اپنا آٹو بیچا، بیٹے کو بچا نہ سکے — چھندواڑہ میں کھانسی سیرپ سے جاں بحق اسید کے والد کا دل دہلا دینے والا کربناک بیان”
مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ میں زہریلی کولڈ ریف سیرپ سے بچوں کی موت، متاثرین کے گھروں میں سوگ کی لہر
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مدھیہ پردیش کے ضلع چھندواڑہ میں زہریلی کولڈ ریف کھانسی کی سیرپ سے بچوں کی ہلاکت کے بعد متاثرہ خاندان غم و غصے میں مبتلا ہیں۔ جن والدین نے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے اپنی زندگی کے وسائل قربان کیے، اب ان کے لیے زندگی کا ہر لمحہ صدمے میں ڈوبا ہوا ہے۔ متاثرین فوری طور پر قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
3 سالہ اسید کے والد یاسین، جو ایک آٹو چلاتے تھے، آنکھوں میں آنسو لیے روتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اپنے بیٹے کے علاج پر انہوں نے تقریباً 3.5 لاکھ روپے خرچ کیے۔ علاج کے لیے ضروری ڈائیلاسز کرانے کے پیسے نہ ہونے کے باعث انہوں نے اپنا آٹو بیچ دیا، لیکن پھر بھی اپنے بیٹے کو بچا نہ سکے۔ یاسین کا کہنا تھا کہ صدمے کی شدت کی وجہ سے انہیں پوسٹ مارٹم کرانے کا مشورہ نہیں دیا گیا اور اب وہ اس کی خواہش بھی نہیں رکھتے۔ اسید کا علاج پہلے ڈاکٹر امان صدیقی کر رہے تھے، جنہوں نے کولڈ ریف سیرپ تجویز کی تھی۔
اسید کی والدہ اور دادی شدید صدمے میں ہیں۔ ان کے مطابق چار دن بعد، یعنی 10 اکتوبر کو اسید کی سالگرہ تھی، جس کے لیے پورا گھر پرجوش تھا۔ وہ دونوں بھائیوں کے لیے کیک کاٹنے کا منصوبہ بنا رہے تھے، لیکن اب وہ خواب خواب ہی رہ گیا۔
متوفی عدنان (5 سال) کے والد امین، جو پرسیا بلاک میں کسٹمر سروس سینٹر چلاتے ہیں، بھی غم سے نڈھال ہیں۔ امین بتاتے ہیں کہ مالی مشکلات کی وجہ سے انہوں نے اپنے بیٹے کے علاج کے لیے لوگوں سے ادھار لیا اور اپنی دکان تقریباً ایک ماہ کے لیے بند کر دی، کیونکہ وہ ناگپور میں علاج کے لیے گئے تھے۔
امین آنسوؤں کے ساتھ یاد کرتے ہیں کہ عدنان نے اپنی ماں سے آخری بار کہا تھا: "مجھے بچالو، گھر لے چلو”۔ عدنان کے والد اور دادا مجیب ملزمان کو مافیا قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف بلڈوزر کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ امین نے بھی اس وقت پوسٹ مارٹم نہیں کرایا تھا۔
زہریلی دوا لکھنے کے الزام میں گرفتار ڈاکٹر پروین سونی کو مقامی کمیونٹی سے حمایت حاصل ہے۔ پرسیا کے دیگر میڈیکل اسٹور مالکان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر سونی گزشتہ 40 سال سے پریکٹس کر رہے ہیں اور پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں ہوا۔ ان کا خیال ہے کہ غیر معیاری ادویات کی کھیپ اس حادثے کی اصل وجہ ہو سکتی ہے۔ڈاکٹر سونی کے پرائیویٹ کلینک کے قریب ان کی اہلیہ جیوتی کا ایک میڈیکل اسٹور ہے، جہاں کولڈ ریف سیرپ فراہم کیا جاتا تھا۔ بچوں کی ہلاکت کے بعد، کلینک اور میڈیکل اسٹور دونوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ موہن یادو نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور کہا کہ چھندواڑہ واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کولڈریف سیرپ کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی اور اسٹورز میں موجود اسٹاک کو ضبط کر لیا جائے گا۔
سی ایم یادو نے مزید کہا کہ ڈاکٹروں کی تمام تنظیموں بشمول انڈین ایسوسی ایشن آف پیڈیاٹرکس اور کیمسٹ ایسوسی ایشن کے تعاون سے ضروری احتیاطی اقدامات اور بیداری مہم چلائی جائے گی تاکہ اس طرح کے حادثات مستقبل میں روکے جا سکیں۔



