سوویت یونین کو خفیہ معلومات فروخت کرنے والے سی آئی اے کے غدار ایجنٹ کی جیل میں موت
سی آئی اے کا ایجنٹ جو سوویت یونین کا مخبر نکلا-ایلڈرچ ایمز کی جیل میں موت
نیویارک:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی خفیہ معلومات سوویت یونین کو فروخت کرنے والا سی آئی اے کا سابق ایجنٹ ایلڈرچ ایمز 84 برس کی عمر میں میری لینڈ کی جیل میں انتقال کر گیا۔ امریکی جیل خانہ جات کے بیورو کے ترجمان کے مطابق، اس کی موت گزشتہ پیر کو ہوئی۔ ایمز نے تقریباً اکتیس برس تک سی آئی اے میں خدمات انجام دیں اور بعد ازاں جاسوسی کے سنگین الزامات کے تحت عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا۔
ایلڈرچ ایمز (aldrich-ames) نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے 1985 سے 1994 کے درمیان سوویت یونین کو امریکی انٹیلی جنس معلومات فراہم کیں اور اس کے بدلے تقریباً پچیس لاکھ ڈالر وصول کیے۔ اس نے دس روسی اہلکاروں اور ایک مشرقی یورپی اہلکار کی شناخت ظاہر کی جو امریکہ اور برطانیہ کے لیے خفیہ طور پر کام کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ اس نے سیٹلائٹ نگرانی، خفیہ رابطوں کے طریقۂ کار اور دیگر حساس معلومات بھی فراہم کیں۔
ان معلومات کے تبادلے کے نتیجے میں کئی مغربی انٹیلیجنس ایجنٹوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا، جسے سرد جنگ کے دوران امریکی خفیہ اداروں کے لیے ایک شدید دھچکا قرار دیا جاتا ہے۔ استغاثہ کے مطابق ایمز نے برسوں تک امریکہ کی اہم انٹیلیجنس سرگرمیوں کو مفلوج کیے رکھا۔
عدالت میں اپنے بیان کے دوران ایلڈرچ ایمز نے اس دھوکہ دہی پر شرمندگی اور جرم کا اعتراف کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے یہ سب اپنے مالی قرضوں کی ادائیگی کے لیے کیا، تاہم اس نے دعویٰ کیا کہ اسے یقین نہیں تھا کہ اس کے اقدامات سے امریکہ کو براہ راست نقصان پہنچے گا یا ماسکو کو فائدہ ہوگا۔
تحقیقات کے مطابق، ایمز اس وقت سی آئی اے کے لینگلے ہیڈکوارٹر میں سوویت اور مشرقی یورپ سے متعلق شعبے میں تعینات تھا جب اس نے پہلی بار سوویت خفیہ ایجنسی سے رابطہ قائم کیا۔ بعد ازاں روم میں تعیناتی اور واشنگٹن واپسی کے بعد بھی اس نے خفیہ معلومات کی فراہمی جاری رکھی، جس کے باعث امریکی ادارے طویل عرصے تک حیران رہے کہ سوویت یونین اتنی بڑی تعداد میں مغربی ایجنٹوں کو کیسے بے نقاب کر رہا ہے۔
ایلڈرچ ایمز کا انجام امریکی تاریخ کے بدترین جاسوسی اسکینڈلز میں سے ایک باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔



