جدید تحقیق,موسم سرما میں ہارٹ اٹیک کی وجہ
سردی کے دنوں میں دل کی بیماریوں سے اموات بڑھنے کی ایک وجہ
سردی کے دنوں میں دل کی بیماریوں سے اموات بڑھنے کی ایک وجہ پہلے یہ بتائی جارہی تھی کہ ایسے موسم میں سخت محنت والے کام مثلار استوں اور سڑکوں پر جمی برف کو بیلچے کی مدد سے ہٹانے کی وجہ سے لوگ دل کے دورے کا شکار ہو جاتے ہیں تاہم سردی کے موسم میں اموات بڑھنے کی طبی وجہ ریسرچرز کے مطابق ہمارے جسم میں پائی جانے والی ایک چربی ہے جسے پہلے مفید سمجھا جاتا تھا، یہ ہماری خون کی نالیوں کو اس وقت تنگ کر دیتی ہے جب کم تر درجہ حرارت میں ہم باہر نکلتے ہیں۔ ہمارا جسم یہ بھوری چربی حرارت پیدا کرنے کیلئے استعمال کرتا ہے۔ سردی کی وجہ سے شریانوں اور وریدوں میں Atherosclerotic Plaque کی افزائش بھی بڑھ جاتی ہے۔
| اردو دنیا واٹس ایپ گروپ https://chat.whatsapp.com/C6atlwNTZ9M9y5J2MFYNGx جوائن کرنے کے لئے لنک کلک کریں |
یہ چربیلا مادہ چربی اور کولیسٹرول پر مشتمل ہوتا ہے۔ سوئیڈن اور چین کی یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے ریسرچرز کے ایک گروپ نے کچھ چوہوں پر تجربات کئے تھے جنہیں جینیاتی طور پر اس طرح تبدیل کر دیا گیا تھا کہ وہ Atherorselerosis میں مبتلا ہو سکیں یعنی ان کی شریانیں تنگ ہو جائیں۔ انہوں نے دیکھا کہ جب ان چوہوں کو سرد ماحول میں رکھا گیا تو ان کے جسم میں وہ عمل تیز ہو گیا جس کی وجہ سے اٹیک ہوتا ہے اور دماغ کی شریان پھٹ جاتی ہے۔
ریسرچرس نے بتایا کہ پہلے پہل ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ سرد ماحول میں رکھنے سے بھوری چربی چوہوں کو دبلا کرنے اور زیادہ صحت مند بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ لیکن اس کے بجائے ہم نے یہ دیکھا کہ ان کی خون کی نالیوں میں زیادہ چربی جمع ہو گئی تھی۔ یہ بڑی حیران کن بات تھی اور ہماری سوچ سے بالکل مختلف نتیجہ سامنے آیا تھا۔
اس جائزے کے مطابق سرد درجہ حرارت ان لوگوں کیلئے خطرات میں اضافہ کر دیتا ہے جن کی شریانیں پہلے سے تنگ ہوں کیونکہ سردی میں اضافے سے چربیلے مادے غیر مستحکم ہو سکتے ہیں اور خون کی نالی سے ٹوٹنے کے بعد دوران خون میں شامل ہو کر دل اور دماغ کو جانے والی خون کی نالیوں کو بند کر سکتے ہیں۔ چوہوں پر کئے جانے والے تجربات میں یہ دیکھا گیا کہ سردی سے متحرک ہونے والی بھوری چربی LDL کا اخراج ان کے خون میں شروع ہو گیا تھا جس سے خون کی نالیوں میں پہلے سے موجود چربی کی مقدار بڑھ گئی تھی۔ اگر انسانوں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے تو پھر یہ ایک انتہائی اہم دریافت ہے۔ اگر انسانوں کیلئے یہ بات سچ ہے تو پھر یہ مشورہ دانشمندانہ ہو گا کہ جو لوگ قلبی شریانی امراض میں مبتلا ہیں، وہ سرد موسم میں بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔
جب بھوری چربی کو متحرک کیا جاتا ہے تو وہ جسم کے کسی بھی دوسرے اعضا کے مقابلے میں 300 گنا زیادہ گرمی پیدا کرتی ہے۔ سفید چربی صحت مند مرد حضرات میں تقریباً 20 فیصد ہوتی ہے، کبھی ایسے موسم میں باہر نکلنے کی ضرورت ہو تو اچھی طرح گرم کپڑوں سے خود کو ڈھانپ کر باہر جائیں۔ سرد موسم میں امراض قلب سے اموات میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سردی سے خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں جس سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اور ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انجائنا یا سینے میں درد کی شکایت بھی اس وجہ سے زیادہ ہو جاتی ہے۔
طبی دنیا کا معتبر نام رحیمی شفاخانہ بنگلور،بالمشافہ ملاقات کریں یا آن لائن رابطہ کریں فون نمبر: 9343712908 |



