آر بی آئی کی کارروائی کے بعد دو کوآپریٹیو بینکوں پر لگا تالا، متعدد لوگوں کی رقم ڈوب گئی!
مرکزی بینک آر بی آئی نے دو کوآپریٹو بینکوں پر کارروائی کرتے ہوئے ان کے لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے
نئی دہلی ،12جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) مرکزی بینک آر بی آئی نے دو کوآپریٹو بینکوں پر کارروائی کرتے ہوئے ان کے لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ آر بی آئی صارفین کے تحفظ کے پیش نظر متعدد بینکوں کے طریقہ کار پر نظر رکھتا ہے اور خامی پائے جانے پر کارروائی کرتا ہے۔ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے دو الگ الگ بیانات میں کہا کہ دو کوآپریٹو بینکوں کے لائسنس منسوخ کر دیئے گئے ہیں۔ بند ہونے والے بینک کرناٹک کے تمکور Tumkur میں واقع شری شاردا مہیلا سہکاری بینک Sri Sharada Mahila Co-operative Bank اور مہاراشٹر میں ستارا میں ہری ہریشور Harihareshwar Sahakari Bank بینک ہیں۔ریزرو بینک کا کہنا ہے کہ دونوں بینکوں کے پاس کام جاری رکھنے کے لیے ضرورت کے مطابق سرمایہ نہیں تھا۔
اس کے علاوہ دونوں بینکوں کے لیے کمائی کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ ایسے حالات میں ان کے لائسنس منسوخ کرنا ضروری تھا۔آر بی آئی نے کہا کہ ہری ہریشور کوآپریٹیو بینک کے کاروبار کو بند کرنے کا حکم 11 جولائی 2023 سے نافذ ہو گیا ہے۔ خیال رہے کہ بینکوں میں صارفین کی 5 لاکھ روپے تک کی جمع رقم محفوظ ہے، کیونکہ ڈپازٹ انشورنس اور کریڈٹ گارنٹی کارپوریشن کے پاس اس رقم کا بیمہ ہے۔ جن کی جمع رقم 5 لاکھ روپے سے زیادہ ہے، ان کی اس حد سے زیادہ رقم ضائع ہو جاتی ہے۔ریزرو بینک کے مطابق، ہری ہریشور سہکاری بینک کے 99.96 فیصد جمع کنندگان کو ان کی کل رقم ڈی آئی سی جی سی سے ملے گی۔ اس بینک کے صارفین نے 8 مارچ 2023 تک ڈی آئی سی جی سی سے 57.24 کروڑ روپے وصول کیے ہیں۔ دوسری طرف، شری شاردا مہیلا سہکاری بینک کے معاملے میں، تقریباً 97.82 فیصد جمع کنندگان کو ڈی آئی سی جی سی سے مکمل رقم کی واپسی ملے گی۔
ڈی آئی سی جی سی نے 12 جون 2023 تک اس بینک کے صارفین کو 15.06 کروڑ روپے واپس کر دیئے ہیں۔ریزرو بینک نے کہا ہے کہ لائسنس کی منسوخی کے بعد دونوں بینکوں پر بینکنگ سے متعلق تمام سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ بینک اب صارفین سے کسی قسم کے ڈپازٹ نہیں لے سکتے۔ ریزرو بینک نے کوآپریٹیو کمشنر اور کوآپریٹو سوسائٹیز کے رجسٹرار سے بھی کہا ہے کہ وہ متعلقہ بینکوں کے کام کو روکنے کا حکم جاری کریں۔ اس کے ساتھ ہی کمشنر کو بینکوں کے لیے لیکویڈیٹر مقرر کرنے کی بھی ہدایت دی گئی



