قومی خبریں

توانگ تصادُم پر اویسی نے حکومت کو گھیرا 56 انچ کا سینہ کہاں ہے؟ حکومت چین کے معاملہ پردروغ گوئی کر رہی ہے

چین ہماری زمین پر قبضہ کئے ہوا ہے، ایسے وقت ہمارے ملک کے پی ایم مودی کے 56 انچ کے سینے کو کیا ہو گیا ہے؟

نئی دہلی ، 19 دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر میں انڈیا اور چین کے فوجیوں کے درمیان تصادم کے واقعے پر اپوزیشن جماعتیں حکومت کو گھیرنے میں مصروف ہیں۔ اس معاملہ پر کافی سیاست ہو رہی ہے۔ ادھر اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ کیا ہے۔ اویسی نے الزام لگایا کہ گلوان کے وقت بھی ملک کے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ نہ کوئی داخل ہوا ہے اور نہ کوئی داخل ہوگا۔ انہوں نے اپنے بیانات سے ملک کو گمراہ کیا۔

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے الزام لگایا کہ یہ واقعہ 9 دسمبر کو ہوا ہے اور حکومت 12 دسمبر کو پارلیمنٹ میں بیان دیتی ہے۔اویسی نے دعویٰ کیا کہ چین لائن آف کنٹرول (ایل اے سی) پر ایک گاؤں بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی فوج ڈیپ سانگ میں بیٹھی ہے۔ یہ سیٹ لائٹ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے۔

پی ایم مودی پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج مضبوط ہے، لیکن حکومت کمزور ہے۔ حکومت چین کے معاملہ پر سب کچھ چھپا رہی ہے۔اسد الدین اویسی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چینی حکومت نے بفر زون بنا دیا ہے جس کی وجہ سے ہماری فوج گشت نہیں کر پا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے حوالے سے آل پارٹی اجلاس ہونا چاہیے۔ چین ہم سے زمین چھین رہا ہے۔ مودی حکومت چین کے بارے میں جھوٹ بول رہی ہے۔ حکومت چین پر پارلیمنٹ میں بحث کرائے۔ اویسی نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت پارلیمنٹ میں بحث سے بھاگ رہی ہے۔چین ہماری زمین پر قبضہ کئے ہوا ہے، ایسے وقت ہمارے ملک کے پی ایم مودی کے 56 انچ کے سینے کو کیا ہو گیا ہے؟

حکومت چین کے معاملہ کو سنجیدگی سے لے۔ حکومت اپنی قوت ارادی کا مظاہرہ کرے۔اس سے پہلے بھی اسد الدین اویسی نے حکومت سے سخت لہجے میں سوال کیا تھا کہ جب چین ہماری سرحد میں داخل نہیں ہوا تو پھر 14-15 دور کی بات چیت کیوں ہوئی۔ توانگ تنازعہ پر انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ آج ہندوستان کو سب سے بڑا خطرہ صرف چین سے ہے۔

توانگ تصادم :بحث کے مطالبہ کو لے کر حزب اختلاف کا راجیہ سبھا سے واک آؤٹ

اروناچل پردیش کے توانگ میں چین اور ہندوستان کے فوجیوں کے درمیان جھڑپ کا معاملہ کافی گرم ہو گیا ہے۔ اپوزیشن ایوان میں اس پر بحث کرانے کے مطالبے پر بضد ہے۔ اس معاملہ پر اپوزیشن نے پیر (19 دسمبر) کو راجیہ سبھا سے واک آؤٹ کر دیا ہے۔مرکزی وزیر پیوش گوئل نے اپوزیشن کے موقف پر شدید ردعمل دیا ہے۔ راجیہ سبھا میں قائد ایوان پیوش گوئل نے کہاکہ کانگریس پارٹی اس مسئلہ پر معمولی سیاست کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ کے قواعد کو نظر انداز کر رہی ہے ۔ جب یو پی اے کی حکومت تھی، اس طرح کے حساس مسائل پر بات نہیں کی گئی۔ ایک طرف فوج سرحد پر مضبوطی سے کھڑی ہے تو دوسری طرف راہل گاندھی اس طرح کے بیانات دے کر فوج کا مورال توڑ رہے ہیں۔پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ چین ہماری زمین پر قبضہ کر رہا ہے، اس مسئلے پر بحث نہیں کریں گے تو اور کس بات پر بات کریں گے۔

ہم ایوان میں اس معاملے پر بحث کے لیے تیار ہیں۔ہند-چین سرحدی تنازعہ پر بحث کے لئے ان کے نوٹس کو مسترد کرنے کی وجہ سے مشترکہ اپوزیشن نے راجیہ سبھا سے واک آؤٹ کیا۔کانگریس لیڈر پرمود تیواری نے پیر (19 دسمبر) کو راجیہ سبھا میں چین کی سرحد پر مبینہ تعمیرات کا مسئلہ اٹھایا۔ واضح ہو کہ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے چین کے ساتھ سرحدی معاملے پر بحث کرنے کے لیے راجیہ سبھا میں رول 267 کے تحت کاروبار معطل کرنے کا نوٹس دیا تھا۔کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ چین جنگ کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ بھارتی حکومت سوئی ہوئی ہے اور خطرے کو نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ چین نے 2000 مربع کلومیٹر ہندوستانی علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button