چندریان 3:لینڈر سے نکلنے والے روور کی ویڈیو ہوئی جاری
چندریان-3 سے ہوئی 31 ہزار کروڑ روپے کی ہوئی کمائی، کئی کمپنیاں نہال ہوگئیں
ہری کوٹا، 25اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرو نے جمعہ کو چھ پہیوں والے اور 26 کلو وزنی پرگیان روور کی چندریان 3 لینڈر سے نکلنے کا پہلا ویڈیو شیئر کیا۔ اس نے جمعرات سے چاند کی سطح پر حرکت شروع کر دی تھی۔جمعرات کی صبح، چندریان-3 کے لینڈر کے اترنے کے تقریباً 14 گھنٹے بعد، اسرو نے روور کے باہر نکلنے کی تصدیق کی۔ چندریان-3 کا لینڈر 23 اگست کو شام 6.4 بجے چاند پر اترا۔روور نے چاند کی سطح پر آتے ہی سب سے پہلے اپنے سولر پینل کھولے۔ یہ 1 سینٹی میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کرتا ہے اور اپنے اردگرد کے ماحول کو اسکین کرنے کے لیے نیویگیشن کیمرے استعمال کر رہا ہے۔ روور 12 دنوں میں لینڈر کے گرد آدھا کلومیٹر کا سفر کرے گا۔پرگیان روور کے دو پچھلے پہیے اشوکا ستون، ہندوستان کے قومی نشان اور اسرو کے لوگو کے ساتھ بنے ہوئے ہیں۔
جیسے ہی روور چاند پر اترا، اس کے پہیوں نے چاند کی سرزمین پر ان علامتوں کے نقوش چھوڑے۔ روور میں دو پے لوڈ بھی ہیں جو پانی اور دیگر قیمتی دھاتوں کی تلاش کریں گے۔جمعرات کو ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارے یعنی اسرو نے بھی لینڈنگ کی ویڈیو شیئر کی تھی۔
اس ویڈیو میں شروع میں چاند کی سطح پر لہر جیسا منظر دیکھا گیا، جیسے ہی یہ قریب پہنچا تو وہاں کئی چھوٹے بڑے گڑھے نظر آئے۔اسرو نے لینڈنگ کا ویڈیو بھی شیئر کیا تھا جمعرات کو ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارے یعنی اسرو نے بھی لینڈنگ کی ویڈیو شیئر کی تھی۔ اس ویڈیو میں شروع میں چاند کی سطح پر لہر جیسا منظر دیکھا گیا، جیسے ہی یہ قریب پہنچا تو وہاں کئی چھوٹے بڑے گڑھے نظر آئے۔چندریان 3 کو 14 جولائی کو آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا سے لانچ کیا گیا تھا۔ اسے چاند کی سطح پر اترنے میں 41 دن لگے۔ لینڈر بدھ کی شام 6 بجکر 4 منٹ پر چاند کے جنوبی قطب پر اترا تھا۔
… … and here is how the Chandrayaan-3 Rover ramped down from the Lander to the Lunar surface. pic.twitter.com/nEU8s1At0W
— ISRO (@isro) August 25, 2023
چندریان-3 سے ہوئی 31 ہزار کروڑ روپے کی ہوئی کمائی، کئی کمپنیاں نہال ہوگئیں
ہندوستان کے چندریان-3 نے چاند پر جھنڈے گاڑنے کے بعد پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ حیرانی اس بات کو لے کر سب سے زیادہ ہے کہ ہندوستان نے محض 615 کروڑ روپے کے خرچ میں چاند کے جنوبی قطب تک پہنچنے کا کارنامہ کیسے انجام دے دیا، حالانکہ روس اور امریکہ جیسے ممالک ایسا نہیں کر سکے۔ اب ایک اور حیران کرنے والی خبر سامنے آ رہی ہے۔ چندریان-3 کی کامیابی نے کئی کمپنیوں کی تجوریاں بھر گئی ہیں اور انھیں مالا مال کر دیا ہے۔دراصل شیئر مارکیٹ کے سرمایہ کار تقریباً ان سبھی شیئرس میں ہزاروں کروڑ روپے کی کھل کر سرمایہ کاری کر رہے ہیں جن کا براہ راست ایرواسپیس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ ہفتہ کے پہلے چار دنوں میں 13 اسپیس پر مبنی شیئرس کے گروپ کا جوائنٹ مارکیٹ کیپ تقریباً 31 ہزار کروڑ رپے سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ چندریان-3 کے لیے اِسرو کو اہم ماڈیول اور سسٹم کی سپلائی کرنے والی اسمال کیپ کمپنی سینٹم الیکٹرانکس کے شیئرس میں اس ہفتہ 26 فیصد کا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
اس ہفتہ اونٹیل، لنڈے انڈیا، پارس ڈیفنس اور بھارت ہیوی الیکٹرانکس کے شیئرس میں بھی دوہرے ہندسہ کی تیزی دیکھی گئی۔ وہیں اگر بات گودریج انڈسٹریز کے شیئرس کی کریں تو 8 فیصد کا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ گودریج ایرواسپیس، جو اِسرو کو کمپونینٹ کی سپلائی کرتی ہے، اس کی معاون کمپنی ہے۔ کمپنی نے بعد میں واضح کیا کہ گودریج ایرواسپیس کسی بھی طرح سے گودریج انڈسٹریز کی برانچ نہیں ہے۔بہرحال، ہندوستان کو چاند کے جنوبی قطب پر اترنے والا دنیا کا پہلا ملک بنانے میں کردار نبھانے والی کمپنیوں کی فہرست طویل ہے۔ لارسن اینڈ ٹوبرو (ایل اینڈ ٹی) مشن چاند میں سَب سسٹم کی مینوفیکچرنگ سے لے کر مشن ٹریکنگ تک شامل تھا، ڈیفنس پی ایس یو مشر دھاتو نگم نے تین فیز والے بھاری لفٹ لانچ کرافٹ ایل وی ایم 3 ایم 4 کے لیے اہم اشیاء کی سپلائی کی۔ پی ٹی سی انڈسٹریز نے پمپ انٹر اسٹیج ہاؤسنگ کی سپلائی کی اور ایم ٹی آر وکاس انجن اور ٹربو پمپ اور بوسٹر پمپ سمیت کرایوجینک انجن سَب سسٹم جیسے سامانوں کی سپلائی کی ہے۔
پارس نے چندریان-3 کے لیے نوی گیشن سسٹم کی سپلائی کی ہے جبکہ بی ایچ ای ایل نے ٹائٹانیم ٹینک اور بیٹری کی سپلائی کی۔ان میں سے کئی ہندوستانی کمپنیاں 447 ارب ڈالر کے گلوبل اسپیس مارکیٹ میں دنیا کی توجہ مرکوز کر سکتی ہیں۔ گگن یان، آدتیہ ایل 1، ایکس پی اوسیٹ، این آ?ئی ایس اے آر اور اسپیڈیکس جیسے اِسرو کے دوسرے آنے والے مشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سیمکو سیکورٹیز کے اپورو سیٹھ نے کہا کہ اسپیس اور ڈیفنس اسٹاک ایک میگا ٹرینڈ ہے جس پر سرمایہ کاروں کو آنے والے سالوں میں توجہ دینی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ایم ٹی اے آر ٹیکنالوجیز، بھارت الیکٹرانکس اور ہندوستان ایروناٹکس جیسے اسٹاک اپنی مضبوط آرڈر بک، مضبوط بنیادی باتوں اور سودیشی پروڈکشن پر ہندوستان کے بڑھتے فوکس کے سبب دلچسپی دیکھی جا رہی ہے۔



