قومی خبریں

’سنت اور گنہگار‘ کی مثال دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے سنایافیصلہ

4 سالہ بچی سے زیادتی کرنے والے کی سزائے موت کو 20 سال قید میں بدلا

نئی دہلی، 21 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) چار سالہ بچی کی عصمت دری اور قتل کے مجرم کی درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے دنیا کے مشہور مصنف اور مفکر آسکر وائلڈ کا حوالہ دیا۔ مجرم کو پہلے ہی سزائے موت سنائی جا چکی تھی اور اب اسے ملک کی عدالت عظمیٰ سے عمر قید میں تبدیل کردیاہے۔

2013 میں مدھیہ پردیش کی ایک چار سالہ بچی کی عصمت دری اور قتل کی سزا کو 20 سال کر دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے وائلڈ کے ایک بیان کا حوالہ دیا کہ ہر سنت کا ایک ماضی ہوتا ہے اور ہر گناہ گار کا مستقبل ہوتا ہے۔

جسٹس یو یو للت، رویندر بھٹ اور بیلا ایم ترویدی کی بنچ نے تبصرہ کیا کہ مجرم کا جرم انتہائی وحشیانہ تھا اور وہ کسی ہمدردی کا مستحق نہیں ہے لیکن اسے موت کی سزا پر عمل درآمد کے لیے نایاب ترین جرم نہیں کہا جا سکتا۔انصاف کے بنیادی اصولوں کا ذکر کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ مجرم کو اصلاح اور سماجی طور پر مفید شخص بننے کا موقع دیا جانا چاہیے۔

جرم کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے مجرم کی بقیہ عمر قید کی سزا مناسب تھی، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آسکر وائلڈ نے کیا کہا تھا’ایک سنت اور گنہگار میں فرق صرف یہ ہے کہ ہر سنت کا ایک ماضی ہوتا ہے اور ہر گنہگار کا مستقبل ہوتا ہے‘۔جسٹس ترویدی نے فیصلہ لکھاکہ بحالی انصاف کے بنیادی اصولوں میں سے ایک، جسے اس عدالت نے برسوں میں تیار کیا ہے، یہ ہے کہ مجرم کو جیل سے رہا ہونے کے بعد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور اسے سماجی طور پر موقع فراہم کیا جائے تاکہ وہ ایک مفید شخص بنے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button