بھوپال ، 21فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) آل انڈیا علمابورڈ کے ریاستی صدر قاضی سید انس علی ندوی نے کہا کہ لو َجہاد کے معاملات نہیں ہونے چاہئیں۔ اس سلسلے میں ریاست بھر میں نکاح پڑھانے والے قاضی کو ہدایت نامہ جاری کیے گئے ہیں۔
آل انڈیا علما بورڈ کی جانب سے کہا گیا کہ شادی کے وقت لڑکے اور لڑکی دونوں کے والدین موجود ہوتے ہیں۔ ریاست بھرسے کچھ شکایات ملی ہیں، ہم ان کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ نکاح پڑھانے والے قاضیوں سے اپیل ہے کہ اگر کوئی اس طرح نکاح کرنے آئے ،تو ایسا نکاح نہ پڑھائیں ،تاکہ ملک میں امن قائم رہے۔
انہوں نے کہا کہ شکایات موصول ہوتی رہی ہیں کہ دو مختلف مذاہب کے لوگ چھپ کر شادی کرتے ہیں، جس سے بعد میں ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے۔ قاضی انس نے خط میں لکھا ہے کہ والدین کی رضامندی اور موجودگی کے بغیر نکاح جائز نہیں۔ ضروری ہے کہ نکاح کی رجسٹریشن کے وقت ضروری کاغذات کی جانچ پڑتال کی جائے۔ مطمئن ہو کر ہی شادی کرنی چاہیے۔
قاضی انس نے کہا کہ بہت سے معاملات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لوگوں نے صرف نکاح کی رجسٹریشن کے لیے اسلامی طریقے سے نام تبدیل کر لیے ہیں۔ اس میں لڑکا اور لڑکی دونوں شامل ہیں۔ اسلامی نظام کے مطابق محض نکاح یا شادی کے مقصد سے کی جانے والی تبدیلی نہ تو مذہبی ہے اور نہ ہی اسے قانونی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔شادی کرنے والے قاضی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
آل انڈیا علماءبورڈ کے صدر نے کہا کہ ایسے معاملے میں ملوث ہونے کا مطلب قانون کی خلاف ورزی بھی ہو گا۔ ایسا شخص اپنی برادری کا بھی مجرم ہوگا۔ ایسے نکاح پڑھانے والے نکاح خوانوں (قاضیوں) کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اسلام صرف شادی کی خاطر مذہب تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔



