بیجنگ ،11؍ نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)چینی صدر شی جن پنگ نے ایشیا بحرالکاہل خطے میں سرد جنگ دور کی کشیدگی واپس لوٹنے کے تئیں متنبہ کیا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار تائیوان نیز بحیرہ جنوبی چین کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان کیا۔
انہوں نے ایشیا بحرالکاہل کے تمام ملکوں سے مشترکہ چیلنجز کا مل کر مقابلہ کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ سرد جنگ کی ذہنیت میں مبتلا ہونے سے بچیں۔چینی رہنما نے ‘ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن سمٹ’ کے دوران ایک ورچوئل بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نظریاتی خطوط کھینچنے یا جیوپولیٹیکل بنیادوں پر چھوٹے دائرے بنانے کی کوششیں ناکام ثابت ہوں گی۔
ایشیا بحرالکاہل خطہ سرد جنگ دور کے تصادم اور تقسیم میں نہ تو پھنس سکتا ہے اور نہ ہی اسے اس میں پھنسنا چاہئے۔شی پنگ نے کہاکہ چین ایشیا بحرالکاہل خطے میں ایسی اقتصادی ترقی جس سے ہر ایک کو فائدہ ہو، کے لیے تعاون اور مدد کرنے کے اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔چینی رہنما نے ”ٹیکہ کاری میں خلیج” کو کم کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات اور کوویڈ انیس ویکسین کو ترقی پذیر ملکوں تک زیادہ قابل رسائی بنانے کی بھی اپیل کی۔
شی پنگ نے پائیدار ترقی کا بھی ذکر کیا۔ خیال رہے کہ چین اور امریکہ اسکاٹ لینڈ کے گلاسگو میں جاری سی او پی چھبیس ماحولیاتی سمٹ میں ایک ”پرعزم” ماحولیاتی ایکشن پلان پر متفق ہوگئے ہیں۔
تائیوان کے معاملے پر امریکہ اور چین کے درمیان خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چین تائیوان کو اپنے ملک کا ہی ایک حصہ قرار دیتا ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے اکتوبر میں کہا تھا کہ امریکا تائیوان کا دفاع کرنے کے ”عہد پر قائم” ہے کیونکہ اس جزیرے کو بیجنگ کی جانب سے بڑھتے ہوئے فوجی اور سیاسی دباو کا سامنا ہے۔
بائیڈن نے ان خیالات کا اظہار امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی طرف سے منعقدہ ایک ٹاون ہال پروگرام کے دوران کیا تھا۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا تھا،” میں چین کے ساتھ سرد جنگ نہیں چاہتا۔
امریکہ نے ستمبر میں’کواڈ‘ گروپ کی میٹنگ میں بھی اس مسئلے کو اٹھایا تھا۔ اس گروپ میں امریکہ کے علاوہ بھارت، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ حالانکہ چین میٹنگ کے ایجنڈے میں باضابط شامل نہیں تھا لیکن کواڈ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ہم قانون کی حکمرانی، سمندروں میں آمد و رفت اور خلا میں پروازکی آزادی، تنازعات کے پرامن حل، جمہوری اقدار اور ریاستوں کی علاقائی سالمیت کے حق میں متحد طور پر کھڑے ہیں۔
دریں اثنا خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود شی جن پنگ اور جو بائیڈن اگلے ہفتے ایک ورچوئل میٹنگ کرنے والے ہیں۔



