شاملی میرٹھ ،8نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پیر کو ایک روزہ دورے پر کیرانہ پہنچے تھے۔ سب سے پہلے سی ایم یوگی نے وہاں ان ہندو خاندانوں سے ملاقات کی جو مبینہ طور پر کیرانہ چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ لیکن اب واپس آگئے ہیں۔
مبینہ متاثرین سے ملاقات کے دوران سی ایم یوگی نے اپنے پاس بیٹھی ایک لڑکی سے پوچھاکہ اب کوئی ڈر نہیں ہے،سب ٹھیک ہے نا ؟اس پر لڑکی نے اثبات میں سر ہلایا۔ سی ایم یوگی نے ان خاندانوں سے تقریباً 20 منٹ تک بات کی۔
اس دوران بی جے پی کے ریاستی صدر سواتنتر دیو سنگھ ، وزیر سریش رانا بھی موجود تھے۔وجے متل اور مولا پنساری کا اہل خانہ جو نقل مکانی کے بعد واپس لوٹ آئے ہیں ،سے ملاقات کے بعد سی ایم یوگی نے کہا کہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں سیاسی جرائم کا خمیازہ کیرانہ جیسے قصبے بھگت رہے ہیں۔
یہاں مبینہ طور پر ہندو تاجروں اور دوسرے ہندوو ¿ں پر تشدد کیا گیا اور انہیں یہاں سے بھاگنے پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2017 کے بعد جرائم پیشہ افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی کے بعد اس قصبے میں امن قائم ہواہے۔ کئی خاندان واپس آگئے۔
فرار ہونے والے زیادہ تر لوگ واپس آچکے ہیں اور حکومت نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت مجرموں کے خلاف جس پالیسی کے ساتھ کام کر رہی ہے وہ پالیسی بے تکان جاری رہے گی۔وزیراعلیٰ یو گی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ہر مظلوم سے ملنا ان کا’دھرم ‘ہے۔
یوگی نے کہا کہ میں ان خاندانوں سے ملنے آیا ہوں جنہوں نے پچھلی حکومت کے دوران پیشہ ور مجرموں کی وجہ سے اپنا گھر چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے مجرموں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ حکومت متاثرین کے لواحقین کو معاوضہ بھی دے گی، تاکہ وہ لوگ دوبارہ اپنے کاروبار کو آگے بڑھا سکیں۔
اس موقع پر سی ایم یوگی نے یوپی روڈ ویز بس اسٹینڈ سمیت 426 کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا۔



