چھاؤلہ اجتماعی عصمت دری کیس: ’جینے کی خواہش ہوئی ختم ‘، ملزمین کی رہائی سے متاثرہ کے والدین صدمہ میں
نئی دہلی، 8نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی کے چھاؤلہ علاقے میں 2012 میں ہوئے اجتماعی عصمت دری معاملے میں سبھی تین ملزمین کے بری ہونے پر لوگوں میں ناراضگی ہے۔ ملزمین کے بری ہونے کے بعد متاثرہ کے والدین صدمے میں ہیں۔ انھوں نے افسردہ لہجہ میں کہا کہ ہم نہ صرف جنگ ہار گئے ہیں، بلکہ ہماری جینے کی خواہش بھی ختم ہو گئی ہے۔متاثرہ کی ماں کا کہنا ہے کہ 11 سال بعد بھی یہ (رِہا کرنے کا) فیصلہ آیا ہے، ہم ہار گئے۔ میں امید کے ساتھ جی رہی تھی، لیکن اب میری جینے کی خواہش ختم ہو گئی ہے۔متاثرہ کے والد نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے عدلیہ پر ان کا اعتبار اٹھ گیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں دہلی کے چھاؤلہ اجتماعی عصمت دری معاملے میں سپریم کورٹ نے حیران کرنے والا فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت نے 2012 کے اجتماعی عصمت دری واقعہ کے تین قصورواروں کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔ حالانکہ اس سے پہلے دہلی ہائی کورٹ نے تینوں قصورواروں کو جانور تک قرار دیتے ہوئے پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ چیف جسٹس یو یو للت، جسٹس ایس رویندر بھٹ اور جسٹس بیلا ترویدی کی بنچ نے قصورواروں کو بری کرنے کا حکم دیا ہے۔دراصل 9 فروری 2012 کو دہلی کے چھاؤلہ علاقے سے اتراکھنڈ کی 19 سال کی لڑکی کا اغوا کر لیا گیا تھا۔
اس کی جلی ہوئی لاش 14 فروری کو ہریانہ کے ریواڑی کے ایک کھیت میں ملی تھی۔ اس معاملے میں تین ملزمین روی، راہل اور ونود پکڑے گئے تھے جنھیں 2014 میں ذیلی عدالت نے قصوروار پاتے ہوئے پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ اس معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے بھی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔ ساتھ ہی عدالت نے قصورواروں پر تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ وہ پرتشدد جانور ہیں جو سڑکوں پر شکار ڈھونڈتے ہیں۔



