ایک قدم صاف ہوا اور سبز توانائی کی جانب
شیخ عائشہ امتیازعلی متعلمہ ! انجمن اسلام گرلزہائی اسکول ناگپاڑہ
ایک قدم صاف ہوا اور سبز توانائی کی جانب
زندگی کو حسین اور خوبصورت بنانے کے لیے صاف ہوا کا ہونا ضروری ہے، جو نہ صرف تازگی کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ جسمانی و ذہنی صحت کے لیے بھی بے حد مفید ہے۔ خواہ سیاحت کے لیے آپ شہروں کا دورہ کریں یا پرسکون و شفاف فضا میں سانس لیں، صاف ہوا انسانی ذہن میں نمایاں تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔
قدرتی ماحول اور اس کی اہمیت
انسان کے اردگرد موجود کائنات اور اس کی تمام چیزیں اللہ کی مخلوق ہیں۔ اللہ نے اس کائنات کو پہاڑوں، جنگلوں، دریاؤں، ندی نالوں، ہواؤں اور دیگر عناصر سے آباد کیا ہے تاکہ زمین پر ایک متوازن نظام قائم ہو۔ بادلوں میں پانی بھر کر انسان کی ضروریات پوری کی گئیں، اور زمین کو سرسبز بنانے کے لیے درخت اور پودے تخلیق کیے گئے۔
صفائی اور شجرکاری کی اسلامی تعلیمات
رسول اللہ ﷺ نے ماحول کی صفائی اور شجرکاری پر زور دیا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت سعد بن عبادہؓ کے گھر تشریف لے گئے تو وہاں کے باغات، سرسبز درخت اور خوشبودار پھول دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ سعادت کشادہ صحن میں ہے جو پودوں سے آراستہ ہو۔
آلودگی کے خطرات اور جدید دور
بدقسمتی سے آج کا انسان مشینوں کے زیادہ استعمال اور قدرتی وسائل کے بے دریغ استحصال سے اپنے ماحول کو آلودہ کر رہا ہے۔ فیکٹریوں سے خارج ہونے والا دھواں، کیمیکل اسپرے، اور بے جا درختوں کی کٹائی نے ہوا کو آلودہ کر دیا ہے، جو انسانی صحت کے لیے مہلک ثابت ہو رہی ہے۔
صاف ماحول کے لیے اقدامات
اگر ہم سنجیدگی سے غور کریں تو ہم اپنے ماحول کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ درج ذیل عملی اقدامات ضروری ہیں:
- شمسی توانائی: روشنی، کھانا پکانے، اور برقی آلات کے لیے شمسی توانائی کا استعمال بڑھایا جائے۔
- شجرکاری: زیادہ سے زیادہ درخت اور پودے لگائے جائیں تاکہ آکسیجن کی فراہمی بہتر ہو۔
- پلاسٹک کا کم استعمال: پلاسٹک کے بجائے کپڑے یا کاغذی تھیلیاں استعمال کی جائیں۔
- کیمیائی کھادوں کا کم استعمال: نامیاتی کھادوں کو فروغ دیا جائے تاکہ زمین کی زرخیزی برقرار رہے۔
- پانی کی بچت: پانی کے غیر ضروری استعمال سے گریز کیا جائے اور اسے محفوظ رکھنے کے طریقے اپنائے جائیں۔
اسلام میں صفائی اور ماحول کا تحفظ
رسول اللہ ﷺ نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ گلیوں اور محلوں کو صاف رکھا جائے اور راستے سے اذیت ناک چیزوں کو ہٹایا جائے تاکہ ماحول خوشگوار رہے۔
ماحولیاتی تحفظ – ہمارا قومی فریضہ
ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے ہمیں قومی اور معاشرتی فریضہ سمجھ کر کام کرنا ہوگا۔ حکومت، ادارے اور عوام سب کو مل کر اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے تاکہ ہم اپنی نسلوں کے لیے ایک صاف ستھرا اور صحت مند ماحول مہیا کر سکیں۔
✍️ شیخ عائشہ امتیاز علی
متعلمہ – انجمن اسلام گرلز ہائی اسکول، ناگپاڑہ



