اسپورٹس

انگلینڈ کے آل راؤنڈر کرس ووکس نے بین الاقوامی کرکٹ کو کہا الوداع

کرس ووکس نے اپنے 14 سالہ بین الاقوامی کیریئر میں کئی تاریخی مواقع پر ٹیم کو فتح دلائی

لندن :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے تجربہ کار آل راؤنڈر کرس ووکس نے بالآخر 36 سال کی عمر میں بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ 14 برس پر محیط کیریئر کے بعد انہوں نے تمام فارمیٹس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا، جس سے ان کے مداحوں اور ساتھی کھلاڑیوں میں ایک دور کی یادیں تازہ ہو گئیں۔

کرس ووکس نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’وہ لمحہ آ گیا ہے جب مجھے بین الاقوامی کرکٹ کو چھوڑنا ہے۔ انگلینڈ کے لیے کھیلنا میرا بچپن کا خواب تھا، جو میں نے گھر کے باغیچے میں گیند اور بلے کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تھا۔ خوش قسمتی سے مجھے وہ خواب حقیقت میں جینے کا موقع ملا۔‘‘

کرس ووکس نے 2013 میں انگلینڈ کے لیے پہلا انٹرنیشنل میچ کھیلا۔ اپنے 62 ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے 192 وکٹیں حاصل کیں اور ساتھ ہی 2034 رنز اسکور کیے، جن میں ایک شاندار سنچری اور 7 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ 2018 میں لارڈس کے میدان پر بھارت کے خلاف بنائی گئی ان کی سنچری کو ان کے کیریئر کا یادگار لمحہ قرار دیا جاتا ہے۔

ون ڈے کرکٹ میں بھی ووکس کا سفر شاندار رہا۔ 132 میچوں میں انہوں نے 173 وکٹیں حاصل کیں اور 1524 رنز بنائے جن میں 6 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ٹی20 کرکٹ میں انہوں نے 33 میچ کھیلے، 31 وکٹیں اپنے نام کیں اور بیٹنگ میں 146 رنز جوڑے۔ ان کارکردگیوں نے انہیں انگلینڈ کے لیے ایک قابل اعتماد آل راؤنڈر کے طور پر منوایا۔

واضح رہے کہ کرس ووکس نے اپنی آخری ٹیسٹ سیریز بھارت کے خلاف کھیلی تھی۔ تاہم نومبر میں شروع ہونے والی 2025-26 کی ایشیز سیریز کے لیے جب انگلینڈ اسکواڈ کا اعلان کیا گیا تو ان کا نام شامل نہیں تھا۔ ٹیم سے باہر کیے جانے کے صرف چھ دن بعد انہوں نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا، جسے کرکٹ ماہرین ٹیم میں جگہ نہ ملنے کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔

کرس ووکس نے اپنے 14 سالہ بین الاقوامی کیریئر میں کئی تاریخی مواقع پر ٹیم کو فتح دلائی۔ ان کی سوئنگ بولنگ، نپی تلی بیٹنگ اور میدان میں پرسکون انداز ہمیشہ انگلینڈ کی طاقت رہے۔ ان کے جانے کے بعد انگلینڈ کرکٹ ایک اہم آل راؤنڈر سے محروم ہو گیا ہے، اور وہ ہمیشہ ایسے کھلاڑی کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جس نے اپنے کھیل سے ملک کو بارہا فخر کا موقع دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button