مفردات- چنا دوا بھی اور غذا بھی
حکیم محمد عدنان حبان نوادر-رحیمی شفا خانہ بنگلور
شاہ جہاں بادشاہ کو جب آگرہ قلعہ میں نظر بند کردیا گیا تو بادشاہ سے کہا گیا کہ ایک اناج پسند کرلیں، اس کے علاوہ دوسرا کوئی اناج نہیں دیا جائے گا۔ چنانچہ شاہی باورچی کے اشارہ پر شاہ جہاں نے چنے کا انتخاب کیا جس سے ہر قسم کا کھانا تیار کرنا ممکن تھا۔ دراصل چنا وہ واحد اناج ہے جس میں انسانی جسم کے لئے درکار تمام تر غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔ بطور غذا اور دوا اس کا استعمال زمانہ قدیم سے کیا جارہا ہے۔
مقام پیدائش: ہند وپاک میں بکثرت پایا جاتا ہے۔
مزاج: سبز چنا گرم تر درجہ اول، خشک چنا گرم خشک درجہ اول۔
خاص فائدہ: مقوی باہ مدربول۔ متبادل: لوبیا اور نرمس
مصلح: خشخاش زیرہ سویا اور گلقند۔
مضر: دیر ہضم ہے۔ خوراک: بقدرہضم
سب سے کم خرچ اور ایک مکمل غذا چنا ہے، جو دالوں کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔
ہمارے ہاں چنے کی دو قسمیں پائی جاتی ہیں سیاہ اور سفید، ویسے تو سرخ اور پیلے رنگ کے چنے بھی ہوتے ہیں لیکن طبی لحاظ سے سیاہ چنے سب سے زیادہ مفید و موثر ہیں، چنے استعمال کرنے کے مختلف طریقے ہیں، جیسے ان کو ابال کا کھانا، ان کو ریت میں بھون کر کھانالیکن ماہرین طب کا کہنا ہے کہ اس کے استعمال کا سب سے بہترین طریقہ اس کا شوربا ہے۔
اطباء کالے چنے کا شوربا مریضوں کیلئے تجویز کرتے ہیں، پکاتے وقت چنوں کو بار بار نہیں ہلانا چاہیے اسی طرح چنے کا پلاؤبھی اچھی غذا ہے چاول کے ہمراہ پکانے سے چنے چاول کی غذائی کمی کو دور کردیتے ہیں چنے کو گوشت کے ساتھ پکا کر بھی استعمال کیا جاتا ہے، گوشت کے ساتھ پکانے سے یہ گوشت کو گلا دیتے ہیں، چنے پکاتے وقت اس میں زیرہ ضرور ڈالیں اس طرح پیٹ میں ہوا پیدا نہیں ہو گی۔
برصغیر میں چنے کی یہ دو ہی قسمیں سیاہ وسفید پائی جاتی ہیں، بہرکیف چنا کالا ہو یا سفید دونوں ہی وٹامن اور معدنیات سے بھرپور غذا ہیں، ہندوپاک کے علاوہ یہ ترکی، آسٹریلیا اور ایران میں کثیر تعداد میں پیدا ہوتا ہے،چنا صرف ایک یا دو نہیں بلکہ متعدد طبی فوائد کا حامل ہے، اس میں فولاد، وٹامن بی 6، میگنیشیم، پوٹاشیم اور کیلشیم کافی مقدار میں موجود ہوتے ہیںجبکہ فاسفورس، تانبے اور میگنیز کی بھی خاصی مقدار ملتی ہے چنا بے شمار طبی فوائد کا حامل ہے، عام لفظوں میں یہ سب سے کم قیمت اور سب سے زیادہ فائدہ مند غذاؤں میں شمار ہوتا ہے۔
اس کا حلوہ تیار کرکے ضعف باہ کے مریضوں کو کھلاتے ہیں اس سے قوت مدافعت میں بھی اضافہ ہوتا ہے،بھنے کالے چنے جسمانی قوت بڑھانے کیساتھ ساتھ قوت مدافعت میں بھی اضافہ کرتے ہیں، اگر آپ چاہیں تو ان میں منقہ یا کشمش ملا کر بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
بھنے ہوئے چنے ضرور کھانے چاہیں یہ بہت فائدہ مند ہوتے ہیں، اسی طرح دودھ چنے میں تیار کردہ حریرہ آواز کھولنے کیلئے انتہائی مفید ہے، قدیم اور جدید غذائی تحقیق کے مطابق چنا غذائی اجزاء اور حیاتین یعنی وٹامنز سے بھرپور ہوتا ہے۔
ان خوبیوں کی بنا پر چنا نہ صرف غریبوں اور سفید پوش طبقہ کی غذا ہے بلکہ اسے بادشاہوں کی خوراک بھی کہا جاتا ہے، سلطنت مغلیہ میں یہ اچھی شہرت رکھتا تھا، مغل بادشاہ چنا اور اس کا آٹا استعمال کرتے تھے، بیسن دراصل بھنے ہوئے چنوں کا ہی آٹاہوتا ہے، اس سے روغنی روٹی تیار کی جاتی ہے۔
آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر بیسن کے روٹی کا کافی شوقین تھے، بادشاہوں کے علاوہ عوام الناس بھی چنے کو کثرت سے استعمال کیا کرتے تھے اور اس سے انواع و اقسام کے کھانے تیار کئے جاتے تھے۔
وزن کیلئے
چنے میں فائبر اور پروٹین کثیر مقدار میں ملتے ہیںپھر اس کا گلاسیمک انڈکس بھی کم ہے اسی وجہ سے چنا وزن کم کرنے کے سلسلہ میں بہترین غذا ہے کیونکہ عموماً ایک پلیٹ چنے کھا کر آدمی سیر ہوجاتا ہے اور پھر اسے بھوک نہیں لگتی، اس کی وجہ یہ ہے کہ چنے کے فائبر دیر تک آنتوں میں رہتے ہیں لہٰذا انسان کو بھوک محسوس نہیں ہوتی، تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ جو مرد اور عورتیںدو ماہ تک چنے کو اپنی بنیادی غذابنا لیں، وہ اپنا آٹھ پاؤنڈ وزن کم کرلیتے ہیں یاد رہے کہ ایک پیالی چنے عموماً پیٹ بھر دیتے ہیں۔
نظام ہضم کیلئے
اس میں موجود فائبر کی کثیر مقدار اسے نظام ہضم کے لیے بھی مفید بناتی ہے، یہ فائبر آنتوں کے دوست جراثیم یا بیکٹریا کو مختلف مفید تیزاب مہیا کرکے انہیں قوی بناتا ہے نتیجتاً وہ آنتوں کو کمزور نہیں ہونے دیتے اور انسان قبض و دیگر تکلیف دہ بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔
کولیسٹرول کیلئے
چنے کھانے سے کولیسٹرول میں بھی کمی واقع ہوتی ہے:جسم میں کولیسٹرول بڑھ جائے تو امراض قلب میں مبتلا ہونے اور فالج ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، چنے اپنے مفید غذائی اجزاء کی بدولت فطری انداز میں کولیسٹرول کی سطح کم کرتے ہیں، ایک تجربے میں ماہرین طب نے چند مردوں اور عورتوں کو ایک ماہ تک آدھی پیالی چنے کھلائے، جن کے بدن میں کولیسٹرول زیادہ تھا، ایک ماہ بعد ان کے کولیسٹرول میں نمایاں کمی دیکھی گئی دراصل چنے میں فولیٹ اورمیگنیشیم کی خاصی مقدار ملتی ہے، یہ وٹامن خون کی نالیوں کو طاقتور بناتے ہیں اور انہیں نقصان پہنچانے والے تیزاب ختم کرتے ہیںنیز حملہ قلب یعنی ہارٹ اٹیک کے خدشات بھی کم ہوجاتے ہیں۔
پروٹین کیلئے
چنے میں خاطر خواہ پروٹین ہوتاہے، اگر اسے کسی اناج مثلاً ثابت گندم کی روٹی کیساتھ کھایا جائے، تو انسان کو گوشت یا ڈیری مصنوعات جتنی پروٹین حاصل ہوتی ہے اور بڑا فائدہ یہ ملتا ہے کہ نباتی پروٹین زیادہ حرارے یا سیچوریٹیڈفیٹس نہیں رکھتی۔
شوگر کیلئے
چنے اور دیگر دالیں کھانے والے شوگر ٹائپ 2کا شکار نہیں ہوتے،وجہ یہ ہے کہ یہ غذائیں زیادہ ریشہ اور کم گلیسمک انڈکس رکھتی ہیں، اسی باعث ان میں موجود کاربوہائیڈریٹ آہستہ آہستہ ہضم ہوتے ہیں، اسی عمل کے باعث ہمارے خون میں شکر اوپر نیچے نہیں ہوتی اور متوازن رہتی ہے جبکہ انسان جب کم ریشے والی کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور غذا کھائے تو ا س کے خون میں شکر بہت تیزی سے اوپر نیچے ہوتی ہے جب یہ عمل معمول بن جائے، تو انسولین نظام گڑبڑا جاتا ہے یوں شوگر ٹائپ 2جنم لیتی ہے۔
ہڈیوں کیلئے
اسی طرح ہڈیوں کے لیے کابلی چنے بہت فائدہ مند ہیں،یہ کیلشیم سے بھرپور ہوتے ہیں اور کیلشیم ہڈیوں کے لیے سب سے اہم عنصر ہے، یہ ہڈیوں کو صحت مند بنانے اور انہیں مضبوط رکھنے میں مدد کرتے ہیں، جسم خود کیلشیم تیار نہیں کرتا ہے، اس لیے کیلشیم سے بھرپور غذائیں لی جاسکتی ہے۔
قوت و توانائی کیلئے
چنے میں شامل فولاد، مینگنیز اور دیگر معدن و حیاتین انسانی قوت بڑھاتے ہیں، اسی لیے چنا حاملہ خواتین اور بڑھتے ہوئے بچوں کے لیے بڑی مفید غذا ہے، یہ اُنہیں بیشتر مطلوبہ غذائیت فراہم کرتا ہے،مزید برآں چنا ساپونینز Saponins نامی فائٹو کیمیکل رکھتا ہے، یہ اینٹی آکسائڈ کا کام دیتے ہوئے خواتین کو سینے کے سرطان سے بچاتے ہیں نیز ہڈیوں کی بوسیدگی کے مرض سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔
قبض کیلئے
چنوں کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ ا نہیں کئی ماہ تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے اور ان کی غذائیت بھی کم نہیں ہوتی، ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں بھگونے کے بعد استعمال کیا جائے تو بہتر ہے یوں وہ جلد ہضم ہوجاتے ہیں، چنوں کو چار تا چھ گھنٹے بھگونا کافی ہے بھگونے کے بعد چنے جتنی جلد استعمال کیے جائیں بہتر ہیں، چنے بھگوتے ہوئے ا ن میں تھوڑا سا نمک اور میٹھا سوڈا ڈال لیا جائے تو وہ جلد گل جاتے ہیںدور حاضر میں رات کو پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ چنے کھانے کے بعدچنوں کا بچا ہوا پانی پینے والے لوگ پورے دن کی توانائی کے علاوہ قبض سے بھی نجات پالیتے ہیں۔
خون کیلئے
چنے کا پانی یا شوربا پیشاب آور اور قبض کشا ہے، یہ نہ صرف خون کو صاف کرتا ہے بلکہ اس کے کھانے سے چہرے کا رنگ نکھرتا ہے، بدن کو گندے اور فاسد مادوں سے پاک کرتا ہے، پھیپھڑوں کیلئے مفید غذا ہے گردے کی جالیوں کو صاف کرتا ہے۔
فربہی کیلئے
چنے کے کھانے سے بدن فربہ ہوجاتا ہے قدیم اطباء نے چنے کو بے حد مقوی قرار دیا ہے اس سے بدن میں صالح خون پیدا ہوتا ہے، بدن میں خاص قوت کو بڑھاتا ہے مغرب کی جدید تحقیقات نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے جدید تحقیق کے مطابق اناج میں سب سے زیادہ مقوی غذا چنا ہے ایک چھٹانک چنے میں دو سو چھ غذائی حرارے یعنی کیلوریز کی قوت ہوتی ہے چونکہ چنے میں وٹامن ای پایا جاتا ہے، اس وٹامن کی کمی سے مردوں میں خاص طاقت کم ہوجاتی ہے اولاد نہ ہونے تک نوبت جا پہنچتی ہے عورتوں میں بھی اندرونی اعضاکمزور ہوجاتے ہیں اور حمل گرنے کا اندیشہ ہوتا ہے حیرت انگیز طور پر طب یونانی اور طب جدید دونوں اس امر پر متفق ہیں کہ چنا مقوی غذا ہے اور ان نقصانات سے بچاتا ہے لہذا قوت باہ کیلئے چنے کا استعمال ایک کامل غذا کاکام دیتا ہے۔ چاہے اسے ابال کر کھائیں، اسے بھگو کر کھائیں یا اسے بھون کر استعمال کریں، ہر لحاظ سے ہی فائدہ مند ہے۔
کھانسی کیلئے
کھانسی کی صورت میں بھنے چنے کا استعمال بہترین ہے، بھنے کالے چنے دو چمچ، مصری ایک چمچ، کالی مرچ اور سفید مرچ آدھا آدھا چمچ لے کر پیس کر رکھ لیں،صبح ناشتے اور رات کھانے سے دو گھنٹے پہلے کھا لیں، ان شاء اللہ کھانسی ٹھیک ہوجائے گی اسی طرح بھنے چنے کا استعمال نہ صرف بڑوں بلکہ بچوں کے لئے بھی بہت نفع بخش ہے، اگر آپ اپنے بچے کی جسمانی قوت بڑھانا اور اسے بیماریوں سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو بچوں کو بھنے ہوئے چنے میں کشمش اور مصری و غیرہ ملاکر کھلا سکتے ہیں، بعض ماہرین طب نے چنے کے غذائی اجزا کو انڈے کی زردی کے برابر بھی قرار دیا ہے، چنے کو انڈے کی جگہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔



