تلنگانہ کی خبریں

سٹی کالج کے 100 سال مکمل ہوگئے

حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) حیدرآباد کے مشہور اور قدیم تعلیمی ادارہ، سٹی کالج کے 100 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ اس کالج کی تاریخ 1865ء کی ہے جب حیدرآباد کے حکمران آصف جاہ ششم نظام محبوب علی خان نے پہلی سٹی اسکول قائم کیا تھا۔ موسیٰ ندی کے کنارے مرعوب کن گورنمنٹ سٹی کالج کو اس کی عمارت کی تعمیر کے 100 سال مکمل ہونے کے ساتھ ایک اور سنگ میل حاصل ہوا ہے۔ کالج کی یہ تاریخی عمارت، ہائی اسکول، انٹرمیڈیٹ اور انڈر گریجویٹ طلبہ کیلئے حصول علم کا اہم ذریعہ اور سرچشمہ علم و حکمت بنی ہوئی ہے۔
موجودہ یہ تین منزلہ شاندار عمارت کو جس کی نشاندہی گریڈ۔ II ہیرٹیج اسٹرکچر کے طور پر کی گئی ہے، 16 ایکر اراضی پر چیف انجینئر نواب خان بہادر مرزا اکبر بیگ کی جانب سے ہند۔عرب طرزتعمیر کے ساتھ تعمیر کیا گیا تھا۔ موسیٰ ندی کے قریب میں واقع اس عمارت کو چونے، گچی اور پتھر سے تعمیر کیا گیا۔ سٹی کالج کی عمارت موسیٰ ندی سے قریب ہونے کی وجہ عمارت کے گراؤنڈ فلور کو پتھر سے تعمیر کیا گیا تاکہ سیلاب کی صورت میں اسے نقصان نہ ہونے پائے۔
اس عمارت میں 64 کمرے ہیں بشمول ایک گیلری، سمینار رومس اور ایک بڑی لائبریری۔ اس کالج میں اب بھی صدی قدیم فرنیچر ہے بشمول بنچس جو بے داغ حالت میں ہیں۔ تاہم سٹی کالج کی اصل عمارت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں فوری طور پر مرمتی کام انجام دینا ضروری ہے۔ کئی مقامات پر لوہے کے بیمس دکھائی دیتے ہیں جبکہ چھت اور پائپ لائنس سے پانی کا پجر بھی ہورہا ہے۔
آصف جاہ ششم نظام محبوب علی خان نے 1865 میں پہلا سٹی اسکول قائم کرکے اسے مدرسہ دارالعلوم کا نام دیا تھا۔ 1921 میں نظام ہفتم نواب میر عثمان علی خاں نے اس مدرسہ کو سٹی ہائی اسکول میں تبدیل کیا تھا اور اسے موجودہ بلڈنگ میں منتقل کیا تھا۔ اسی سال عثمانیہ یونیورسٹی کے انٹرمیڈیٹ سیکشنس کو 30 طلبہ اور ذریعہ تعلیم اردو کے ساتھ شروع کیا گیا۔ بعد میں 1929 میں اس اسکول کو کالج میں تبدیل کرنے کے بعد اس ادارہ کا نام سٹی کالج رکھا گیا اور یہ عثمانیہ یونیورسٹی کا ایک جز بن گیا۔
1956 میں عثمانیہ یونیورسٹی میں انٹرمیڈیٹ کورس کو ختم کرنے کے بعد ایک پری۔ یونیورسٹی کورس شروع کیا گیا۔ اس کالج میں پہلے سائنس کورسیس یعنی بیچلر آف سائنسس 1962 میں شروع ہوئے اور پھر اس کالج کا نام سٹی سائنسس کالج رکھا گیا۔
1965 میں اس وقت کی ریاستی حکومت نے عثمانیہ یونیورسٹی سے اس ادارہ کو اپنے انتظام میں لیا اور پھر اس کا نام گورنمنٹ سٹی سائنس کالج رکھا۔ 1967 میں بی اے اور بی کام کورسیس کے آغاز کے ساتھ یہ کالج موجودہ گورنمنٹ سٹی کالج بن گیا۔ فی الوقت 100 سالہ قدیم اس عمارت میں گورنمنٹ سٹی جونیر کالج اور گورنمنٹ سٹی کالج دونوں ہیں۔ گورنمنٹ سٹی کالج میں ڈگری اور پی جی کورسیس کی تعلیم دی جاتی ہے۔
جونیر کالج میں مختلف اسٹریمس میں 1,100 سے زائد طلبہ ہیں جبکہ شہرت یافتہ ڈگری کالج میں 55 انڈر گریجویٹ کورسیس اور پانچ پوسٹ گریجویٹ کورسیس میں 4,700 سے زائد طلبہ ہیں۔ دیگر ریاستوں کے طلبہ بھی گورنمنٹ سٹی کالج میں ڈگری آن لائن سرویسس، تلنگانہ (DOST) ویب کونسلنگ کے ذریعہ کورسیس اختیار کرتے ہیں۔ اس کالج کو 2004ء میں اٹانامس (خودمختار) موقف حاصل ہوا، جسے بعد میں 2011ء میں وسعت دی گئی۔ علم کا ایک مرکز ہونے کے علاوہ یہ کیمپس علحدہ تلنگانہ تحریک میں بھی تحریک کی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button