موسم برسات میں بچوں کو خاص احتیاط کی ضرورت ✍️مظہر حسین شیخ
ننھے منے بچوں کے لئے تو جیسے عید کا سماں ہوتا جہاں کہیں بارش کا کھڑا پانی دیکھتے کود پڑتے جبکہ گھروں میں طرح طرح کے پکوان تیار کئے جاتے تھے۔
ننھے منے دوست موسم گرما کے بعد نئے موسم سے لطف اندوز ہورہے ہیں، سیر تفریح کے پروگرام بن رہے ہیں، شمالی علاقہ جات جانے کا لطف ماہ اگست میں آتاہے جب حبس کا موسم ہو جسے بھادوں کہا جاتا ہے۔ موسم گرما کی تپتی دھوپ بالخصوص برسات کے دنوں میں حبس سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنا چاہئے اس موسم میں بیمار ہونے کا خطرہ رہتا ہے، ماہرین کے مطابق برسات کے دنوں میں خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
شدید گرمی اور دھوپ کے بعد جب ٹھنڈی ہوا کے ساتھ موسلادھار بارش ہوتو بارش میں نہانے کو دل چاہتا ہے موسم خوشگوارہوتو نہ چاہتے ہوئے بھی سونے کوجی چاہے گا،اگر بارش کے بعد سورج پھرآب وتاب سے چمکنے لگے پنکھے کی ہوامحسوس نہ ہو پسینہ خشک ہونے کا نام نہ لے حبس محسوس کریں تو اس کامطلب یہ ہے کہ برسات کا موسم بھادوں شروع ہو چکا ہے گو کہ ابھی ساون کا مہینہ نہیں آیا لیکن موسم کے تیور ساون جیسے ہی ہیں ،چند یوم بعد ساون کی یکم تاریخ ہوگی جبکہ دیسی مہینوں کے حساب سے موسم برسات ہوگا۔
موسم برسات میں ساون کے مہینے میں جب موسلادھار بارش ہوتو بغیر پنکھے کے بھی اچھی نیندآتی ہے جبکہ حبس کے دنوں میں پنکھے کی ہوا محسوس نہیں ہوتی پسینہ خشک نہیں ہوتا کچھ کھانے پینے کو جی نہیں چاہتااور یہ بھی حقیقت ہے کہ تیزبارش کے ساتھ ٹھنڈی ہواچل رہی ہوتوایسا اچھا موسم پورے سال میں دیکھنے کو نہیں ملتا،چار موسموں میں سے سب سے اچھا موسم برسات ہے اورناپسندیدہ موسم بھی برسات کا ہی ہے۔
آج کل بارشوں کاموسم ہے اگربارش کے ساتھ ٹھنڈی ہوا چل رہی ہو اس کا لطف ہی کچھ اور ہے اگر حبس ہو تو ایئرکنڈیشنڈ کے علاوہ کسی جگہ چین نہیں اور اسی موسم میں پیٹ ،معدے، اور گلے کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔چونکہ آجکل لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم ہوا ہے اوررات کو اچھی نیند آتی ہے ورنہ حبس کے موسم میں جب ضرورت سے زیادہ لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی نیند کوسوں دور رہتی جبکہ بارش کے دنوں میں نیند کا غلبہ طاری ہو جاتاہے اورنہ چاہتے ہوئے بھی سونا پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ بارش کا موسم ہر کوئی پسند کرتا ہے۔ ماضی میں لوگ موسم برسات کا خوب لطف اٹھاتے تھے،جب بھی موسلا دھار بارش ہوتی لوگ آموں کی پیٹیاں لئے تفریح گاہوں کا رْخ کرتے،کبھی تیز کبھی ہلکی بارش کا سلسلہ گھنٹوں جاری رہتا تھا،اب وہ برسات کہاں!
یہ اس وقت کی بات ہے جب ماحول آلودگی سے پاک تھا۔گاڑیوں کی اتنی بھرماراور نہ ہی اتنی زیادہ آبادی تھی،موسلا دھار بارشوں کا نہ رکنے والاسلسلہ تین چار روزتک جاری رہتا،لوگ اذانیں دیتے اور بارش ختم ہونے کی دْعا کرتے،بچے بارش میں بڑے شوق سے نہاتے اور لطف اندوز ہوتے تھے۔
ننھے منے بچوں کے لئے تو جیسے عید کا سماں ہوتا جہاں کہیں بارش کا کھڑا پانی دیکھتے کود پڑتے جبکہ گھروں میں طرح طرح کے پکوان تیار کئے جاتے تھے۔ پکوڑے، سموسے، حلوہ، پوڑا قیمے والے نان اور ایسی کئی چٹ پٹی اشیاء ہوتی تھیں جن کا سوچ کر منہ میں پانی بھر آتا ہے۔
اب نہ وہ برسات رہی اور نہ ہی خوش خوراک لوگ ، جب سے جدید دور میں داخل ہوئے ہیں سب کچھ بدل کر رہ گیا ہے یہاں تک کہ موسم بھی بدل گئے ہیں۔ پہلے لوگ موسم گرما میں چھت پر سونا پسند کرتے تھے اور آجکل چھتیں ویران ہیں لوگ بند کمرے جہاں ائرکنڈیشنڈنصب ہو سونا پسند کرتے ہیں لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو ماضی کو نہیں بھولے اور برسات کے اس موسم میں جب بارش ہو رہی ہو تو پکوان تیار کرکے اپنے بچپن کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
پہلے اگست کے وسط یا آخر تک برسات کا موسم اختتام پذیرہوجاتا تھا اوراب برسات سے قبل موسم برسات دیکھنے کو ملتا ہے پہلے اگست کے آخری ہفتہ میں رات کو چادراوڑھ کر سونا پڑتا تھا اب گرمیوں کا موسم اتنا طویل ہو چکا ہے کہ ماہ نومبراوردسمبر تک بھر پورسردی کا نام و نشان نہیں ہوتا۔
پہلے پانچ سات روز تک موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ بھی دیکھا گیا لیکن آجکل اِدھر بارش شروع ہوئی اْدھر سورج نے آنکھیں دکھانا شروع کر دیں۔ پہلے بارش کے دنوں میں بچے اور بڑے بلاخوف و خطر نہایا کرتے تھے اب بارش میں نہانا (جب سڑکوں پر پانی جمع ہو جاتا ہے )خطرے سے خالی نہیں، پہلے اتنی زیادہ ٹریفک نہ تھی اب سڑکوں پر تل دھرنے کو جگہ نہیں۔آج کل کے جدید دور میں بچوں کا نہاناکسی وقت بھی حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بارش میں نہانا بچوں کا پسندیدہ کھیل اور مشغلہ ہے ہر بچے کا جی چاہتا ہے کہ بارش میں نہائے ہم بچوں سے ان کا یہ حق نہیں چھین سکتے لیکن بچوں کوبھی اس بات کاخاص خیال رکھنا چاہیے کہ وہ ایسی جگہ نہ نہائیں جہاں ٹریفک کی آمدورفت ہو۔آپ اپنے گھر کی چھت یاقریبی گراونڈ میں بھی نہا سکتے ہیں یا پھر گلی محلے میں بارش کے پانی سے نہا کر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
بارش کے دنوں میں ننھے بچے ٹولیوں کی صورت میں نکلتے ہیں اور اس کا صحیح لطف اٹھاتے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ بچے اس جگہ نہاتے ہیں جہاں بارش کا پانی جمع ہو،کراچی کی حالیہ بارشوں کا پانی ابھی تک کھڑا ہے اور اس کی نکاسی کا کوئی مناسب بندوبست نہیں کیا گیاجس سے بیماریاں جنم لے رہی ہیں بچے آخر بچے ہیں اس کھڑے پانی میں بھی نہا رہے ہیں۔ ایسے پانی میں نہانا خطرے سے خالی نہیں،جہاں ڈوبنے اوربیمار ہونے کاخطرہ ہووہاں ہرگزہرگزنہ جائیں۔
ماہرین کے مطابق ابتدائی دس پندرہ منٹ کی بارش میں نہانے سے گلے اور جلد کی بیماریاں پھیلتی ہیں، بارش کے شروع ہونے کے پندرہ منٹ بعد نہا سکتے ہیں۔ ننھے منے دوستو! موسم برسات میں بارش کے دنوں میں ضرور نہائیں لیکن احتیاطی تدابیر آپ بچوں کی اوّلین ترجیح ہونی چاہیے۔ اس مرتبہ پنجاب کے بڑے شہروںاورشمالی علاقہ جات میں موسم گرماکی پہلی بارش ماہ جون کے وسط میں دیکھنے کو ملی حالانکہ یہ برسات کا موسم نہ تھا ماہ رمضان کا مقدس مہینہ تقریباً اچھا گزرا،کبھی بارش کبھی گرمی جبکہ یہ بھی دیکھا گیا کہ چند منٹوں یا ایک آدھ گھنٹے کی بارش سے موسم اچھا خاصا خوشگوار ہو جاتا، ہر موسم کا اپناہی مزہ ہے۔٭



