چین کی ڈیجیٹل مافیا کے خلاف تاریخ کی سخت ترین کارروائی: بدنام زمانہ مِنگ فیملی کے 11 افراد کو پھانسی
چین کی جانب سے آن لائن ٹھگی کے خلاف کارروائی، مِنگ فیملی کے اراکین کو سزائے موت
بیجنگ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)چین نے آن لائن ٹھگی، غیر قانونی جوئے اور ڈیجیٹل فراڈ کے خلاف اپنی تاریخ کی سب سے سخت کارروائی کرتے ہوئے میانمار کی سرحد سے متصل علاقوں میں سرگرم بدنام زمانہ مِنگ فیملی کے 11 اراکین کو پھانسی دے دی ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ان افراد کو قتل، غیر قانونی حراست، بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی اور جوئے کے اڈے چلانے جیسے سنگین جرائم میں قصوروار قرار دیا گیا تھا۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام محض ایک عدالتی سزا نہیں بلکہ ان تمام گھوٹالہ سنٹرس کے لیے کھلی وارننگ ہے، جو جنوب مشرقی ایشیا میں بیٹھ کر چینی شہریوں اور دیگر ممالک کے لوگوں کو آن لائن فراڈ کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مِنگ فیملی میانمار کی شمالی شان ریاست کے شہر لوکائنگ میں سرگرم سب سے طاقتور مافیا گروہوں میں شمار ہوتی تھی۔ کبھی انتہائی غریب رہنے والا یہ علاقہ وقت کے ساتھ کسینو، ریڈ لائٹ ایریاز اور آن لائن گھوٹالہ فیکٹریوں کا گڑھ بن گیا، جہاں مِنگ فیملی جیسے منظم گروہوں کی مکمل اجارہ داری قائم تھی۔
مِنگ فیملی کا سربراہ مِنگ شویچانگ تھا، جسے بدنام زمانہ کراؤچنگ ٹائیگر وِلا نامی گھوٹالہ سنٹر کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا تھا۔ ابتدا میں فیملی نے جوئے اور قحبہ گری سے دولت کمائی، تاہم بعد میں آن لائن ٹھگی کو اپنا مرکزی کاروبار بنا لیا، جس کے ذریعے ہزاروں افراد کو نشانہ بنایا گیا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق مِنگ فیملی نے 2015 سے 2023 کے دوران تقریباً 10 ارب یوان کی غیر قانونی کمائی کی۔ ان سرگرمیوں کے نتیجے میں کم از کم 14 چینی شہری ہلاک ہوئے جبکہ درجنوں افراد کو شدید جسمانی اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
2023 میں میانمار کی فوج اور نسلی انقلابی گروہوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران ایک نسلی ملیشیا اتحاد نے لوکائنگ پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد مِنگ فیملی کا نیٹ ورک ٹوٹنا شروع ہوا اور کئی اہم ارکان گرفتار کر لیے گئے۔ فیملی کا سربراہ مِنگ شویچانگ گرفتاری سے بچنے کے لیے خودکشی کر چکا تھا۔
ستمبر میں عدالت نے مِنگ فیملی کے 11 اراکین کو سزائے موت سنائی، جس پر اب عمل درآمد کر دیا گیا ہے، جبکہ خاندان کے 20 سے زائد افراد کو پانچ سال سے لے کر عمر قید تک کی سزائیں دی گئی ہیں۔
چینی حکام کے مطابق یہ کارروائی کسی ایک خاندان تک محدود نہیں۔ اس سے قبل نومبر میں بائی فیملی کے پانچ افراد کو بھی سزائے موت سنائی جا چکی ہے، جبکہ ویئی اور لیو فیملی سے متعلق مقدمات کے فیصلے ابھی زیر التوا ہیں۔ ماہرین کے مطابق چین آنے والے وقت میں آن لائن ٹھگی کے عالمی نیٹ ورکس کے خلاف مزید سخت اقدامات کر سکتا ہے۔



