نکاح کیلئے ایسے ساتھی کا انتخاب کریں جو دیندار ہو
حافظ محمد الیاس چمٹ پاڑہ مرول ناکہ ممبئ
اسلام میں نکاح کا مطلب دو افرد کی جذباتی جسمانی وابستگی نہیں بلکہ انتہائی بلند اور بہترین مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہے ان میں سے ایک اہم مقصد باہم مل کر خاندان کی شکل میں محبت الفت اور امن و سکون سے لبریز ایسے ماحول کی تشکیل ہے جہاں زوجین ضبط و برداشت قربانی عزت واحترام اور اشتراک عمل سے ایک دوسرے کے تحفظ اور فوقیت کا باعث ہوں اور جو آنے والی نسل کی پیدائش، پرورش اور تعلیم و تربیت کے لئے انتہائی سازگار ہومیاں، بیوی، خاندان کے حصار میں رہتے ہوئے تمام تر خلوص اور وفاداری کے ساتھ ایک دوسرے کی ذات، مفادات حقوق ، اخلاق اور عزت و ناموس کی حفاظت کریں گے۔وہ اپنی ذاتی غرض کو پورا کرنے کے لئے اور اپنے وقتی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ وقت تو گزاریں لیکن ان ذمہ داریوں سے پیچھا چھڑائیں جو اس تعلق کے نتیجے میں دونوں پر عائد ہوتی ہیں،تو یہ مقام آدمیت سے گری حرکت ہوگی۔نکاح تفریحی پروگرام نہیں بلکہ انتہائی سنجیدہ معاہدہ ہے جسے تقوی اور اللہ کے خوف کے بغیر نبھانا ممکن نہیں۔اسی لئے خطبہ نکاح میں پڑھی جانے والی تین آیات میں چار دفعہ ” اتقو اللہ یعنی اللہ سے ڈرنے کی تاکید کی گئی ہے نکاح ایسا بندھن ہے جس کے فوائد وثمرات دو افراد تک محدود نہیں رہتے۔
بلاشبہ یہ ان کے لئے ایک خوشگوار تجربہ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک ایسے بے مثال ادارے کی بنیاد ڈالتے ہیں جو محبتوں ، چاہتوں ، امیدوں ، توقعات ایثار قربانی ، اتحاد و اتفاق تعاون و اشتراک اور اقدار و روایات کا تانا بانا ہے۔جہاں ایک طرف نوخیز نسل کی بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کا سامان ہےاور دوسری طرف اس کو معاشرے کے ذمہ دار اور کار آمد شہری بنانے کی تربیت کا بہترین انتظام پوری زندگی پر محیط یہ معاہدہ ایک مرد اور عورت کو معاشرے کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے نکاح کا لازمی اور فطری نتیجہ ایک نئے خاندان کی تاسیس ہے۔ نکاح وہی معتبر ہے جس میں انقطاع اور اختتام نہ ہو،زبان سے بھی اس کا اظہار نہ ہو اور دل میں بھی اس کی نیت نہ ہو۔ خطبہ نکاح میں پڑھی جانے والی آیت میں قولا سدیدا سے یہی مراد ہے۔اگر مرد و عورت میاں ، بیوی بن کر خاندان کی شکل میں رہنے کے لئے تیار نہ ہوتا تو انسانی معاشرہ جنگل کا منظر پیش کرتا۔
جہاں حیوانی ضرورتیں تو پوری ہوجاتیں لیکن محبت و ہمدردی، ایثار وقربانی اور تعاون واشتراک جو تہذیب و تمدن کا لازمی جزو ہیں موجود نہ ہوتیں۔ اسلامی معاشرے میں نکاح دور رس نتائج کا حامل ہے اور معاشرے کی تعمیر میں پہلی اینٹ ہے۔ایک صالح معاشرے کے قیام کا خواب اس وقت تک پورا نہیں ہوسکتا جب تک اس کی بنیادی اکائی یعنی خاندان مضبوط نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں عائلی زندگی سے متعلق احکامات جس قدر تفصیل سے دیئے ہیں کسی اور شعبہ زندگی کے لئے نہیں دیئے نکاح چونکہ خاندان کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔اس لئے تاکید کی گئی کہ نکاح کے لئے ایسے ساتھی کا انتخاب کیا جائے جو نکاح کو زیادہ سے زیادہ بامقصد بنائےکیونکہ ایک مذہبی فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ چونکہ نکاح کے ذریعے سماج میں ایک نئے خاندان کا اضافہ بھی ہورہا ہے اس لئے اس کا انعقاد باقاعدہ اعلان کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کے ذریعے کیا جاتا ہے تاکہ سوسائٹی پر عیاں ہو جائے کہ فلاں مرد اور عورت ایک دوسرے کے ہوچکے ہیں۔
ایک گھر بسانے ، بحیثیت میاں بیوی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے اور ان کو احسن طریقے سے ادا کرنے کے لئےتیار ہیں۔عورت کو معاشرے کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔نکاح کے ذریعہ میاں بیوی کے درمیان کشش، جاذبیت اور محبت و مؤدت کی بنیاد پڑتی ہے اور انہیں ایک دوسرے کا جیون ساتھی بن کر رہنے پر مجبور کرتی ہے۔اس محبت اور اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والی خاندانی زندگی کو اللہ تعالی نے اپنی معرفت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا ہےنکاح کیلئے ایسے ساتھی کا انتخاب کیا جائے جو نکاح کو زیادہ سے زیادہ بامقصد اور نتیجہ خیز بنائےاور ایک مضبوط خاندان کی تعمیر عمل میں لائے اس لحاظ سے زوج کا انتخاب پہلی اینٹ ہےاگر یہی ٹھیک نہ رکھی گئی تو اس پر کھڑی ہونے والی عمارت ( خاندان ) مضبوط نہیں ہوسکتی۔لہذا ضرورت ہے کہ میاں بیوی اس معاہدہ کو نبھانے کی بھر پور کوشش کریں۔ چھوٹےچھوٹے بہانوں سے خاندانی نظام کو برباد نہ کریں۔ نکاح کے مضبوط بندھن کو نہ توڑیں۔پیار و محبت کے ساتھ زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔اللہ سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین



