قومی خبریں

بھارت میں 15 سال بعد مردم شماری کا آغاز، حکومت کا نوٹیفکیشن جاری

بھارت میں نئی مردم شماری کی تیاری، حکومت نے تاریخیں طے کر دیں

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پیر کے روز ملک کی 16ویں مردم شماری 2027 کے لیے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس مرتبہ مردم شماری کے ساتھ ساتھ ذات پر مبنی مردم شماری کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ یہ مردم شماری دو مرحلوں میں مکمل کی جائے گی اور یہ بھارت میں 1872 کے بعد 16ویں اور آزادی کے بعد آٹھویں مردم شماری ہوگی۔ گزشتہ مردم شماری 2011 میں ہوئی تھی، جو اب تقریباً 16 سال بعد ہونے جا رہی ہے۔ 2021 میں مردم شماری ہونی تھی، لیکن کورونا وبا اور دیگر وجوہات کے سبب تاخیر ہوئی۔

وزارت داخلہ کے مطابق اس مردم شماری میں تقریباً 34 لاکھ شمار کنندگان، سپر وائزرس اور 1.3 لاکھ مردم شماری افسران کو تعینات کیا جائے گا۔ اس بار موبائل ایپ کے ذریعے ڈیٹا جمع کیا جائے گا اور عوام کو خود سے اپنی معلومات درج کرنے کی سہولت بھی دی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مردم شماری سے متعلق معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے سخت ڈیٹا سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق، مردم شماری کی ریفرنس تاریخ پورے ملک میں یکم مارچ 2027 ہوگی، تاہم برف پوش علاقوں جیسے لداخ، جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں یہ تاریخ موسم کی وجہ سے یکم اکتوبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔اس پوری کارروائی کو مکمل ہونے میں تقریباً 21 مہینے لگیں گے، اور تفصیلی نتائج سال کے آخر تک جاری کیے جائیں گے۔ نوٹیفکیشن سرکاری گزٹ میں شائع کر دیا گیا ہے، اور اس سے پہلے امیت شاہ نے دہلی میں اعلیٰ افسران کے ساتھ تیاریوں کا جائزہ بھی لیا۔

مرکزی حکومت نے پہلی بار مردم شماری میں ذات (Caste) پر مبنی ڈیٹا جمع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کا مطالبہ کئی ریاستوں کی طرف سے کیا جا رہا تھا۔ اس سے بھارت کی سماجی و اقتصادی ساخت کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی اور پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button