قومی خبریں

چھندواڑہ میں ایک اور بچی کی موت، زہریلی کھانسی کی سیرپ سے اموات کی تعداد 19 تک پہنچی

زہریلی کھانسی کی سیرپ سے متاثر بچوں کی اموات

بھوپال :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مدھیہ پردیش کے ضلع چھندواڑہ میں زہریلی کھانسی کی سیرپ سے ایک اور بچی کی موت ہو گئی، جس کے بعد ریاست بھر میں اموات کی تعداد 19 تک پہنچ گئی ہے۔ مرنے والی بچی جیوشا، جناردیو علاقے کی رہنے والی تھی، جس کا علاج ناگپور کے جی ایم سی اسپتال میں جاری تھا۔ اسے ڈاکٹر پروین سونی کی نگرانی میں رکھا گیا تھا۔ صرف چھندواڑہ میں اب تک 16 بچوں کی جان جا چکی ہے، جب کہ پنڈھرنا اور بیتول اضلاع میں بھی بچوں کی اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔

ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت راجیندر شکلا نے بتایا کہ ریاست میں دو مزید ناقص کھانسی کے سیرپ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چھندواڑہ میں بچوں کی موت کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور اس پر سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔

ابتدائی طور پر کھانسی کے سیرپ کولڈریف پر پابندی لگائی گئی تھی، تاہم اب دو دیگر کھانسی کے سیرپ بھی ریاست بھر میں بند کر دیے گئے ہیں۔ شکلا نے بتایا کہ مرکزی حکومت کے رہنما خطوط کے مطابق چار سال سے کم عمر کے بچوں کو کھانسی کے سیرپ نہیں دیے جانے چاہئیں۔

ریاستی حکومت نے ہدایت دی ہے کہ کھانسی کے تمام سیرپ کی بوتلوں پر واضح طور پر “چار سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے استعمال نہ کریں” کا لیبل لگایا جائے۔ اس معاملے پر تمام پیڈیاٹرک ایسوسی ایشنز کے ساتھ مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔

وزیر صحت راجیندر شکلا نے مزید کہا کہ بچوں کی موت کا سبب بننے والا کھانسی کا سیرپ سرکاری سپلائی کا حصہ نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود حکومت یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ سیرپ مارکیٹ میں کیسے دستیاب ہوا۔ریاستی محکمہ صحت نے ہدایت دی ہے کہ اسپتالوں اور میڈیکل اسٹورز میں موجود تمام مشتبہ دوائیوں کی فوری جانچ کی جائے تاکہ مزید ہلاکتوں کو روکا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button