بون گلو: چین نے تیار کیا ایسا طبی گوند جو 3 منٹ میں ہڈیوں کے فریکچر جوڑ دے گا
چین کی نئی ایجاد: “Bone-02” — تین منٹ میں فریکچر کا مؤثر علاج
زیجیانگ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)چین کے صوبہ زیجیانگ میں سائنسدانوں نے ایک حیرت انگیز طبی ایجاد متعارف کرائی ہے جسے "بون 02” یا "بون گلو” کہا جا رہا ہے۔ یہ نیا گلو صرف تین منٹ میں فریکچر اور ہڈی کے ٹکڑوں کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے سرجری اور دھاتی امپلانٹس کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ اس ایجاد کو عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔
سر رن رن شا اسپتال کے ایسوسی ایٹ چیف آرتھوپیڈک سرجن، ڈاکٹر لن ژیان فینگ کے مطابق انہیں یہ خیال قدرتی طور پر سمندری سیپیوں کو دیکھ کر آیا، جو پانی کے اندر پل کے ستونوں سے مضبوطی کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں۔ یہی طریقہ انہوں نے ہڈیوں کو جوڑنے کے لیے استعمال کیا۔
ڈاکٹر لن نے بتایا کہ یہ بون گلو خون سے بھرے ماحول میں بھی محض دو سے تین منٹ میں ہڈی کو جوڑ دیتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ جسم میں قدرتی طور پر جذب ہو جاتا ہے، جس کے باعث دوبارہ سرجری کر کے اسٹیل پلیٹس یا پیچ نکالنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
چینی میڈیا کے مطابق اس گلو کو اب تک 150 سے زائد مریضوں پر کامیابی کے ساتھ آزمایا جا چکا ہے۔ لیبارٹری رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہ گلو 400 پاؤنڈ تک دباؤ برداشت کر سکتا ہے، جس کی کمپریسیو طاقت تقریباً 10 MPa اور شیئر اسٹرینتھ 0.5 MPa ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی طریقہ علاج میں بڑے چیرا لگا کر دھات کے امپلانٹس لگانے پڑتے ہیں، جو نہ صرف وقت طلب ہوتے ہیں بلکہ انفیکشن اور الرجی کے خدشات بھی بڑھا دیتے ہیں۔ اس کے برعکس "بون گلو” کے ذریعے ہڈی کو جوڑنے کا عمل صرف 180 سیکنڈ میں مکمل ہو جاتا ہے، جو علاج کو تیز، محفوظ اور مؤثر بناتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق 1940 کی دہائی میں بھی بون ایڈہیسو متعارف کرائے گئے تھے لیکن وہ حیاتیاتی مطابقت کے مسائل کی وجہ سے ناکام رہے۔ تاہم چینی سائنسدانوں کی یہ نئی ایجاد مستقبل میں دھات کے امپلانٹس کا بہترین اور محفوظ متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔



