خطاطی کے ہنر سے چینی نوجوان نے والدین کا 23 کروڑ روپے کا قرض اتار دیا
چن زا نے پانچ سال کی عمر میں خطاطی سیکھنا شروع کی
بیجنگ (۸ اپریل: اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) — چین سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ نوجوان چِن زا نے خطاطی کے فن کو ذریعہ معاش بنا کر اپنے والدین کا 2 ملین یوآن (تقریباً 23 کروڑ روپے) سے زائد کا قرضہ اتار دیا۔ چِن زا ووہان شہر میں واقع ایک خطاطی اسٹوڈیو کے مالک ہیں، جنہوں نے محض پانچ سال کی عمر میں اس روایتی فن کی تربیت لینا شروع کی۔
چِن زا کے والدین ہمیشہ اسے یہی سمجھاتے تھے کہ خطاطی جیسے فن سے خاطر خواہ آمدنی ممکن نہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ بیٹا کوئی کاروباری شعبہ اختیار کرے۔ تاہم چِن زا نے اپنے خواب کا تعاقب جاری رکھا اور فائن آرٹس کے ایک انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لے کر خطاطی کو بطور بنیادی مضمون منتخب کیا۔
سن 2016 میں گریجویشن مکمل کرنے کے بعد چِن زا نے اپنے والدین کے لباس تیار کرنے کے کارخانے کا حصہ بننے کے بجائے خطاطی کا ایک اسٹوڈیو قائم کیا۔ اگلے ہی سال 2017 میں وہ ایک دوست کی دعوت پر فرانس گیا جہاں چینی خطاطی کے ایک انسٹیٹیوٹ میں کام کیا، لیکن بدانتظامی کے باعث جلد ہی چین واپس آ گیا۔
اس دوران اس کے خاندان کا کارخانہ بند ہو چکا تھا اور والدین پر بھاری قرض چڑھ چکا تھا۔ والد کی طبیعت بھی شدید خراب ہو گئی تھی۔ ایسے وقت میں چِن زا نے اپنے خطاطی کے شوق کو ایک مکمل پیشہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنے اسٹوڈیو کی وسعت میں اضافہ کیا، ٹیوشن فیس بڑھائی اور اپنی محنت سے محض چند ہی برسوں میں 300 سے زائد طلبہ کو اپنی جانب راغب کر لیا۔
چِن زا روزانہ صبح 8 بجے سے رات 9 بجے تک بچوں کو خطاطی سکھاتا اور ساتھ ہی آن لائن خطاطی سے متعلق مصنوعات بھی فروخت کرتا رہا۔ مسلسل محنت اور استقامت کے بعد ستمبر 2024 میں وہ اپنے والدین کا پورا قرضہ ادا کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
چِن زا کا کہنا ہے، "مجھے سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوئی جب میرے والدین نے تسلیم کیا کہ خطاطی بھی ایک منافع بخش فن ہوسکتا ہے اور آج وہ خود میرے کام میں میرا ساتھ دے رہے ہیں۔ اب مجھے پہلے جیسی سخت محنت کی ضرورت نہیں رہی۔”



