آر ٹی ای ایکٹ کی شق کے خلاف دائردرخواست پر ہائی کورٹ نے حکومت سے جواب طلب کیا
نئی دہلی 22فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)حق تعلیم ایکٹ(آرٹی ای)جب منظورہواتواس کی روسے مدارس اورپاٹھ شالانشانے پرآنے والے تھے اورآگے چل کرمدارس کوچلانے کی گنجائش کم تھی ،
خطرے کوبھانپتے ہوئے اس وقت کی مسلم قیادت جس میں قانون کی ماہرشخصیت مولانا محمدولی رحمانی سرفہرست تھے، کی تگ ودوسے آرٹی ای سے مدارس کااستثناء کرایا گیا یعنی مدارس جانے والے بچے بھی اسکول جانے والے بچوں کے دائرہ میں آگئے ۔کیوں کہ آئین ہندہرقوم کواپنے مذہبی ادارے قائم کرنے اورچلانے کاحق دیتاہے،اس پرکسی بھی طرح کی پابندی یاجھول کواس حق کے خلاف سمجھاجاتاہے۔
اسی بنیاد پر اس وقت کی مرکزی حکومت نے مدارس اورپاٹھ شالائوں کااستثناء کیا۔اب پھرآوازاٹھ رہی ہے کہ اس استثناء کوختم کیاجائے۔دہلی ہائی کورٹ نے تعلیم کے حق قانون (RTE) 2009 کی شق کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست پر منگل کو مرکز اور دہلی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔
پی آئی ایل نے مدارس، ویدک پاٹھ شالوں اور مذہبی تعلیم دینے والے تمام تعلیمی اداروں کو آر ٹی ای کے دائرے میں لانے کی ہدایت مانگی ہے۔
جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس جیوتی سنگھ کی بنچ نے مرکزی حکومت اور دہلی حکومت سمیت تمام جواب دہندگان سے جواب طلب کیا اور معاملے کو 30 مارچ 2022 کو مزید سماعت کے لیے درج کیا۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ سیکشن 1(4) اور 1( 5) مدارس، ویدک پاٹھ شالوں اور مذہبی تعلیم دینے والے تعلیمی اداروں کی تعلیمی فضیلت سے انکار اور حق تعلیم ایکٹ 2009 کی متعلقہ سیکشنز من مانی، غیر معقول اور آئین کے آرٹیکل 14، 15، 16، 21، 21A کی خلاف ورزی پر مبنی ہیں۔
اشونی اپادھیائے نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی ہے جب سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سماعت سے انکار کر دیا تھا اور عرضی گزار کو ہائی کورٹ جانے کا مشورہ دیا تھا۔سپریم کورٹ نے کہا تھاکہ ہماری رائے ہے کہ عرضی گزار کو آئین ہند کے آرٹیکل 226 کے تحت درخواست دائر کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے، اور اس رٹ پٹیشن میں تمام نکات طلب کیے جائیں۔
درخواست گزار کو یہ رٹ پٹیشن واپس لینے اور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی اجازت ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ ہم نے معاملے کی خوبیوں پر کوئی رائے ظاہر نہیں کی۔درخواست گزار نے کہاہے کہ تعلیم کا حق ہر بچے کے لیے اسکول جانا لازمی قرار دیتا ہے، لیکن موثر مشترکہ نصاب فراہم نہ کرکے اسے مزید خراب کیا گیا ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کا حق صرف مفت اور لازمی تعلیم تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے سماجی، معاشی، مذہبی، ثقافتی پس منظر کی تفریق کے بغیر یکساں معیاری تعلیم تک بڑھایا جانا چاہیے، اس طرح تمام بچوں کے لیے مشترکہ نصاب کی ضرورت ہے۔
درخواست گزار نے کہاہے کہ 14 سال تک کی عام اور لازمی تعلیم ایک مشترکہ ثقافت کو فروغ دے گی، انسانی تعلقات میں عدم مساوات اور امتیازی اقدار کو کم کرے گی۔
یہ خوبیوں میں بھی اضافہ کرے گا اور معیار زندگی کو بہتر بنائے گا، نظریات کو بلند کرے گا، جو مساوی معاشرے کے آئینی فلسفے کو آگے بڑھاتے ہیں۔



