انسانی طرز زندگی میں تبدیلی فالج کی بڑی وجہ
فالج Paralysis دنیا بھر میں اموات اور معذوری کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے
فالج Paralysis دنیا بھر میں اموات اور معذوری کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے اور گزشتہ دنوں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ اس جان لیوا مرض کے 90 فیصد واقعات کی روک تھام ممکن ہوتی ہے۔ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ طرز زندگی میں چند چیزیں ہر 10 میں سے 9 فالج کے کیسز کا باعث بنتی ہیں اور لوگ چاہے تو اس سے باآسانی بچ سکتے ہیں۔ اس تحقیق میں ایسی 10 عام چیزوں کی شناخت کی گئی تھی جو فالج کا باعث بنتی ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ چند عوامل اور بھی ہیں جو اس جان لیوا مرض کا خطرہ بڑھاتے ہیں جن کی تفصیلات یہاں درج ذیل ہیں۔
روز مرہ کے معمولات نہ ہونا: ٹیکساس اے اینڈ ایم ہیلتھ سائنس سینٹر کالج آف میڈیسین کی ایک تحقیق کے مطابق ملازمت کے کوئی مخصوص اوقات نہ ہونا لوگوں میں جان لیوا فالج کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق انسانی جسم دن اور رات کے معمولات کا عادی ہوتا ہے جس کو ایک اندرونی گھڑی کنٹرول کرتے ہوئے بتاتی ہے کہ کب سونا، کب جاگنا، کھانا اور دیگر کام کرنے ہیں۔ تاہم جب کوئی شخص کبھی دن، کبھی رات میں کام کرتا ہے تو اس کی جسمانی گھڑی نیند اور کھانے کے معمولات میں غیر معمولی تبدیلی سے الجھن کا شکار ہوجاتی ہے اور مختلف مرض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
محققین کے مطابق اس طرح کے معمولات خون کی دماغ کو فراہمی متاثر ہونے سے ہونے والی فالج کی قسم کا خطرہ بڑھاتے ہیں جو زندگی بھر کے لئے معذور یاموت کا بھی باعث بن سکتا ہے۔
زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا: لندن کالج یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ اپنا زیادہ وقت ٹیلی ویژن، کمپیوٹر اسکرین یاویڈیو گیمز کھیلتے ہوئے گزارتے ہیں ان میں فالج کا خطرہ کافی زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق اسکرین کے سامنے روزانہ 4 گھنٹے گزارنا خون کی شریانوں کے مسائل میں اضافے کا سبب بنتا ہے جس کے نتیجے میں فالج سے موت کا خطرہ ہوتا ہے۔ محققین کے مطابق جسمانی سرگرمیوں سے دوری زندگی کے لئے خطرات بڑھاتی ہے اور کسی بھی سبب موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
بہت کم یا زیادہ نیند: بے خوابی اور حد سے زیادہ سونا دماغ تک جانے والے خون کی فراہمی کو روکنے کا باعث بن سکتا ہے۔ جرمنی کے ایسین یونیورسٹی ہاسپٹل کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ بہت کم یازیادہ نیند کی صورت میں فالج کا دورہ پڑ نے سے صحت یابی کا امکان بہت کم ہوجاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ایسے شواہد ملے ہیں جن کے مطابق نیند کے دوران نظامِ تنفس کے مسائل فالج کا خطرہ بڑھادیتے ہیں جبکہ بے خوابی بھی اس جان لیوا مرض کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ اس سے ریکوری کے امکانات بھی کم کرتی ہے۔
سرخ گوشت کا بہت زیادہ استعمال: جرمنی کی وروز برگ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ سرخ گوشت میں پائے جانے والے پروٹین دماغ تک خون پہنچانے والی شریانوں کے بند ہونے کا خطرہ بڑھادیتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جو لوگ سرخ گوشت کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں فالج کا خطرہ 47 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ تاہم محققین کا کہنا ہے کہ گائے یابکر ے کے گوشت کا استعمال ترک نہیں کرنا چاہئے تاہم اسے محدود ضرور دینا چاہئے اور خاص طور پر چربی سے پاک گوشت کو ترجیح دینی چاہئے۔
غذا خیال نہ رکھنا: امریکہ کی ٹفٹس یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق امراض قلب، فالج اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کے نتیجے میں ہونے والی لگ بھگ 50 فیصد اموات ناقص غذا کے استعمال کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔ تحقیق کے دوران امریکہ میں 2012ء میں اموات کی شرح کا جائزہ لیا گیا جن میں سے 45 فیصد افراد اوپر درج کئے گئے امراض کے نتیجے میں ہلاک ہوئے اور اس میں غذا کا کردار بہت زیادہ تھا۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ سب سے زیادہ اموات بہت زیادہ نمک کے استعمال کے نتیجے میں ہوئی جو کہ فالج، ہارٹ اٹیک یاذیابیطس کے مرض کی پیچیدگیوں کا باعث بنا۔ اسی طرح غذا میں گریوں کا استعمال نہ کرنا، پراسیس گوشت یعنی جنک فوڈ، مچھلی، سبزی، پھل کم کھانا جبکہ میٹھے مشروبات کو پسند کرنا بھی اموات کا خطرہ بڑھادیتا ہے۔
فشار خون یابلڈپریشر: بلڈپریشر کو خاموش قاتل کہا جاتا ہے اور یہ واقعی درست بھی ہے کیونکہ کسی شخص کو فشار خون کا مرض لاحق ہو تو ایسی علامات نہیں جس سے اس کے بارے میں جانا جاسکے۔ یہ مرض خون سپلائی کرنے والی شریانوں کو نقصان پہنچاتا ہے جس کے نتیجے میں دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، غذا میں نمک کا کم استعمال اور جسمانی طور پر زیادہ متحرک رہنا بلڈپریشر سے بچاؤ کا آسان نسخہ ہے اور فشار خون کو کنٹرول میں رکھنا فالج کا خطرہ 48 فیصد تک کم کردیتا ہے۔
ورزش سے دوری: اگر آپ اپنا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں تو مختلف امراض کے ساتھ ساتھ فالج کو بھی دعوت دے رہے ہوتے ہیں اور ہاں کسی بھی عمر کے فرد کو اپنا نشانہ بناسکتا ہے یعنی صرف بوڑھے افراد ہی اس کا شکار نہیں ہوتے۔ اگر آپ جسمانی طور پر زیادہ متحرک ہو تو فالج کا خطرہ ایک تہائی حد یعنی 36 فیصد تک کم کرلیتے ہیں۔
ناقص غذا: بہتر غذا کا استعمال عادت بنالینا فالج کے دورے کا خطرہ 19 فیصد تک کم کردیتا ہے۔ طبی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ غذا میں زیادہ فائبر، دالیں اور چربی سے پاک گوشت کا استعمال کرنا چاہئے جبکہ زیادہ چربی والی غذائیں اور میٹھے مشروبات کا کم از کم استعمال کرنا چاہئے۔
موٹاپا: موٹاپا اس وقت عالمی وباء بن چکا ہے جو خون کی شریانوں کے امراض سب سے بڑا سبب بھی ہے، اس وقت دنیا بھر میں 2.1 ارب افراد موٹاپے کے شکار ہیں اور شریانوں کے امراض کے خطرے کے باعث فالج کا امکان بھی بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ جسمانی وزن میں معمولی کمی لاکر بھی اس جان لیوا مرض کے خطرے کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
تمباکو نوشی: سگریٹ یاتمباکو کے استعمال کو ترک کرے فالج کے خطرے کو 12 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے، درحقیقت تمباکو نوشی شریانوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور اس میں چربی اکھٹا ہونے لگتی ہے جو انجائنا، ہارٹ اٹیک یافالج کا باعث بنتی ہے۔
دل کے امراض: فالج کی دوقسمیں ہیں یعنی ایک جو خون کی سپلائی روکنے سے ہوتی ہے جو سب سے عام ہے جبکہ برین ہیمرج جس میں دماغی شریان پھٹ جاتی ہے۔ ایک صحت مند دل ان دونوں کی روک تھام کے لئے ضروری ہے اور ایسا ہونے پر 9 فیصد خطرہ کم ہوجاتا ہے۔
ذیابیطس: ذیابیطس ایسا مرض ہے جو لاتعداد بیماریوں کی جڑ ہے اور ان میں سے ایک فالج بھی ہے، ذیابیطس کے شکار افراد میں خون کی سپلائی میں رکاوٹ کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے جو فالج کا باعث بنتا ہ، جبکہ اپنے بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھ کر آپ موت یامعذوری کے سبب بننے والے فالج کے خطرے کو 4 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔
الکحل کا استعمال: الکحل کا استعمال بلڈپریشر کو بہت زیادہ بڑھادیتا ہے جس کا نتیجہ ہارٹ اٹیک یافالج کی شکل میں نکلتا ہے، جبکہ اس سے دوری اختیار کرکے آپ فالج کے خطرے کو 6 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔
تناؤ: آپ کی عمر جو بھی ہو ذہنی تناؤ فالج کا خطرہ بڑھاتا ہے خاص طور پر اگر بہت زیادہ تناؤ کے شکار ہوں، جس کی وجہ تناؤ کے شکار افراد کے طرز زندگی کا غیر صحت مند ہونا ہے یعنی تمباکو نوشی، جسمانی طور پر متحرک نہ ہونا وغیرہ۔ ذہنی طور پر خو ش باش رہنا فالج کا خطرہ 6 فیصد تک کم کردیتا ہے۔
کولیسٹرول: خون میں کولیسٹرول کی سطح شریانوں کے سکڑنے کا باعث بنتا ہے جس کے نتیجے میں دل کو خون کی سپلائی میں تعطل آتا ہے اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔



