صحت اور سائنس کی دنیا

چپس، کوکیز اور کولڈ ڈرنکس کی لت شراب کی لت جیسی خطرناک ہے: نئی تحقیق

چپس، کوکیز اور کولڈ ڈرنکس — ذائقے میں نشہ چھپا ہوا؟

ایک تازہ سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ہمارے روزمرہ پسندیدہ اسنیکس جیسے چپس، کوکیز اور کولڈ ڈرنکس دراصل الٹرا پراسیسڈ فوڈز کہلاتے ہیں، اور یہ ہماری دماغی صحت پر نشے جیسا اثر ڈال سکتے ہیں۔تحقیق کے مطابق یہ اشیاء اتنی لت پیدا کرنے والی ہیں کہ ان کا اثر شراب یا منشیات جیسا ہوتا ہے۔

یہ تحقیق نیچر میڈیسن (Nature Medicine) نامی معروف سائنسی جریدے میں شائع ہوئی، جس میں 36 ممالک کی تقریباً 300 سائنسی ریسرچز کا تجزیہ شامل ہے۔

تحقیق کے مطابق ان فوڈ آئٹمز میں چینی، چکنائی اور مصنوعی ذائقے اس مقدار میں شامل کیے جاتے ہیں کہ یہ دماغ کے ان حصوں کو متحرک کرتے ہیں جو "خوشی” محسوس کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
اسی وجہ سے انسان کا دل بار بار انہیں کھانے کو چاہتا ہے، چاہے صحت کو نقصان ہی کیوں نہ ہو۔

ماہرین کی رائے: “یہ بھی ایک نشہ ہے”

تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر ایشلے گیئر ہارٹ کے مطابق،”کوئی شخص سیب، دال یا چاول کا عادی نہیں ہوتا، لیکن پراسیسڈ فوڈز خاص طور پر اس طرح بنائے جاتے ہیں کہ دماغ کو نشے کی طرح متاثر کریں۔”

نیوروامیجنگ (Brain Scanning) سے پتا چلا کہ جو لوگ یہ کھانے زیادہ مقدار میں استعمال کرتے ہیں، ان کے دماغ میں وہی تبدیلیاں دیکھی گئیں جو شراب یا کوکین کے عادی افراد میں پائی جاتی ہیں۔

مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کچھ وہی دوائیں جو شراب یا منشیات کی لت کو کم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، وہی پراسیسڈ فوڈ کی خواہش کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

بچوں اور نوجوانوں کے لیے خطرہ

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر الٹرا پراسیسڈ فوڈز کی لت کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا، تو خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں میں موٹاپا، ذیابیطس، اور دماغی کمزوری جیسے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
اسی لیے تحقیق میں تجویز دی گئی کہ حکومتیں اور صحت کے ادارے:

بچوں کے لیے ایڈورٹائزنگ پر پابندی لگائیں

وارننگ لیبلز متعارف کرائیں

اور عوام میں آگاہی مہمات چلائیں

یہ لت کیوں خطرناک ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ پراسیسڈ فوڈز میں شامل اجزاء دماغی نظام کو اس طرح دھوکہ دیتے ہیں کہ انسان عارضی تسکین محسوس کرتا ہے۔
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جسم کو اس تسکین کے لیے زیادہ مقدار درکار ہوتی ہے، بالکل شراب یا منشیات کی طرح۔یہی وجہ ہے کہ ان اشیاء کو نظر انداز کرنا یا ترک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر گیئر ہارٹ نے آخر میں کہا،“ہم یہ نہیں کہتے کہ ہر کھانا لت پیدا کرتا ہے، لیکن بہت سی الٹرا پراسیسڈ فوڈز ایسی بنائی جاتی ہیں کہ لوگ ان کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم نے اسے سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔”

🌍 تازہ ترین خبریں، اپڈیٹس اور دلچسپ معلومات حاصل کریں!
🔗 اردو دنیا نیوز واٹس ایپ گروپ: https://whatsapp.com/channel/0029Vak6CXMBqbrGx1IZGA16

متعلقہ خبریں

Back to top button