سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

خون کی گردش,ٹانگوں میں چیونٹیاں رینگنا

ہم رات کو سونے لگتے ہیں ٹانگوں میں بے چینی ہونے لگتی ہے

کبھی ایسابھی ہوتاہے کہہم رات کو سونے لگتے ہیں ٹانگوں میں بے چینی ہونے لگتی ہےاور ساتھ ہی ان میں خارش بھی ہونے لگتی ہے، ٹانگوں میں درد، ٹانگوں میں چیونٹیاں رینگنے کا احساس ہونا اور ٹانگوں کے پٹھوں میں کھچاوٹ درد، ٹانگوں کو حرکت دینے سے یہ علامات وقتی طور پر دور ہوجاتی ہیں لیکن کچھ دیر بعد دوبارہ لوٹ آتی ہیں۔ اس بیماری کو بے چین ٹانگوں کی بیماری کا نام دیا جاتا ہے اور کسی بھی عمر کے لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ یہ علامات رات کو سونے کے علاوہ پرسکون ہوکر بیٹھنے پر بھی ظاہر ہوجاتی ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگرایسی علامات مستقل ظاہر ہوں تو یہ ایک تشویشناک بات ہے۔ کیونکہ یہ گردوں کے فیل ہونے، ذیابیطس اور اعصابی کمزوری کی جانب اشارہ ہے۔ علاوہ ازیں سخت مشقت، پیدل لمبا سفر کرنا، مردوں میں جلق مشت زنی کی وجہ سے۔ عورتوں میں زنانہ امراض لیکوریا وغیرہ، کمی خون جسمانی کمزوری شدید گردوں کی خرابی، ذیابیطس اور اعصابی کمزوری، خون کی شریانوں کا سکڑاو، خون کی روانی متاثر ہونے اور کمی خون سے ایسی بیماری کا شکار لوگ دل کے امراض کا جلد شکار ہو سکتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ RLS Restless Leg Syndrome کی شکار خواتین میں دل کے دورے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں ، جبکہ مردوں میں پھیپھڑوں اور مدافعتی نظام کی کمزوری واقع ہوسکتی ہے۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بیماری کی ایک وجہ آئرن کی کمی بھی ہے جبکہ دیگر وٹامن منرلز جیسے پوٹاشیم اور میگنیشیم کم ہونے سے بھی اس طرح کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

کہنہ مشق ماہرین طب کا کہنا ہے کہ جو لوگ تیزابیت کم کرنے والی ادویات کااستعمال کرتے ہیں ان کے جسم میں آئرن جذب نہیں ہوتا جس کی وجہ سے آئرن کی کمی ہونے لگتی ہے۔ ادویات استعمال کرنے کے بجائے اپنے جسم میں تیزابیت کم کرنے کے لئے چائے، کافی اور سگریٹ چھوڑ دیں۔ اس بیماری کی ایک وجہ دوران خون کی خرابی بھی ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ ایسی ہلکی پھلکی ورزشیں یا حرکات کی جائیں جن سے شریانوں میں خون کی روانی چلتی رہے۔ اگر آپ بیٹھ کر کام کرتے ہیں تو کام کے دوران تھوڑی دیر کھڑے ہوجائیں اور چلنے پھرنے کی عادت ڈالیں۔ اسی طرح ہلکی پھلکی ورزش اور سیر کی عادت اپنائیں۔

روزمرہ کی مصروف زندگی میں ہمارا جسم بہت تھک جاتا ہے اور باوجود آرام کے بھی اک بے چینی سی رہتی ہے ٹانگوں میں کھچاؤ سا بن جاتا ہے اور نیند بھی سکون سے نہیں آتی۔

جسمانی مساج

روزمرہ کی مصروف زندگی میں ہمارا جسم بہت تھک جاتا ہے اور باوجود آرام کے بھی ایک بے چینی سی رہتی ہے ٹانگوں میں کھچاؤ سا بن جاتا ہے۔ درد اور بے چینی کی وجہ سے نیند بھی سکون سے نہیں آتی۔ لوگوں کو چاہیے کہ دوا کے ساتھ اپنی ٹانگوں پر روغن زیتون مغزیات سے تیار شدہ روغن سے ٹانگوں کی مالش کریں، اس مساج کے ذریعے آپ کے بدن میں ایک نئی جان اور پھرتی آجائے گی اور خود کو چست توانا تندرست اور جوان محسوس کریں گے۔

پنڈلیوں میں درد

اکثر مرد و خواتین دن بھر کی سرگرمیوں کے بعد رات کو جب سونے لگتے ہیں یا نیند میں ہوتے ہیں تو اچانک ٹانگوں، پنڈلیوں اور رانوں میں درد اور بے چینی کی شکایت ہونے لگتی ہے۔ بعض اوقات پیروں کے نیچے چبھن اور تکلیف ہوتی ہے۔

خون کی ناقص گردش

رات کو سونے سے قبل اپنے پاؤں کے نیچے سرسوں یا زیتون کا تیل لگا کر مالش کرکے سونے سے بھی آپ کو ٹانگوں اور پنڈلیوں کے درد میں آرام مل سکتا ہے۔

ٹانگوں میں درد

حب ازراقی عنبری ایک گولی۔ حب سرنجاں 2 گولی صرف ایک خوراک روزانہ ہمراہ دودھ گرم لیں۔
ضعف قلب کی وجہ سے ہو تو اس کا علاج الگ ہوگا۔ جنرل جسمانی کمزوری اور لیکوریا کی وجہ سے ایسی صورت حال کا سامنا ہو تو اس کی طرف توجہ دیں۔ یہ مسئلہ ان خواتین میں زیادہ دیکھنے میں آتا ہے جو خون کی کمی، ہڈیوں کی کمزوری یا لیکوریا کے مرض میں مبتلا ہوں ایسی خواتین کو ریسٹ کرنے کے ساتھ مکمل علاج کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

ٹانگ میں کھچاؤ اور درد

ٹانگ کا درد بہت تکلیف دہ ہوتا ہے اور آپ کے پٹھوں میں کھچاؤ پیدا کرتا ہے، یہ کھچاؤ اکثر رات کو سوتے وقت محسوس ہوتا ہے، اس کھچاؤ سے بچانے کیلئے ٹانگ کو سیدھا رکھیں اور پٹھوں کا مساج مالش کریں، پٹھوں کو گرمائش دینے کے لئے گرم کپڑے سے لپیٹ کر رکھیں، پٹھوں کو سکون دینے کے لئے نیم گرم پانی سے نہائیں، کچھ منٹوں کے لئے پاؤں کی انگلیوں پر بھی چلنے کی کوشش کریں، ٹانگ کو سیدھا کر کے پیچھے کی جانب موڑیں، یوں پنڈلی کے پٹھوں کو بھی کھچاؤ پڑے گا، یہ عمل آپ کو درد سے نجات دے گا۔

کمر اور ٹانگوں کے درد سے نجات

پچاس گرام ہلدی اور پانچ گرام کچور ملا لیں اور صبح و شام چھوٹا چمچ چائے والا دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔

ریسٹ لیس لیگ سنڈروم

اس بیماری میں انسان بے چینی اور بے سکونی کے باعث اپنی ٹانگیں بار بار ہلانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ بسا اوقات اتنی شدت اختیار کر لیتا ہے کہ روز مرہ کے معمولات میں بھی دشواری آنے لگتی ہے۔ اس کی صحیح وجہ تو شاید ابھی بھی صیغہ راز میں ہے مگر جینیاتی عناصر، آئرن کی کمی، اعصابی کمزوری اور حمل کو اس کی وجہ اختراع میں لکھا جاتا ہے۔ تاہم یہ بیماری کسی مہلک اثرات کا باعث تو نہیں بنتی مگر بذات خود کسی وبال جان سے کم نہیں۔

علامات: اس بیماری میں انسان اپنی ٹانگوں پر مختلف اقسام کی حساسیت محسوس کرنے لگتا ہے جیسا کہ درد کا احساس، کسی چیز کے چلنے یا خارش کا احساس اور جلنے کی کیفیات قابل ذکر ہیں۔ یہ احساسات انسان کو اپنی ٹانگ ہلانے پر مجبور کر دیتے ہیں جس سے ان میں کمی آ جاتی ہے۔ یہ علامات آتی جاتی رہتی ہیں۔ عموما رات کے وقت یا آرام کر وقت انسان ان احساسات کا شکار ہو جاتا ہے جو حرکات کرنے سے کم محسوس ہونے لگتے ہیں۔ یہ بیماری عموما بچوں کو متاثر کرتی ہے اور عمر کے ساتھ ساتھ مزید سنگین ہوتی جاتی ہے۔

خدشاتی عناصر

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ اس بیماری کی ایک وجہ آئرن کی کمی بھی ہے۔ اگر کسی مریض میں ماہواری کے دوران بہت زیادہ خون آنے، گردوں کی بیماری، یا اندرونی مسائل کی وجہ سے خون کی کمی مثلا معدے میں زخم کے باعث خون کے رسنے اور نتیجتاً آئرن کی کمی کی شکایت موجود ہے تو آپ اس بیماری میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

یہ بیماری بذات خود بھی عجیب احساسات کا باعث بنتی ہے اور اس کی وجہ سے ریسٹ لیس لیگ سنڈروم کا خدشہ بھی مزید بڑھ جاتا ہے۔ یہ عام طور پر شوگر کے مریضوں میں پائی جاتی ہے لہٰذا وہ لوگ بھی ترجیحی طور پر اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ چند جینیاتی معاملات رکھنے والے افراد اور خواتین بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔

علاج: ریسٹ لیس لیگ سنڈروم کی شدت ہر انسان میں مختلف ہو سکتی ہے۔ شدید طرز میں انسان ڈپریشن اور نیند کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں انسان کی بے اختیار حرکات کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔ بروقت علاج ان خطرناک مسائل سے نجات دلا سکتا ہے۔ دیگر وجوہات کو دیکھنے کے بعد اگر کسی میں اس بیماری کی تشخیص ہوتی ہے تو اس کے لئے علاج موجود ہیں۔ لہٰذا اپنے معالج سے رابطہ کریں اور فوراً علاج کرالیں تاکہ آگے مسائل پیدا نہ ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button