گائے کا دودھ نہ پینے والے بچوں کا قد چھوٹا
2 سال کی عمر کے بعد گائے اور بھینس کا دودھ نہ پینے والے بچوں کا قد چھوٹا رہ سکتا ہے
ایک طبی تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 2 سال کی عمر کے بعد گائے اور بھینس کا دودھ نہ پینے والے بچوں کا قد چھوٹا رہ سکتا ہے۔کینیڈا میں سینٹ مائیکل ہاسپٹل کے ڈاکٹر جوناتھن میگوئرے اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے نتیجے میں یہ حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا کہ جو بچے گائے اور بھینس کے دودھ کا متبادل دودھ پیتے ہیں، ان کا قد چھوٹا رہ جانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ماہرین نے دوران تحقیق 5 ہزار سے زائد بچوں کا جائزہ لیا اور انھیں معلوم ہوا کہ جن بچوں کو گائے کے دودھ کے بجائے دیگر اقسام کے دودھ دیئے گئے ان کی نشوونما پر فرق پڑا اور متبادل دودھ پینے سے ان کا قد اپنی عمر کے لحاظ سے دیگر بچوں کے قد سے قدرے کم دیکھا گیا۔
دوسری جانب جن بچوں نے گائے کے دودھ کے علاوہ دیگر اقسام کے دودھ استعمال کیے، ان میں پستہ قد کی شرح بھی اُسی لحاظ سے تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی عمر کے پہلے دو سال میں بچوں کے لیے ماں کا دودھ ہی بہتر ہوتا ہے اور اس دوران گائے کے دودھ سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس میں موجود پروٹین اور لحمیات اتنے چھوٹے بچے کے لیے قابلِ ہضم نہیں ہوتے۔
گائے کے دودھ میں دماغ اور ہڈیوں کے لیے ضروری اجزا مثلاً پروٹین، کیلشیئم اور دیگر ضروری چکنائیاں موجود ہوتی ہیں جو 2 سال کے بعد بچوں کے لیے انتہائی ناگزیر ہوجاتی ہیں۔ماہرین کے مطابق گائے کے دودھ کے ایک کپ میں 16 گرام پروٹین ہوتا ہے جو 3 سالہ بچے کی ضروریات پورا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔



