بین ریاستی خبریںسرورق

شمال مشرقی ریاست کے وزیر اعلیٰ نے امیت شاہ کو لکھا خط

وزیر نہ ہندی سمجھتے ہیں نہ انگریزی، چیف سکریٹری کو تبدیل کیا جائے:

آئیزول ،09؍ نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)میزورم کے وزیر اعلیٰ پو زورام تھنگا Zoramthanga نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو لکھے خط میں ایک دلچسپ وجہ بتائی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مرکز کے حکم کو تبدیل کرتے ہوئے ریاست کے چیف سکریٹری کو تبدیل کیا جائے۔ میزورم کے سی ایم زورام تھنگا نے اپنے خط میں لکھاکہ ریاستی وزراء ہندی نہیں سمجھتے اور ان میں سے کچھ لوگ انگریزی بھی نہیں سمجھتے ہیں۔

ایسے میں ریاست کے چیف سکریٹری کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ انہیں میزو زبان کا علم نہیں ہے۔ اپنے خط میں وزیراعلیٰ نے ایڈیشنل چیف سکریٹری جے سی رام تھنگا کو رینو شرما کی جگہ نیا چیف سکریٹری مقرر کرنے کی درخواست کی ہے۔

این ڈی ٹی وی کے پاس اس خط کی ایک کاپی ہے جو وزیر اعلی زورام تھنگا نے 29 اکتوبر کو لکھی تھی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ چیف سکریٹری، گجرات کیڈر کے لالو نماویہ چواگو کی ریٹائرمنٹ کے بعد میں نے اپنے موجودہ ایڈیشنل چیف سکریٹری جے سی رام تھنگا کو نیا چیف سکریٹری بنانے کی درخواست کی تھی لیکن وزارت داخلہ نے رینو شرما کو نیا چیف سکریٹری مقرر کیا ہے۔

رینو اے جی ایم یو ٹی کیڈر کی 1988 بیچ کے آئی اے ایس افسرہیں اور مرکز نے انہیں 28 اکتوبر کو مقرر کیاہے اور یکم نومبر سے ریاست کے چیف سکریٹری کا عہدہ سنبھالا۔ اسی دن میزورم حکومت نے جے سی رام تھنگا کو یکم نومبر سے چیف سکریٹری کا عہدہ سنبھالنے کا حکم جاری کیا تھا۔

اس کی وجہ سے میزورم میں اب دو چیف سکریٹریز ہیں۔سی ایم زورام تھنگا نے اپنے خط میں لکھاکہ زیادہ تر میزو ہندی نہیں سمجھتے ہیں۔ میرے کابینہ کا کوئی وزیر ہندی نہیں سمجھ سکتا۔ یہاں تک کہ کچھ لوگوں کو انگریزی زبان کو سمجھنے میں پریشانی ہوتی ہے۔

ایسی صورتحال میں چیف سکریٹری جس کو میزو زبان کا علم نہیں ہے وہ موثر طریقے سے کام نہیں کر پائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اس کی وجہ سے حکومت ہند نے اس ریاست کے قیام کے بعد سے کبھی بھی کسی ایسے چیف سکریٹری کا تقرر نہیں کیا جسے میزو زبان کا علم نہ ہو۔

مرکز میں یو پی اے کی حکومت ہو یا این ڈی اے کی، یہ نظام ریاست میزورم کی تشکیل کے بعد سے جاری ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی ایسے چیف سکریٹری کی تقرری نہیں کی جاتی جو کام کرنے کی بنیادی زبان نہیں جانتے۔

اپنے خط میں زورام تھنگا نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ این ڈی اے کے قابل اعتماد اتحادی رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان کی درخواست پر غور کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button