نویں جماعت کی طالبہ نے بچہ کو جنم دیا، ہاسٹل وارڈن معطل
لڑکی کے پیٹ میں درد تھا اور اس کے والدین اسے اسپتال لے گئے۔
چکبالاپور :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) گورنمنٹ سوشل ویلفیئر ہاسٹل میں زیر تعلیم نہم ( 9)جماعت طالبہ کی ڈیلیوری کے واقعہ نے ہلچل مچا دی ہے۔ 8 ماہ کی حاملہ بچی نے اسپتال میں بچے کو جنم دیا۔ اس واقعہ کے سامنے آنے کے بعد حکام نے ہاسٹل وارڈن کو معطل کر دیا۔ پولیس نے پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
یہ واقعہ کرناٹک کے چکبالاپور میں پیش آیا۔تفصیلات کے مطابق کرناٹک کے ٹمکور ضلع کے چکبالا پور میں سوشل ویلفیئر ہاسٹل میں نہم جماعت میں پڑھنے والی 14 سالہ طالبہ نے شہر کے اسپتال میں ایک بچہ کو جنم دیا۔ اس واقعے کی وجہ سے ہاسٹل وارڈن کو حکام نے معطل کر دیا۔ لڑکی نے ایک سال قبل ہاسٹل جوائن کیا تھا جب وہ آٹھویں جماعت میں پڑھتی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ لڑکی کا 10 ویں جماعت کے لڑکے سےتعلقات تھے۔ دونوں ایک ہی اسکول میں زیر تعلیم ہیں۔ لڑکا دسویں جماعت کے بعد ٹی سی لے کر بنگلور چلا گیا۔ تاہم پولیس کی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی کہ لڑکی کچھ عرصے سے باقاعدگی سے کلاسوں میں نہیں جا رہی تھی اور اکثر اپنے رشتہ داروں سے ملنے جاتی تھی۔
اس کا گزشتہ سال اگست میں طبی ٹیسٹ بھی ہوا تھا۔ لیکن اس وقت تک لڑکی حاملہ نہیں ہوئی تھی۔ اس واقعہ کے بارے میں ٹمکور میں محکمہ سماجی بہبود کے جوائنٹ ڈائریکٹر کرشنپا ایس نے بتایا کہ لڑکی کا آبائی مقام باگے پلی قصبہ کاشاپورم ہے۔ لڑکی کے پیٹ میں درد تھا اور اس کے والدین اسے اسپتال لے گئے۔ اس وقت یہ معاملہ سامنے آیا۔ وہاں کے ڈاکٹروں نے معائنہ کیا تو پتہ چلا کہ لڑکی حاملہ ہے۔جنوری کو طالبہ کے پیٹ میں درد شروع ہوا،اسپتال لیجانے پر بچہ کو جنم دیا۔ڈاکٹروں نے بتایا کےبچے کا وزن کم ہے لیکن ماں اور بچہ صحت مند ہیں۔
اسپتال کے حکام نے پولیس کو مطلع کیا۔ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی نے لڑکی کی کونسلنگ کی تو لڑکی نے بتایا کہ ایک نابالغ لڑکا ہے جو ان کے اسکول میں زیر تعلیم ہےاس کے ساتھ جسمانی تعلقات تھے۔ لیکن تفتیش کے دوران لڑکے نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتا ، لڑکے نے کسی بھی غلط کام سے انکار کیا۔چونکہ لڑکی نے ایک اور طالب علم کا نام بھی بتایا ہے، پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ ذمہ دار کون ہے۔ پولیس نے بتایا کہ واقعے کے سلسلے میں کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے اور لڑکی کے والدین کی مشاورت کی جارہی ہے۔ پولیس نے انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) اور بچوں کے جنسی جرائم سے تحفظ کے قانون (پی او سی ایس او) کے تحت کیس درج کیا ہے،تحقیقات جاری ہیں۔تحقیقات کے بعد مکمل تفصیلات سامنے آئیں گی۔



