
کہا،’ یہ طاقت کی تقسیم کے وضع شدہ اصول کی خلاف ورزی ہے‘
حیدرآباد؍نئی دہلی،27ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے پیر کو وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمنٹ کی نئی عمارت اور جائے عمارت کے معائنہ جاتی دورہ پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اویسی نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق آئین کا بنیادی ڈھانچہ ہے۔اختیارات کی تقسیم کا اصول واضح کرتا ہے کہ ایگزیکٹو عدلیہ اور مقننہ کی سرگرمیوں میں مداخلت نہیں کر سکتا،وزیراعظم اسی ایگزیکٹو کا حصہ ہیں۔
اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں
حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے مزید کہا کہ اگر وزیراعظم اکیلے جائیں، اور پارلیمنٹ ہاؤس کی تعمیر کا معائنہ کریں، تو میں اسے مکمل طور پر غلط سمجھتا ہوں۔ یہ واضح طور پر اختیارات کی تقسیم کے مرتب شدہ اصول کی خلاف ورزی ہے۔رکن پارلیمنٹ اویسی نے سوال کیا کہ لوک سبھا کا اسپیکر ایوان کا سرپرست ہے ، وہ اس دوران وزیر اعظم کے ساتھ کیوں نہیں تھے؟
اویسی نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کو نئی پارلیمنٹ کی عمارت کا دورہ کرنے کے لیے اکیلے نہیں جانا چاہیے تھا۔قابل ذکر ہے کہ اتوار کی رات تقریباً 8.45 بجے وزیر اعظم نریندر مودی اچانک نئی پارلیمنٹ کی عمارت ’سنٹرل وسٹا‘ کے تعمیراتی مقام پر پہنچے،یہاں پی ایم نے تقریباًایک گھنٹہ گزارا اورسنٹر ل وسٹا کے تعمیراتی کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے تحت پارلیمنٹ کی ایک نئی عمارت اور ایک نیا رہائشی کمپلیکس تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا اعلان ستمبر 2019 میں کیا گیا تھا،اس منصوبہ کا سنگ بنیاد وزیر اعظم مودی نے 10 دسمبر 2020 کو رکھا تھا۔



