بیجنگ،20دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)چین کی ٹینس کھلاڑی پینگ شوائی نے غیر ملکی پریس کے لیے ایک ویڈیو میں کہا، ’’میں نے کبھی یہ نہیں کہا یا لکھا کہ کسی نے مجھ پر جنسی حملہ کیا تھا۔اس سے قبل انہوں نے ایک اعلیٰ چینی اہلکار پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔
چین کی اسٹار ٹینس کھلاڑی پینگ شوائی نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی کسی پر جنسی زیادتی کا الزام نہیں لگایا تھا اور یہ کہ انہوں نے نومبر میں سوشل میڈیا پر جو پوسٹ لکھی تھی، اسے غلط طریقے سے سمجھا گیا ہے۔سنگاپور کے ایک میڈیا ادارے لیانہے زاؤباؤ کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کلپ میں وہ کہتی ہیں،سب سے پہلے مجھے ایک نکتے پر زور دینے کی ضرورت ہے جو انتہائی اہم ہے، میں نے کبھی یہ نہیں کہا یا لکھا کہ کسی نے مجھ پر جنسی حملہ کیا، مجھے اس ایک نکتے پر واضح طور پر زور دینا ہے۔
پینگ شوائی Peng Shuai نے وضاحت کیے بغیر چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر اپنی اصل پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ جہاں تک ویبو کا سوال ہے تویہ میری ذاتی پرائیویسی کے بارے میں ہے،بہت ساری غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں،اس کی کوئی مسخ شدہ تشریح نہیں ہونی چاہیے۔
خواتین سے متعلق بین الاقوامی ٹینس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) نے ان کے اس بیان کے بعد 20 دسمبر پیر کے روز کہا ہے کہ جس انداز میں بظاہر ان کا بیان آیا ہے اس سے، سنسرشپ یا جبر کے بغیر بات چیت کرنے کی ان کی صلاحیت اور ان کی خیریت کے بارے میں ڈبلیو ٹی اے کے جو اہم خدشات تھے وہ کم یا دور نہیں ہوئے ہیں۔
تین بار کی اولمپین اور ڈبلز کی سابق عالمی نمبر ایک کھلاڑی پینگ شوائی دو نومبر کو سوشل میڈیا پر ایک پیغام پوسٹ کرنے کے بعد اچانک لا پتہ ہو گئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے چین کے سابق نائب وزیر اعظم ژانگ گاؤلی پر اپنے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔
چین میں انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے نے ان کی اس پوسٹ کو چند منٹوں میں ہی ہٹا دیا تھا۔اس کے بعد وومنز ٹینس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) نے چین میں ہونے والے ٹورنامنٹس میں کھلاڑیوں کی حفاظت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک اہم فیصلے میں چین میں ہونے والے خواتین کے اپنے تمام ٹورنامنٹس کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔لیکن پینگ نے اتوار کے روز کہا کہ وہ بغیر کسی نگرانی کے بیجنگ میں اپنے گھر میں رہ رہی ہیں۔



