1200 افراد کو ہلاک اور 240 کو یرغمال بنا لیا تھا۔ اسرائیل کی جوابی کارروائی اور ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی جنگ میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 13 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔ادھر جنگ بندی کے دوران غزہ کے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے والے متاثرین واپس اپنے علاقوں میں لوٹ آئے ہیں جہاں بعض فلسطینی منہدم املاک سے اپنا بچا کھچا سامان نکال رہے ہیں۔
‘اے پی’ کے مطابق اتوار کو زیادہ تر یرغمال افراد کو براہ راست اسرائیل کے حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔ ان یرغمال افراد کو جب اسرائیل میں ایک فوجی اڈے پر لایا گیا تو وہاں موجود مجمعے نے خوشی میں تالیاں بجائیں اور ان افراد کا استقبال کیا۔اسرائیل کی فوج کے مطابق رہائی پانے والی ایک خاتون کو غزہ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے براہ راست اسرائیل میں اسپتال منتقل کیا گیا۔طبی حکام کا کہنا ہے کہ اسپتال منتقل کی گئی 84 سالہ ایلما اوراہم ہیں جن کو کئی دن تک بہتری طبی سہولیات میسر نہیں تھیں جس کے سبب ان کی حالت تشویش ناک ہے۔حماس نے جن یرغمال افراد کو رہا کیا ہے ان میں ایک چار سالہ بچی بھی شامل ہے جو کہ امریکہ کی بھی شہری ہیں۔ معاہدے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ حماس نے کسی امریکی شہریت رکھنے والے فرد کو رہا کیا ہے۔ یہ چار سالہ بچی اتوار کو رہائی پانے والی کم عمر ترین یرغمالی تھیں۔
اہل غزہ کو اب قحط کاسامنا،بعض کے پاس ایک دن کی خوراک باقی رہ گئی
غزہ،27نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ بیماری اور قحط کا خطرہ غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کا محاصرہ کر رہا ہے۔غزہ کی پٹی کے اندر بے گھر ہونے والے 17 لاکھ فلسطینیوں کو وبائی امراض کے بڑے پھیلاؤ کے خطرے کا سامنا ہے۔مشرقی بحیرہ روم کے لیے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد المنظری کے الفاظ میں عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا کہ اعداد و شمار پریشان کن اور خوفناک ہیں کہ غزہ میں قحط پڑ سکتا ہے۔ ڈاکٹر احمد المنظری نے نشاندہی کی کہ غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والی امداد بہت کم ہے اور کراسنگ کو بغیر کسی شرط کے کھولا جانا چاہیے۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ کی تقریباً 80 فیصد آبادی اندرونی طور پر بے گھر ہو چکی ہے۔ تقریباً ایک ملین بے گھر افراد پٹی کے وسطی اور جنوبی حصوں میں 99 سہولیات میں مقیم ہیں۔ پناہ گاہوں میں صفائی کے ناقص حالات ہیں۔
زیادہ بھیڑ نے سانس کے شدید انفیکشن، جلد کی سوزش اور حفظان صحت سے متعلق حالات جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔عالمی ادارہ صحت نے غزہ کی پٹی میں سانس کے شدید انفیکشن کے 70,000 سے زیادہ کیسز اور اسہال کے 44,000 کیسز سے آگاہ کیا ہے۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی ان کیسز کی تعداد مزید بڑھ جانے کا امکان ہے۔جنوب میں پناہ گاہوں کے اندر جگہ کی شدید قلت ہے۔ کچھ بے گھر مردوں اور لڑکوں کو پناہ گاہوں سے باہر رہنا پڑ رہا ہے۔ کچھ نے سکول کے صحن یا سڑکوں کو رہائش گاہ بنایا ہے۔ کم درجہ حرارت کی وجہ سے انفکشنز کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ بڑے پیمانے پر قحط اور خوراک کی کمی نے لوگوں کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ غزہ کے باشندے زندہ رہنے کے لیے دن میں صرف ایک وقت کا کھانا کھا رہے ہیں۔



