دہلی میں بچوں کی اسمگلنگ کا پردہ فاش، ملزم خاتون نے اپنے بیٹے کو بھی بیچ دیا۔
بچوں کو غیر قانونی گود لینے کے نام پر اسمگل کیا جاتا تھا
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ملک کی راجدھانی دہلی میں ریلوے پولیس نے بچوں کی اسمگلنگ کرنے والے ایک گروہ کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس معاملے میں چار لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس گینگ کی مرکزی ملزم 34 سالہ خاتون ہے، جو بچوں کو اغوا کرکے فروخت کرتی تھی۔خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اس نے نہ صرف دوسرے بچوں کو فروخت کیا بلکہ اپنے ہی بیٹے کو بھی پیسوں کے عوض بیچ دیا۔ ریلوے پولیس کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی پی) کے پی ایس ملہوترا نے بتایا کہ خاتون کو اس ماہ کے شروع میں نئی دہلی ریلوے اسٹیشن سے دو اغوا شدہ بچوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔
پوچھ گچھ کے دوران اس نے انکشاف کیا کہ وہ مالی مجبوریوں کی وجہ سے اپنے 15 ماہ کے بیٹے کو فروخت کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھی۔ یہی نہیں وہ اپنی کوکھ میں پلنے والے بچے کو بیچنے کا منصوبہ بنا رہی تھی۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ خاتون کی پہلی شادی 17 سال قبل مغربی بنگال کے شہر بردوان میں ہوئی تھی جس سے ان کے دو بیٹے تھے۔7 سال قبل اس کی طلاق ہوگئی اور پھر فرید آباد میں سورج نامی شخص سے شادی کی۔ اس شادی سے ان کے مزید دو بچے پیدا ہوئے جن میں سے ایک کی عمر چھ سال اور دوسرے کی عمر 15 ماہ تھی۔
دو سال قبل ملزم خاتون کی ملاقات فرید آباد کی ایک خاتون سے ہوئی جو خود کو ڈاکٹر کہتی تھی۔ اس نے عورت سے کہا کہ کیا وہ بے اولاد جوڑوں کے لیے بچوں کا بندوبست کر سکتی ہے۔ مالی بحران کا سامنا کرنے والی خاتون نے یہ پیشکش قبول کرلی اور اپنے چھ سالہ بیٹے کو 90 ہزار روپے میں فروخت کر دیا۔ بعد میں وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو بھی 2 سے 2.5 لاکھ روپے میں بیچنے کی کوشش کر رہی تھی تاکہ فرید آباد میں ایک چھوٹا سا مکان خرید سکے۔
پولیس کے مطابق یہ گروہ قانونی دستاویزات میں ہیرا پھیری کرتا تھا اور بچوں کو غیر قانونی گود لینے کے نام پر اسمگل کیا جاتا تھا۔ ملزم ڈاکٹر نے بچوں کو یتیم یا لاوارث قرار دے کر جوڑوں کے حوالے کرنے کی سازش رچی تھی۔
پولیس نے کہا کہ گینگ کوڈ ورڈز کا استعمال کرتا تھا اور پولیس کے نوٹس میں آنے سے بچنے کے لیے اکثر اپنے موبائل نمبر تبدیل کرتا تھا۔ تفتیشی ٹیم نے 700 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں سے فوٹیج کا مشاہدہ کیا اور مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کا پتہ لگایا۔ کیس میں گرفتار دیگر ملزمان میں ایک خاتون وکیل کی کلرک بھی شامل ہے جو گود لینے کی جعلی دستاویزات تیار کرتی تھی۔



